لوٹ آنے کے بعد

جاڑے کی شدید دھند میں لپٹی ایک سسکیوں سے لبریز مظلوم آواز ارد گرد کی فضا کو مزید نم ناک کر رہی تھی۔ ”آج تو حد کر دی ہے اس نے۔ میں اب نہیں جاؤں گا گھر، رہے یہ اکیلی“ چاچے شیدے نے دل کو مضبوط کرتے ہوئے آنسوؤں کو حلق سے اتارتے ہوئے ارادہ کیا۔ ”اب تو اولاد بھی جوان ہو گئی ہے، لیکن اس کو شرم نہیں آتی تماشا لگاتے ہوئے، میں نے کیا کہہ دیا تھا اسے

Read more

روگ کی دھوپ(افسانہ)

بے درو دیوار کے آنگن میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دس، بارہ سال کا لڑکا اپنی ماں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ ایک برس پیشتر باپ کے سائے نے سرد گرم ہوا سے دونوں ماں بیٹے کو اپنی محبت اور شفقت کی چادر میں چھپا رکھا تھا۔ یہ بے کواڑ کمرے نے بھی انھیں ہر خوشی دے رکھی تھی۔ یہی چھوٹا سا کمرہ ان کے لیے محل تھا۔ اس کی فصیل باپ کی غیرت اور زینت ماں

Read more

چھٹکارا (افسانہ)

چلچلاتی دھوپ میں ارد گرد مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ گویا پہاڑ تھے۔ ضرورت پڑنے پر ان پہاڑوں کو کھودا جا سکتا تھا۔ سکینہ نے مٹی میں سنے ہوئے ہاتھوں سے پیشانی سے پسینہ صاف کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ مٹی کے ڈھیر کے درمیان بیٹھی سکینہ اینٹوں کا سانچہ ہاتھ میں لیے گیلی مٹی کو گوندھ کر بڑی تیزی سے اینٹیں بنا رہی تھی اور اپنی انگلیوں کی پوروں پر حساب لگا رہی تھی کہ قرض کی

Read more

اناؤں کا روگ

حد نگاہ پھیلی زرخیز زمین پر سرسوں نے اپنی زرد رنگ کی چادر بچھا دی تھی، جسے دیکھ کر بڑا چودھری سینہ پھلائے فخریہ انداز میں اپنے کامے ٫ گامے سے کہہ رہا تھا۔ ”گامے دیکھ اتنے مربعوں کا مالک ہے کوئی اس علاقے میں؟ یہ زمین شان ہوتی ہے چودھری کی۔ یہ سارا علاقہ میرے ماتحت ہے۔ کسی کی جراءت ہے میرا حکم نہ مانے؟“ ہاتھ باندھے گردن جھکائے گامے نے سر ہلایا۔ چودھری نے پورے علاقے کو اپنا

Read more

وہ جسے جانا ہی تھا (افسانہ)

ہالہ سوچ کے گہرے سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ وہ لمس بھول نہیں پا سکی تھی۔ اس لمس کی خوشبو سے سارا ارد گرد کا ماحول معطر ہو گیا تھا۔ بظاہر خاموش تھی لیکن جیسے اس کے احساسات بول رہے تھے۔ وہ لمحات کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔ کاش وہ لمحے دائمی ہوتے! ایسا لگتا تھا جیسے جنت کی حسیں وادیاں میرا مسکن ہوں۔ پہاڑوں کی سر سبز چوٹیوں نے زمرد لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ پھر وہ شفیق

Read more

زندگی کا ٹوٹا پل(افسانہ)

کڑکڑاتی دھوپ سر پر تھی۔ پسینے سے شرابور، خالی پیٹ شیزا کا چلنا دوبھر تھا۔ دو دن سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس حالت میں دو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے کالج جانا آسان نہ تھا۔ پیٹ میں بھوک کی وجہ سے انتڑیوں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی نا تجربہ کار سازندہ سر نکالنے کی ناکام کوشش میں ہو۔ بے ساختہ بولی: ”کیا کروں چلا نہیں جا رہا۔ گھر سے کھانا تو میں

