ماسی جی کا آنگن اور ناظرہ قران (3)
تم جس بستی سے بیاہ کر ہمارے گھر آئی تھیں۔ وہ ارض پاکستان سے بھی کوئی سو سال پہلے کے زمانے کی عکاس تھی۔ وہاں کے بزرگوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ یہاں پر لڑکیوں کا کوئی سکول نہیں بننے دیا بلکہ اس بستی کی کسی ایک لڑکی کو بھی پڑھائی لکھائی کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا تھا۔ اس بستی کی تمام لڑکیوں کے لیے تعلیم کی اعلیٰ ترین ڈگری صرف ناظرہ قرآن کی تعلیم تھی۔ جو وہ ساری بستی کی ماسی جی کے آنگن میں زمین پر بیٹھ کر حاصل کر لیا کرتیں۔ گاؤں کے بوڑھے اس بات پر بھی فخر کیا کرتے کہ گاؤں کی قریب ترین پکی سڑک کا گاؤں سے کم از کم فاصلہ 8 کلو میٹر ہے۔ وہ پکی سڑک کو بھی بستی کے لیے باعث زحمت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پکی سڑک کے ساتھ ہی دیگر بہت سی قباحتیں بھی آ جاتی ہیں۔ پولیس کو وہاں اپنی آمدورفت کے لیے آسانی ہو جاتی ہے اور دلیل کے طور پر وہ بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ ہماری اس بستی میں آج تک پولیس کے کسی ایک سپاہی نے بھی قدم رنجہ نہیں فرمایا اور پکی سڑک کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ چوروں کو وہاں آنے جانے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ وہ ڈھور ڈنگروں کو چوری کر کے پکی سڑک پر چڑھا لیتے ہیں۔ اس طرح مال مسروقہ کے کھرے غائب کر دیتے ہیں اور انہیں ڈھونڈ نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ میں نے وہاں پر کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے کھروں کی مدد سے کبھی کسی چوری شدہ ڈنگر یا اس کے چور کو تلاش کر لیا ہو۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ کھروں کے نشانات کے پیچھے وہ ہفتوں خجل خوار ہوتے رہتے اور آخر کار تھک ہار کر خود ہی بیٹھ جاتے۔
اس بستی کے مرد عورتیں اور بچے سارا سارا دن کام کاج میں مصروف رہتے۔ عورتیں گھریلو کام کاج کے علاوہ ڈھور ڈنگروں کی دیکھ بھال اور چارہ پانی کے انتظامات میں مردوں کا ہاتھ بٹایا کرتی تھیں۔ اس بستی کے زیادہ تر گھرانے میرے نانا کی آل اولاد پر مشتمل تھے۔ اس زمانے میں طلب علموں میں پوزیشنوں اور گریڈوں کے لیے ہر وقت پڑھائی پڑھائی اور پڑھائی کا عصر حاضر کی طرح رواج عام نہیں ہوا تھا۔ بس سالانہ امتحان میں جماعت کو پاس کر لینا ہی طالبعلم کا ایک بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔ پوزیشنوں کے حصول کی دوڑ نے بچوں کی زندگیوں کو اس قدر کٹھن اور دشوار نہیں بنایا تھا جس قدر اب ہے۔
علمی دانشوروں کی بہتات نہ ہونے کے سبب ہمارا بچپنا اپنی اصل صورت میں ہمارے پاس موجود تھا۔ سکول اوقات کے بعد پڑھائی لکھائی کا کام تقریباً نہ ہونے کے ہی برابر ہوتا۔ اس لیے باقی وقت کھیل کود، بھاگ دوڑ اور شور شرابے میں گزارا کرتے۔ گرمیوں کی طویل تعطیلات گزارنے کے لیے ہم اپنے ننھیال چلے جایا کرتے۔ میری ہمشیرہ بھی یہیں بیاہی ہوئی تھیں۔ گویا کہ ہم جس گھر میں قیام کرتے وہ میری ہمشیرہ کا گھر بھی تھا اور میرے ننھیال کا بھی اور یہی گھر تمھارا بھی ننھیال تھا اور تم تو مستقل طور پر اپنے ننھیال میں ہی رہا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت میرے اور تمہارے درمیان ماموں بھانجی کا احترام کا رشتہ قائم تھا۔ میری ہی طرح اسلم بھی گرمیوں کی چھٹیاں اسی گھر میں گزارنے آ جایا کرتا تھا۔ جو کہ اس گھرکا نواسہ تھا اور میرا ہم عمر بھی تھا۔ پہلے دو چار دن ہم خوشی خوشی بھینسوں کو پانی پلانے اور نہلانے کے لیے قریبی بڈھ پر لے جایا کرتے۔ وہاں پر بھینسوں کو نہلاتے اور خود نہاتے ہوئے ہم نے تیراکی بھی سیکھ لی تھی۔ اس کے علاوہ گدھی پر سواری کرنے کے شوق میں اس پر سوار ہو کر زمینوں پر چلے جاتے کیونکہ وہاں پر پہنچنے کے لیے سرکاری طور پر چھوڑی گئی سڑکیں موجود نہیں تھیں اور اس کے علاوہ چارہ لانے کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں تھا۔ وہاں اس پر چارہ لدوا کر ہم اس کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے ہوئے واپس آتے اور حویلی میں لگے ہوئے گئیر کی مشین کے قریب چارہ اتار کر وہیں پر اس کی تھان سے باندھ دیتے۔ گئیر چارہ کرنے کی ایک ایسی مشین تھی جس کو بیل کی مدد سے چلایا جاتا تھا۔ پہلے پہل چار پانچ دن تو خوشی خوشی سے ہم تفریح طبع کے لیے یہ کام کیا کرتے تھے اور اس کے بعد یہ دونوں کام ہمارے فرائض میں شامل کر دیے جاتے اور کسی قسم کی تاخیر یا کوتاہی پر باقاعدہ باز پرس بھی کی جاتی تھی۔


