پہاڑوں کی انگڑائیاں (1)


قل سیروافی الارض فانظرو۔ (آپ فرما دیجیے زمین میں سفر کر کے دیکھو)، جب بھی یہ آیت میری نظر سے گزرتی، اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورتی، بکھری حکمتوں کو دیکھنے کے لیے ایسے ہی تڑپتی جیسے کسی پنجرے میں قیدی پرندہ۔ گھر کا ماحول سخت تھا۔ باہر آ نے جانے کی آ زادی کم تھی، تاہم میری قسمت میں تعلیمی سفر تو بہت رہا لیکن اس کی مسافت محدود تھی۔ اگر کبھی ٹرپ جاتا تو مجھے اجازت نہ ملتی تھی۔ والد صاحب تو شاید اجازت دے دیتے لیکن بڑی بہن ہمیشہ منفی سوچ رکھتے ہوئے روک دیتی خصوصاً شمالی علاقوں کی سیر کا کہا جاتا تو رونا پیٹنا شروع کر دیتی۔ میرے دل کی امنگ حسرت میں بدل گئی تھی۔

گرل گائیڈ کیمپنگ کے لیے اسکول کی ٹیچرز اور طالبات ہر سال ”مری“ جاتی تھیں۔ مجھے بھی کہا جاتا اور میں ہمیشہ انکار کر دیتی۔ جانتی تھی اجازت نہیں ملے گی۔ اس سال میری ایک ساتھی ٹیچر، مس نبیلہ نے مجھے بہت فورس کیا کہ آپ کو لے کر ہی جائیں گے۔ میں نے بڑے بھائی سے اجازت لے لی۔ میں نے اپنی باجی سے ڈرتے ڈرتے کہا میں نے مری جانا ہے اور کچھ نہ کہنا، بھائی نے اجازت دے دی ہے۔ میں ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔ میں کبھی ان کا کہنا نہیں ٹالتی تھی۔ خاموش رہنے والی تو نہ تھی لیکن آج نہ جانے کیسے ان کی زبان پر تالا لگ گیا تھا۔