Read more

پانی پر لکیر (افسانہ)

کتاب پر رملا کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ الفاظ دھندلا چکے تھے۔ آج درختوں پر کوکتی کوئل کی آ واز بھی پر سوز تھی۔ ہر طرف اداس فضا نے پر پھیلا رکھے تھے۔ رملا کا دل بھنور میں پھنسی ناؤ کی طرح ڈوب رہا تھا۔ اسے ہر طرف لالچ اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھے لوگ نظر آ رہے تھے۔ رملا کے لیے ساتواں پرپوزل آیا تھا جو کم جہیز کی نذر ہو گیا تھا۔ رملا کے غریب

Read more

ہاتھوں کا کشکول (افسانہ)

سردی کی یخ بستہ رات تھی۔ ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے۔ یہ ہوائیں بدن کے آر پار ہو رہی تھیں۔ لالی اپنی پکھی کے باہر لکڑیاں جلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کا بوڑھا باپ پکھی کے اندر انتہائی بوسیدہ بستر زمین پر بچھائے سردی سے بچنے کے لیے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ لالی کی زندگی کی کتنی ہی بہاریں ان بے در و دیوار کچی زمین پر گزر گئی تھیں۔ دل کی امنگیں کبھی

Read more

دوزخ سے نکلتی پگڈنڈی (افسانہ)

ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔ شہر کی ویران گلیوں نے رات کے اندھیرے کی چادر اوڑھ لی تھی اور جیسے سناٹا گلیوں میں رقص کر رہا تھا اور اس رقص کے ردھم پر ارمغان نشہ آور سگریٹ سے کش لگاتے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے خود کلامی میں لڑکھڑاتے قدم اٹھاتے کہتا جا رہا تھا ”کیا سرور ہے؟ اس سناٹے میں بھی جنت کا سماں ہے۔ ہر طرف سکون ہی سکون۔ کوئی دکھ نہیں۔ کوئی فکر نہیں۔ واہ کیا

Read more

دیمک (افسانہ)

گرمی کی شدت ہو تو ہر انسان ہوا کے جھونکوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ گھر کا وہ کونہ ڈھونڈتا ہے جہاں ہوا کا گزر ہو۔ زینت بھی گرمی کو کم کرنے کی ناکام کوشش میں تھی کہ وہ حویلی کے بیرونی دروازے کے اوپر بنی بالکنی پر جا بیٹھی اور اس بالکنی کی بیرونی کھڑکیاں کھول دیں۔ ہوا کا گزر ہوا تو زینت نے سکھ کا سانس لیا۔ اس حویلی میں بہت سے گھر رہتے تھے۔ ہر گھر میں

Read more

اڈیک(افسانہ)

جنگل کی خاموش فضا میں ایک عجیب سی وحشت چھائی ہوئی تھی۔ پتوں کی سرسراہٹ رگ و پے میں سرایت کر رہی تھی مگر تاج الدین کو کسی بات کی پرواہ نہ تھی۔ اسے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کچھ خوراک چاہیے تھی۔ پیٹ کی انتڑیاں مختلف آوازیں نکال رہی تھیں۔ سیدھا ہو کر چلنا مشکل تھا۔ چلتے چلتے پاؤں بھی چکنا چور ہو گئے تھے۔ آدھا ٹوٹا جوتا اس جنگل کے کانٹوں کے لیے ڈھال ثابت نہ ہوا

Read more

قومی یک جہتی کے لیے اردو ناگزیر ہے

جب تک انسان اپنی بات دوسرے تک نہ پہنچا سکے اور دوسرے کی بات سمجھ نہ سکے اس وقت تک ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہی ہم آہنگی یکجہتی اور اتحاد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ایک دوسرے کو سمجھا جا سکے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ وہ ذریعہ ایک زبان کا ہونا ہے۔ یہ زبان ہی ہے جو انسانوں کو دوسری مخلوق سے ممیز کر کے اعلیٰ مقام

Read more

گل بدن کی خوشبو (افسانہ)

