خالد فتح محمد کا افسانہ ”ہڈیاں“
زندگی اور موت دو حقیقتیں ہیں۔ نہ تو زندگی سے فرار ممکن ہے اور نہ ہی موت سے گلو خلاصی کی کوئی صورت۔ زندگی ارتقا کا نام ہے تو موت خاتمے کا استعارہ۔ وقت اور مادی ضرورت ایسے عناصر ہیں جو ایک طرف ارتقا کا باعث بنتے ہیں تو دوسری طرف انسان کی سوچ کو بدلنے میں بھی نمایاں کردار اداکرتے ہیں۔ سوچنے کے انداز بدلنے کا عمل آہستہ مگر بتدریج ہوتا ہے۔ یہی حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان حالات سے سمجھوتا کرنا سیکھ جاتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ واقعات اور حالات جن سے کسی دور میں کراہت محسوس ہوتی ہو، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان جگہوں پر جانا اور انھیں اپنے من چاہے منصوبوں میں بدلنا خواہش بن جاتا ہے ۔ ماضی میں سانحات سے دوچار ہونے و الا انسان کبھی یہ سوچتا ہو گا کہ ان سانحات کے اثرات تادیر رہیں گے، یا حال کا انسان کسی سانحے سے متاثر ہو تو مایوسی اس کے اندر گھر کرنے لگتی ہے اور وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ نہ صرف حال کا مجرم ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی بربادی اور ذہنی آزار کا بھی باعث بن رہا ہے۔ یہ ایسا نفسیاتی مسئلہ ہے جو سانحے سے دوچار ہونے والے انسان کو درپیش ہوتا ہے۔ وہ حال سے زیادہ مستقبل کے بارے میں فکرمند ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ مستقبل کی بربادی اسے ڈسنے لگتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت کا دھارا انسان کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وقت کا سیل رواں حال کے سانحات کو ہی نہیں بہا لے جاتا بلکہ مستقبل کے اندیشوں کو بھی غلط ثابت کر دیتا ہے۔ یہی ازلی حقیقت ہے جس کا اظہار خالد فتح محمد کے افسانے ”ہڈیاں“ میں ہوا ہے۔
”ہڈیاں“ خالد فتح محمد کے افسانوی مجموعے ”تانبے کے برتن“ میں شامل افسانہ ہے۔ اگرچہ اس افسانے کا کینوس نہایت مختصر ہے لیکن افسانہ نگار نے اک بڑے موضوع کو بڑی مہارت سے افسانے کے قالب میں ڈھالا ہے۔ طاعون کی وبا جس نے دیکھتے ہیں دیکھتے ہزاروں افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے تھے، اس افسانے کی بنیاد بنتی ہے۔ افسانہ نگار نے وبا کے آغاز اور پھیلاؤ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” وبا پہلے اندھیرے گھروں میں پھیلی۔ ایسے گھروں میں جن کی دیواریں کچی تھیں، صحن تنگ تھے۔ ان گھروں کے باسی بیمار بیمار سے لگتے تھے۔ ان کے چہروں پر رونق نہیں تھی۔ خوشی کم ہی انھیں چھو کر گزرتی تھی، اور تنگ صحنوں میں محرومی مزید محرومیوں کو جنم دیتی تھی۔ پہلے بدن ٹوٹتا، پھر بخار، گلٹی اور بہتی پیپ۔ ۔ پھر اس کے بدن کی ہر حرکت تھم جاتی، زبان باہر نکل آتی، آنکھوں میں موت کا سایہ لہرا جاتا اور وہاں موت گھر کر لیتی۔“
صحت سے بیماری کی طرف مراجعت کا یہ سفر بہت جلد موت پر منتج ہوتا ہے۔ موت ایسی جو دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہو۔ بے بسی کا استعارہ ہو، اپنے پرائے سب دور رہنے میں ہی عافیت جانیں۔ ہر کسی کو یہی خدشہ ہو کہ قریب گئے تو موت کا دھارا ان کی طرف بھی بہنے لگا اور پھر یہ بے بسی ان کا مقدر بھی ٹھہرے گی۔ موت ایک حقیقت ہے لیکن طاعون کی وبا کے دوران یہ حقیقت زندگی کے خاتمے کے ساتھ خوف و وحشت کا ایک استعارہ بن کر بھی سامنے آئی۔ ( کچھ ایسی ہی صورت حال موجودہ عہد میں کورونا وبا کے دنوں میں بھی دیکھنے کو ملی) ۔ گویا موت کا تصور صرف زندگی کے خاتمے تک محدود نہیں رہا۔ خالد فتح محمد اس افسانے میں وبائی موت کی اس رمز کو آشکار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسری طرف دیکھیں تو انسان کی مادی ضروریات اور مادیت پرستی اس خوف کے مقابلے میں ایک بڑا حریف بن کر ابھرتی ہے۔ ایک طرف مرنے والوں کے اپنے ہیں جو ان کے مردہ وجود کے پاس جانے سے بھی کتراتے ہیں کہ دوسری طرف صفائی کرنے والے بھنگی ہیں جن کی محدود آمدن جو ایسے ہی کاموں سے جڑی ہے، ان کے ذہن سے تمام خوف اور وحشت کو دور کیے ہوئے ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس وبا کے دنوں میں اگر انھوں نے بھی خود کو اس خوف کا اسیر کر لیا تو وبا سے قبل بھوک سے مر جائیں گے۔ بھوک کی موت انھیں وبا کی موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ :
”صفائی کرنے والے بھنگی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے تھے۔ جانے یہی کوئی معجزہ تھا کہ ان کی قوت ارادی۔ وہ گھروں، گلیوں اور محلوں میں چکر لگاتے، دروازے کھٹکھٹاتے، مردوں کو ریڑھیوں پر ڈالتے۔ ایک دوسرے کے اوپر، الٹے سیدھے، کوئی لمبے رخ، کوئی چوڑے رخ، عورتوں کے اوپر غیر مرد، جوان لڑکیوں کے اوپر بوڑھے اور بوڑھی عورتوں پر جوان مرد۔ ستر، حیا، پردہ داری کی کوئی تمیز نہیں تھی۔ سب کچھ عارضی تھا، مستقل صرف موت تھی۔ بھنگی ریڑھیوں کو دھکیلتے ہوئے، کبھی سنجیدہ، کبھی قہقہے لگاتے ہوئے، کبھی تھکے تھکے سے اور کبھی تازہ دم، کبھی خائف اور کبھی موت کا مذاق اڑاتے ہوئے۔ ۔ لاشوں کا اجتماعی قبر میں دفن کر دیتے۔“
بھنگیوں کے سر سے موت کا خوف، بھوک کے خوف نے ختم کر دیا۔ وبائی موت جسے عبرت کا سامان قرار دیا جاتا ہے ، بھنگیوں کے لیے وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ان کے نزدیک مرنے والوں میں بھی کوئی تفریق نہیں۔ سب ہی برابر ہیں۔ کوئی احساس، کوئی جذبہ ان کے لیے نہیں جو مر گئے۔ سب کا مسکن اجتماعی قبر۔ جس تک پہنچتے ہوئے بھی نہ کوئی تفریق اور نہ حیا وہ پردہ کی پاسداری۔ یہ صرف غریب طبقے کے لوگوں کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ وبا کے پھیلاؤ کے بعد جب امیر اور اشرافیہ اس کی زد میں آئے تو ان کا انجام بھی ایسا ہی تھا کہ :
” شروع شروع میں ان کے مردے قبرستانوں میں گئے، مگر پھر ریڑھیاں اسی طرف جانے لگیں، شہر اور دریا کے اس طرف۔“
خالد فتح محمد نے افسانے میں وبا کے دنوں کی موت کو کئی زاویوں سے پیش کرتے ہوئے، انسانی زندگی کی حقیقت اور انسانی نفسیات کا بہترین انداز میں تجزیہ کیا ہے۔ امیر، غریب، اشرافیہ، رذیل وبا کے ہاتھوں سب ایک جیسے ہی انجام سے دوچار ہوئے اور ایک ہی جگہ، ایک ہی انداز میں پہنچائے گئے۔ اور پہنچانے والے ہر بار اسی طرح جذبات اور احساسات سے عاری رہے۔ ان کے نزدیک صرف خود کو بھوک سے بچانا تھا، بدلے میں خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ یہاں پہنچ کر افسانہ نگار افسانے کو موت سے نکال کر زندگی کی طرف پلٹتا ہے اور وہ سب کچھ کہ جاتا ہے جس کے لیے افسانہ تخلیق کیا گیا، اور وہ ہے وقت۔ وقت ہی زندگی ہے۔ یہ بہتا ہے اور اپنے ساتھ اس سب کو بھی بہا لے جاتا ہے جو زندگی کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی بہاؤ کا نام ارتقا ہے۔ افسانہ ”ہڈیاں“ کا مرکزی تھیم یہی ارتقا ہے۔