اب میں خاموشی سے تیاری کرتی رہی۔ 7 جولائی جمعہ کے روز جانے کے لیے میں مس نبیلہ کے گھر مغرب تک پہنچ گئی۔ دل کی کیفیت عجیب سی تھی۔ دعائیں پڑھ کر خود ہی اپنا حصار باندھا۔ مغرب کی نماز مس نبیلہ کے گھر ادا کر کے رکشہ پر سامان لادا اور چھے ساتھی سوار ہو کر رائیونڈ ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔ فرید ایکسپریس پر لاہور ریلوے اسٹیشن جانا تھا۔ رکشہ والا نہیں معلوم جانتے ہوئے یا انجانے میں ہمیں اسٹیشن سے آ گے لے گیا اور وہیں اترنے کے لیے کہا۔ بڑے بڑے بیگز دیکھے تو اوسان خطا ہو گئے۔ ان کو کیسے اٹھا کر اسٹیشن تک پہنچیں گے؟ مس نبیلہ ایک بہادر اور نڈر خاتون ہیں۔ انھوں نے رکشے والے کو سختی سے کہا ہمیں اسٹیشن کے قریب اتارو۔ میرا دل ملی جلی کیفیت سے دو چار تھا۔ پہلے کبھی میں ”مری، اور اسلام آ باد“ نہیں گئی تھی۔ ایک دفعہ میری اسلام آباد میں ماسٹر ٹرینر کی ٹریننگ تھی تب بھی معذرت کر لی تھی۔ دل اللہ کے ذکر میں مصروف تھا۔ جیسے تیسے کر کے بھاری بھر کم بیگ اٹھا کر رائیونڈ اسٹیشن تک پہنچے۔ فرید ایکسپریس جو رات 8 : 15 پہ آ نا تھی اس کے منتظر تھے۔ رات کے وقت بھی ایسے لگ رہا تھا جیسے سب لوگ ہجرت کر کے لاہور جا رہے ہیں۔ فرید ایکسپریس آ چکی تھی۔ ہر شخص ایسے لپکا جیسے کوئی لنگر تقسیم ہو رہا ہو۔ سوار ہونے کی ہر شخص کو جلدی تھی۔ ٹکٹ تو ہم خرید نہ سکے۔ بہ مشکل گاڑی میں سوار ہوئے۔ جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گئے۔ مس نبیلہ اور مس PET (ان کو ہر شخص پی۔ ای۔ ٹی ہی کہتا تھا، ان کا نام پروین کوثر ہے ) سب کو جگہ بنا کر دے رہی تھیں۔ خود مس PETتو برتھ پر چڑھ کر بچوں کی طرح لمبی تان کر سو گئی۔ میں بہت تھک چکی تھی لیکن سفر میں نیند کا دور دور تک کوئی نام نہ تھی۔ ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد لاہور اسٹیشن تک پہنچ ہی گئے۔ سب نے اپنے اپنے بیگ سنبھالے اور نیچے اترے۔ اب احساس ہو رہا تھا کہ وزن اٹھانا کس قدر مشکل ہے۔ لاہور اسٹیشن جنکشن ہے ہر طرف جانے والی گاڑی یہیں سے مل جاتی ہے۔ ہم نے یہاں مسافر خانے میں عشاء کی نماز ادا کی اور ضلع قصور سے جانے والی دوسری طالبات اور ٹیچرز کا انتظار کرنے لگیں۔ گرمی اور حبس بہت زیادہ تھی۔ لاہور سے پنڈی جانے والی نائٹ ریل کار (ٹرین) پر جانا تھا۔ 11 : 30 پر مس نبیلہ کی رعب دار آ واز آئی چلو گاڑی پر سوار ہو کر اپنی اپنی نشست سنبھالیں۔ ہم راجہ جنگ سے سات افراد ایک ہی ڈبے میں سوار ہو گئے۔ گاڑی چلنے کا وقت 12 : 30 تھا۔ قصور کے تمام ساتھی گاڑی کے چھے ڈبوں میں سوار تھے، جن کی رہنمائی میڈم شکیلہ کر رہی تھی۔ عرصے سے میڈم شکیلہ قصور کی طرف سے گرل گائیڈ کیمپنگ میں بہت اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ تجربہ کار اور پر اعتماد خاتون ہیں۔ سر کے بال لڑکوں کی طرز پر کاٹے گئے تھے جن کا رنگ گولڈن براؤن تھا۔ پراعتماد انداز سے سب کی نشستوں کو مکمل کر رہی تھی۔ اسی سلسلے میں ہماری ساتھی طالبات کو دوسرے ڈبے کی برتھ پر چڑھا کر ہمارے ساتھ دوسری ٹیچرز کو بٹھا دیا۔ ان کے ساتھ ہماری بے تکلفی زیادہ نہ تھی۔ ہمیں تھوڑا uneasy محسوس ہوا۔ جیسے تیسے کر کے میڈم شکیلہ پسینے سے شرابور اپنے فرائض ادا کر کے فارغ ہوئی تھی کہ ایک نیا مسئلہ درپیش ہوا۔ دو جوان میاں بیوی ہمارے ڈبے میں آ دھمکے۔ ان کے پاس ایک دو سالہ لڑکا بھی تھا۔ ایک بھاری بھر کم بیگ جو اس جوان نے اپنے ایک کاندھے پر لٹکا رکھا تھا۔ ہمیں اپنی نشست پر دیکھ کر گویا ہوا۔ ”باجی! یہ سیٹ ہماری ہے، میں نے بک کروائی ہے۔“ اس کی بات سن کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ”خدایا! اللہ اللہ کر کے سیٹیں ملی ہیں اور کھڑکی والی سیٹ مجھے مل گئی تھی۔“ سوچ رہی تھی۔ میرے سامنے والی سیٹ پر مس نبیلہ تھی۔ جوان کی بات سن کر مس نبیلہ نے اس انداز سے اس کی طرف دیکھا، کہ جو مرضی کر لو ہم اٹھنے والے نہیں ہیں۔

”مس پی ای ٹی میڈم شکیلہ کو بلاؤ یہ مسئلہ حل کرے بڑی مشکل سے بیٹھے ہیں“ میں نے کہا۔ مس پروین ایک متحمل مزاج خاتون ہے۔ وہ اپنے فرائض سے آ گاہ تھی۔ وہ اپنے اسکول کے ہر فرد کی ذمہ دار تھی۔ اٹھی اور میڈم شکیلہ کو بلا کر لائی۔ جلد ہی وہ اس ڈبے میں آئی رعب اور دبدبہ برقرار تھا، تحمل مزاجی سے اس جوان کو جواب دیا کہ یہ ہمارے چھے ڈبے ہیں۔ ہمارے پاس ٹکٹیں ہیں۔ تم کیسے کہہ رہے ہو؟ جوان نے جواب دیا ”میرے پاس 34، 35 نمبر کا ٹکٹ ہے۔ اپ ثبوت دے دیں“

شکیلہ نے ٹکٹیں نکالیں۔ نمبر چیک کرنے میں دشواری تھی۔ ”پروین یہ پڑھنا ذرا، عینک نہیں ہے“ میڈم شکیلہ نے پروین سے کہا۔ پتہ چلا کہ 34، 35 نمبر کی ٹکٹ نہیں ہے۔ اب شکیلہ گھبرائے بغیر جوان سے مخاطب ہوئی ”بیٹا! کوئی بات نہیں ابھی مینج کرلیتے ہیں، اسٹیشن ماسٹر آ جائے ذرا“