چودھری دلاور اپنے باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ تمام جائیداد کا واحد مالک ہونے کے ساتھ ساتھ گاؤں والوں کے سربراہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ میلوں پھیلی زمینوں پر جب فصلیں اپنے جوبن پر ہوتیں تو دلاور کا سینہ فخر سے اور باہر نکل آ تا تھا۔ گاؤں کا اکیلا چودھری تھا۔ وہ اپنے باپ کی وفات کے بعد باپ کی ریتی، رواج کو قائم رکھے ہوئے تھا۔ غریب غربا پر شفقت برتتا تھا۔ یہ روایت کئی نسلوں سے برقرار

Read more

بابا جی کا حقہ

صبح سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ بابا جی برآمدے میں صاف ستھری چار پائی پر بیٹھے، چائے رس کا ناشتہ کر رہے تھے۔ بابا جی کی بیٹیاں اپنے بابا جی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ بابا جی کی تقریباً اسی سال کی عمر ہو گئی تھی۔ ان کا رعب دبدبہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قائم تھا۔ جو بات ان کی زبان سے نکلتی وہ حرف آخر ثابت ہوتی تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں کو عموماً ”کڑیو“ کہہ کر

Read more

نوٹس کے پھول

ایم۔ فل کی کلاس کا پہلا دن تھا۔ عروہ آج اسپیشل تیا ر ہو کر آئی تھی۔ عروہ اگر چہ حسن پری نہ تھی لیکن دیکھنے میں پر کشش تھی۔ اس کی آنکھیں شربتی، موٹی اور بہت خوبصورت تھیں۔ آج اس نے لینز بھی لگا رکھے تھے۔ چنچل سی، جذباتی لڑکی تھی۔ اپنے دل کی بات زیادہ دیر تک چھپا نہ سکتی تھی۔ سر وقار کلاس میں آئے اور انھوں نے لیکچر دیا۔ لیکچر دے کر کلاس سے باہر چلے

Read more

پہاڑوں کی انگڑائیاں (4)

بہرحال اگلا دن ہمارا یہاں آخری دن تھا۔ الوداعی تقریب تھی۔ مختلف سر گرمیاں انجام دی گئیں۔ اس تقریب میں باہر سے کچھ مہمان بھی آئے تھے۔ میڈم راحیلہ عارف قصور سے تھیں۔ وہ گرلز گائیڈ کی کمشنر کے طور پر اپنے فرائض ادا کر رہی تھیں۔ دو خواتین پنڈی سے تھیں۔ انھوں نے سفید رنگ کی ساڑھی جس پر سبز رنگ کا ربن لگا ہوا تھا۔ گویا یہ بھی گرل گائیڈ کا یونیفارم تھا۔ مہمانان گرامی کا پر زور

Read more

پہاڑوں کی انگڑائیاں (3)

مال روڈ پر ہاتھ سے کھینچنے والی گاڑی بھی دیکھی۔ کچھ لوگ روزی کی خاطر لوگوں کو اس میں بٹھا کر ہاتھ سے دھکا لگا رہے تھے۔ دو خواتین آ منے سامنے بیٹھی تھیں۔ ایک بزرگ شخص دھکیل رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ بھی ہوا اور یہ مناسب نہ لگا کہ ہم اس طرح بیٹھیں اور کوئی بزرگ اپنے ہاتھوں سے دھکیل کر سیر کرائے۔ لیکن ان لوگوں کی روزی کا ذریعہ بھی یہی تھا۔ اس علاقے

Read more

پہاڑوں کی انگڑائیاں (2)

صبح کا اجالا ٹھنڈی ہوا کے ساتھ نمودار ہو رہا تھا۔ سونے والوں کو بھی جگا دیا گیا۔ سب اب تیار ہو کر بیٹھ گئے۔ لو جی، پنڈی کا اسٹیشن آ گیا۔ سب نے اتر کر سکھ کا سانس لیا۔ ہم نے پنڈی اسٹیشن پہنچ کر جلدی جلدی فجر کی نماز ادا کی کیوں کہ میڈم شکیلہ نے سب کو کہہ دیا تھا۔ جلدی گاڑیوں پر سوار ہوں۔ تقریباً 3 گھنٹے کا مزید سفر کرنا تھا۔ دو مزدہ بالکل تیار

