شاہین کے ریزہ ریزہ خواب
دروازے پر دستک ہوئی۔ شاہین اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی، اس کی ماں اور بڑی بہن حلیمہ کے ساتھ گاؤں میں کسی کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھی۔ چھوٹے بھائی نے گھر کا دروازہ کھولا اور آ کر بتایا کہ کوئی سفید بالوں والا بندہ ہے جو امی کا پوچھ رہا ہے۔ شاہین بھائی کو ساتھ لے کر دروازے پر گئی اور کواڑ کھول کر باہر دیکھا۔ گلی میں سفید بالوں والے ایک صاحب کھڑے تھے جنھوں نے دوبارہ ماں کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اماں بڑی بہن کے ساتھ گاؤں میں چوہدریوں کے گھر کام کرنے گئی ہیں۔ سفید بالوں والے صاحب نے ایک منٹ سوچا پھر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کافی سارے نوٹ نکال کر شاہین کو دیے اور کہا۔ اماں کو یہ پیسے دینا اور کہنا کہ شہر سے شاہ جی آئے تھے جو دے کر گئے ہیں، اور دیکھنا کہیں گم نہ کر دینا۔ شاہین نے شاہ جی کو اندر آ کر بیٹھنے کو کہا لیکن وہ معذرت کر کے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد کمرے کے اندر آ کر اس نے دوپٹے سے نوٹ نکال کر گنے، پانچ سو والے بیس نوٹ تھے۔ اس نے تو کبھی پچاس روپے کا نوٹ اتنے قریب سے نہیں دیکھا، اتنے ڈھیر سارے روپے دیکھ کر اس کا سانس پھول گیا۔ اس نے احتیاط سے طے کر روپے سٹیل کے گلاس میں رکھے اور چارپائی پر کھڑے ہو کر گلاس کمرے کی پڑچھتی پر رکھ دیا۔ چند منٹ بعد گلاس میں پڑے روپوں کا تصور کر کے اس کی آنکھوں میں اچانک امید کے بہت سے دیے جل اٹھے تھے۔ اسے پرائمری کے بعد آگے پڑھنے کا اپنا خواب سچا ہوتا نظر آ نے لگا تھا۔
شاہین اپنے ماں باپ، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ شہر سے دور نہر کے نزدیک ایک گاؤں میں رہ رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے دو کمروں پر مشتمل ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔ اس کے باپ کا تعلق گاؤں کی ایک کاریگر برادری سے تھا جو برتن بنانے کا کام کرتا تھا۔ وہ گھر میں مٹی کے برتن بناتا تھا جن کو پکانے کے لئے گاؤں سے باہر ایک چھوٹی سی بھٹی لگا رکھی تھی۔ اس کی ماں اور باپ دن میں نزدیکی جنگل سے سو کھی لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتے تھے۔ اس کی ماں گاؤں میں تونگر لوگوں کے گھروں میں کام بھی کرتی تھی۔ جیسے تیسے کر کے ان کا گزارہ ہو رہا تھا۔ گاؤں میں پرائمری تک سکول تھا جس میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے۔ اس کی بہن پانچویں کر کے گھر بیٹھ گئی تھی۔ ان کے گاؤں سے تھوڑی دور لڑکیوں کے لئے ہائی سکول موجود تھا۔ لیکن والدہ نے بڑی بہن کو وہاں داخل نہیں کرایا تھا۔ شاہین تب چوتھی جماعت میں تھی۔ وہ ہائی سکول تک تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اپنے ابو کی بہت لاڈلی ہونے کی وجہ سے ماں کی مخالفت کے باوجود اس نے ابو کو پرائمری کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے راضی کر لیا تھا۔ ابا نے اب برتن بنانے کے علاوہ دوسرے نزدیکی گاؤں میں جا کر دیہاڑیاں لگانا بھی شروع کر دیا تھا۔ اسے پرائمری پاس کیے چند دن ہی ہوئے تھے۔ وہ ہائی سکول میں داخلے کے لئے بڑی پرجوش تھی۔ ان دنوں فصل پک کر کٹنے کے لئے تیار تھا۔ اس کا ابا برتن پکانے کے لئے بھٹی کے لئے سوکھی لکڑیاں اکٹھا کرنے جنگل میں گیا۔ لکڑیاں اکٹھے کرتے ہوئے اسے سانپ نے ڈس لیا۔ سانپ کوئی انتہائی زہریلا تھا جس کے زہر سے وہیں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔ دو تین چرواہے شام کو اس کی لاش گھر لائے تھے۔ گھر کے سربراہ کے اس طرح اچانک رخصت ہو جانے کی وجہ سے ان کی دنیا تاریک ہو گئی تھی۔ گاؤں والوں نے کچھ دن ان کی دیکھ بھال کی، لیکن زیادہ عرصہ کون کسی کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کا پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنا ایک خواب بن کر رہ گیا تھا۔ اب وہ گھر بیٹھ گئی تھی۔
اس بات کو پورا ایک سال ہو گیا تھا۔ شاہینہ نے سوچا، شاہ جی اتنے زیادہ روپے دے کر گئے ہیں۔ وہ اماں سے کہے گی کہ اسے نئی کتابیں اور کاپیاں لے کر دے اور دوسرے گاؤں کے سکول میں داخل کرا دے، وہ پیدل سکول چلی جایا کرے گی۔ ویسے بھی وہ اب گھر میں سارا دن اکیلی پڑی رہتی ہے۔ اتنے زیادہ پیسے ہیں میرا نیا یونیفارم بھی بن جائے گا۔ میں صاف ستھرا یونیفارم پہن کر کتنی اچھی لگوں گی۔ وہ اپنے انہی خوابوں میں گم تھی کہ اس کی ماں گھر میں داخل ہوئی۔ شاہین دوڑتی ہوئی ماں کے پاس گئی اور انھیں بتایا کہ وہ گاؤں کے شاہ جی آئے تھے جو شہر میں رہتے ہیں اور کچھ دے کر گئے ہیں، یہ کہتے ہوئے اس نے پڑچھتی سے گلاس اتار کر اس میں سے نوٹ نکال کر ماں کو دیے۔ روپے دیکھ کر اماں کی آنکھیں چمک اٹھیں لیکن پھر ڈھیر سارے آنسوؤں سے بھر گئیں۔ وہ دونوں میاں بیوی محنت کر کے اپنا گھر چلا رہے تھے، کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی تھی لیکن خاوند کے اچانک چلے جانے کی وجہ سے حالات بدل گئے تھے۔ اب وہ گاؤں کے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی، اسے بیوہ سمجھ کر گاؤں کے لوگ امداد بھی کرنے لگے تھے۔ بھیگی آنکھوں سے وہ شاہ جی کو دعائیں دینے لگی۔
رات کو بستر پر لیٹے ہوئے شاہین نے اماں سے کہا کہ اماں اگلے مہینے اسکولوں میں داخلے ہونے ہیں تو مجھے بھی اب ساتھ والے گاؤں کے سکول میں داخل کرا دیں۔ اب تو اتنے ڈھیر سارے روپے بھی آ گئے ہیں، اماں! میں پڑھنا چاہتی ہوں۔ اماں کچھ دیر چپ رہیں پھر بولیں، میری سوہنی دھی، ہم غریب کمہار ہیں۔ تم تعلیم حاصل کر بھی لو گی تو کچھ نہیں ہو گا۔ پھر پیسے برباد کرنے سے کیا فائدہ۔ ان پیسوں سے میں تمہاری بڑی بہن کا جہیز بناؤں گی جو پیسے بچ جائیں گے اس سے تمہارے لئے کچھ بنا کر رکھ دوں گی۔ میری دھی یہ غیبی امداد ہے۔ اس نے پھر کہا۔ اماں! میں پڑھ لکھ کر استانی بننا چاہتی ہوں، اماں مجھے پڑھنے دے ناں۔ ماں نے پھر پیار سے سمجھایا۔ ”میری دھی! تمھارا باپ زندہ ہوتا تو اور بات تھی لیکن تم اب پڑھنے کا خیال دل سے نکال دو۔ پڑھ لکھ کر بھی تمہیں کسی نے استانی نہیں لگنے دینا۔“ اماں اسے جواب دے کر خود دوپٹے میں منہ دے کر رونے لگی۔ دوپہر سے سکول میں داخلے، نئی کتابوں اور نئی یونیفارم کے جو سہانے سپنے وہ دیکھ رہی تھی انھیں اس طرح ٹوٹتا دیکھ کر اس کا دل رنج و غم اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ روتے روتے پتہ نہیں رات کس پہر وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی۔