”میڈم آپ کیسی بات کر رہی ہیں؟ میرے ساتھ میری فیملی ہے۔ ہماری اکٹھی سیٹیں ہیں اور یہ برتھ بھی ہماری ہے۔ ساری رات کا سفر ہم کیسے کریں گے؟“

”آپ ادھر بیٹھ جاؤ“ میڈم شکیلہ نے ایک الگ سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور آپ کی بیوی ادھر ہماری ٹیچرز کے ساتھ بیٹھ جائے گی“

”نہیں میڈم ہم کیوں الگ بیٹھیں؟“

میڈم شکیلہ نے کچھ خفگی کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور کہا ”کوئی بات نہیں بیٹا ایک رات الگ گزار لو، کل مل جانا“

اس بات پر سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی جیسے تھکن کے آثار کم ہو گئے ہوں۔ وہ جوان میڈم شکیلہ کی طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس کی جاگیر چھن گئی ہو۔

”کوئی بات نہیں بیٹا یہ جو بیٹھی ہیں وہ بھی آپ کی بہنیں ہیں“ میڈم شکیلہ نے اسے جذباتی غیرت دلائی۔ وہ گم سم ہو کر بیٹھ گیا۔ نہ جانے اس نے اپنی بیوی کے ساتھ سفر کرنے کے کیا کیا سہانے خواب سجائے تھے جو ہماری وجہ سے چکنا چور ہو گئے۔ 12 : 30 پر گاڑی چلی تو پنکھے بھی چل پڑے۔ ریلوے والے بھی واپڈا والوں کی طرح پنکھوں کے چلنے اور اس پر خرچ کا حساب کتاب لگا کر ہی چلاتے ہیں۔ اب ذرا سکون ہوا۔ گرمی ابھی بھی بہت تھی۔ میں نے برقعہ پہنا تھا اور نقاب بھی کر رکھا تھا۔ دم گھٹ رہا تھا لیکن میں نے نقاب کبھی نہیں اتارا راستے میں۔ پانچ گھنٹے بعد پنڈی پہنچنا تھا۔ مس پروین برتھ پر چڑھ کر جلد ہی خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئی۔ مس نبیلہ بھی اپنی نیند پوری کرنے کے چکروں میں تھی۔ کبھی گٹھڑی بن کر ٹانگیں سمیٹ کر سر اپنے زانو پر رکھ کر سونے کی کوشش کرتی، کبھی جاگ جاتی۔ بڑی بے چینی میں سفر گزر رہا تھا۔ میں بھی تھک چکی تھی۔ میرے ساتھ مس فائزہ اور دوسرے سکول کی دو ٹیچرز تھیں۔ چار افراد کسی طرح بھی سونے کی کوشش نہیں کر سکتے تھے۔ انکھوں میں نیند بھری تھی حالات سونے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ حبس اور گرمی کا راج تھا۔ ٹرین کی چلنے کے وقت کی آ واز ڈراؤنی لگ رہی تھی۔ ہمیشہ سنا تھا کہ ٹرین چھک چھک کرتی ہے۔ آج تو عجیب ہی آواز تھی۔ جب دریا یا کوئی نہر آتی تو ایسے لگتا جیسے ہم بھی ٹرین کے ساتھ پانی میں اتر رہے ہیں۔ دل ایسے دہل رہا تھا گویا کسی بلند جھولے پر بیٹھے ہوں۔ ٹرین مسلسل چل رہی تھی۔ راستے میں تین دریا، راوی، چناب اور جہلم آئے۔ ان پر سے ٹرین گزرتے وقت ایسے رعب دار آ واز پیدا کر رہی تھی جیسے بپھرا ہوا، چنگاڑتا شیر کہ ہٹ جاؤ میرے سامنے سے میں سب کی پرواہ کیے بغیر آ گے گزر جاؤں گا۔ ایسے ہی چلتے ہوئے جب پنڈی سے ابھی کچھ فاصلے پر تھے کہ کچھ ہوا میں ٹھنڈک کا احساس ہوا، ہم نے سکھ کا سانس لیا۔ اگے بڑھتے رہے کہ راستے میں پہاڑ نظر آ نا شروع ہو گئے۔ اللہ کی یہ بنائی ہوئی خوبصورتی دیکھنے کا مجھے پہلی بار موقع ملا تھا۔ اب تو اپنی آنکھیں بند کرنا بھی چاہوں تو دل کی آ نکھ بیدار تھی۔ وہ قدرت کے جلوے دیکھنے کے لیے بے تاب اور ہر نظارہ آنکھوں میں قید کرنا چاہتی تھی۔ فجر کی اذان کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی جو اس بات کی غماز تھی کہ سفر اب ختم ہونے والا ہے۔

Facebook Comments HS