Read more

پہاڑوں کی انگڑائیاں (1)

قل سیروافی الارض فانظرو۔ (آپ فرما دیجیے زمین میں سفر کر کے دیکھو)، جب بھی یہ آیت میری نظر سے گزرتی، اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورتی، بکھری حکمتوں کو دیکھنے کے لیے ایسے ہی تڑپتی جیسے کسی پنجرے میں قیدی پرندہ۔ گھر کا ماحول سخت تھا۔ باہر آ نے جانے کی آ زادی کم تھی، تاہم میری قسمت میں تعلیمی سفر تو بہت رہا لیکن اس کی مسافت محدود تھی۔ اگر کبھی ٹرپ جاتا تو مجھے اجازت نہ ملتی تھی۔

Read more

محبت کی ٹوٹی سیڑھی

بلاج بچپن ہی سے لاپروا اور غیر ذمہ دار تھا۔ اسکول دیر سے جانا، پڑھائی کے معاملے میں بھی غیر سنجیدہ تھا۔ لیکن اسے دوست بنانے کا ہنر آ تا تھا۔ ہر وقت دوستوں کے حصار میں رہتا تھا۔ بلاج کی بہن نہیں تھی۔ اس لیے اسے اس رشتے کا لطیف احساس کم ہی تھا۔ گاؤں میں ایک مقبول نوجوان تھا۔ ہر چوڑا، مصلی، میراثی اس کا دوست تھا۔ اسی لا ابالی پن میں اس نے میٹرک تک کی تعلیم

Read more

غربت کی آ خری لکیر

کچی دیوار کی منڈیر پر کوئے کی کاں کاں سے اماں بسو کی آنکھ کھل گئی جو نیم کے درخت کے نیچے آدھ ٹوٹی چارپائی پر سو رہی تھی۔ برس ہا برس سے دو چارپائیوں پر ہی ماں پتر گزارہ کر رہے تھے۔ جس چا چارپائی کا وان ثابت تھا وہ اماں نے اپنے پتر انور کو دے رکھی تھی۔ خود اسی ٹوٹی چارپائی پر لیٹ جاتی تھی۔ اس نے لیٹنا بھی کون سا گھنٹوں ہوتا تھا۔ رات بھی آدھی

Read more

افسانہ: گھونگھٹ

ساون کے مہینے کی الگ ہی کیفیت ہوتی ہے۔ زمین پر ہر طرف فرش زمرد بچھ جاتا ہے۔ وہ پودے بھی جو تشنگی کے باعث خشک ہو چکے ہوتے ہیں۔ سیراب ہو کر اپنی لہلہاہٹ سے ہر انسان اور پرندے کو خوش کرتے ہیں۔ غریب سے غریب کسان بھی اپنے مویشیوں کے لیے چارہ حاصل کر لیتا ہے۔ پودوں پر رنگ برنگ پھول کھل اٹھتے ہیں۔ ان کی ٹہنیوں کو چھو کر صبا و نسیم فضا کو معطر کر دیتی ہے۔

Read more

ربا تیرے ساون میں پیاسے ہم – افسانہ

جون کا مہینا، گرمی کا ہر طرف راج تھا۔ مخلوق خدا کی ترستی ہوئی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی تھیں۔ ہر شخص اس گرمی کی شدت سے جھلس گیا تھا۔ پانی کے کنوؤں کا پانی بھی نچلی تہہ تک ہی محدود تھا۔ پانی کے لیے بوکا لٹکاتی ہوئی صبا نے اپنی امی کو آواز دی۔ ”امی اب تو لگتا ہے ختم ہو چلا ہے“ ”بیٹی پریشان نہ ہو۔ جس رب نے پیدا کیا ہے وہ کسی کو بھوکا

Read more