وبا کے دنوں میں مرنے والے ہزاروں افراد کو دفنانے کے نام پر جہاں پھینکا جاتا ہے ، اس طرف کوئی رخ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ایک بعد دوسری نسل آتی ہے تو، ان مردوں کی باقیات کوڑے کے ڈھیر تلے دبتی چلتی جاتی ہیں۔ گویا موت نے انسان اور کوڑے کو ایک کر دیا۔ کوڑے کا وہاں پہنچا اس خوف کے خاتمے کا سبب بننے لگتا ہے، جو پچھلی نسل کے ذہنوں پر سوار تھا۔ افسانہ نگار بڑی مہارت سے اس حقیقت کو سامنے لانے میں کامیاب رہا ہے کہ مادیت پرستی کے اثرات تو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتے ہیں لیکن خوف اور وحشت کے اثرات دیرپا نہیں ہوتے۔ حالات کے بدلتے ہی مستقبل کے تمام اندیشے غلط ثابت ہونے لگتے ہیں۔ وہ علاقہ جو وبا کے دنوں میں مرنے والوں کا مدفن بنا تھا، اس نسل کے لیے ایک آسیب کا درجہ رکھتا تھا، لیکن آنے والی نسل اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود خود کو اس خوف سے آزاد کرنے میں کامیاب رہی۔ وہاں نہ صرف آمدورفت جاری ہوجاتی ہے بلکہ سڑک کی تعمیر اور پھر اسی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں، مردوں کا رزق کی تلاش میں اس کوڑے کے پہاڑ کی طرف جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح یہاں لاشیں لانے والے بھنگی، بھوک کے خوف کی وجہ سے ان مردوں اور وبا کے خوف سے عاری تھے۔ اسی طرح کوڑے سے رزق تلاشنے والے نچلے طبقے کے لوگ بھی خود کو اس خوف سے آزاد کر چکے تھے۔ افسانہ نگار نچلے طبقے کے لوگوں کی نفسیات کا تجزیہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ افسانے کو ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری نسل تک لے جاتے ہوئے انھوں نے یہ دکھایا ہے کہ بھوک کا خوف ( جو نچلے طبقے کے لوگوں کاہی مقدر ہوتا ہے) ہر خوف پر حاوی ہے۔ اور نچلے طبقے کے لوگ اس خوف کے ہوتے ہوئے کسی بھی دوسرے اندیشے میں مبتلا نہیں ہوسکتے۔ وبا کے دنوں میں جب ہر کوئی خوف میں مبتلا تھا، یہ طبقہ اس وقت بھی اس خوف سے آزاد تھا، اور اگلی نسل میں انھی لاشوں کے مسکن سے رزق تلاش کرنے والے بھی اس سے آزاد ہیں۔
خالد فتح محمد اس افسانے میں اس نچلے طبقے کو ہی زندگی کے ارتقا کا بنیادی عنصر قرار دیتے ہیں۔ خوف سے آزاد یہ طبقہ جب کوڑے سے رزق تلاش کی خاطر اس علاقے کا رخ کرتا ہے تو سماج سے خوف اترتا ہے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ آسیب کا مسکن پہلے پارک اور بعد میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں بدل جاتا ہے ۔ جہاں پرکھوں کی ہڈیاں دفن ہوتی ہیں، انھی پر مکانات اور محلات بننے لگتے ہیں اور آنے والی نسل میں کوئی یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ یہ جگہ کبھی وبا کے متاثرین کا ایسا مسکن رہی ہے جس کی طرف جانے کے بارے سوچنا بھی ممنوع تھا۔ اس افسانے میں خالد فتح محمد وقت کے اس ازلی وصف کو سامنے لائے ہیں جو بہت کچھ یکسر بدل دینے کی قوت رکھتا ہے۔ یہ ایسی قوت ہے جو احساسات اور جذبات کو بھی فنا کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرکھوں کی ہڈیوں پر گھروں اور محلات کی تعمیر بھی معیوب نہیں ٹھہرتی۔ دوسری طرف سماج کے طبقاتی نظام میں نچلے طبقے کی نفسیات کا بھی بھرپور تجزیہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ نچلا طبقہ ہر دور میں رہا ہے اور ہر دور میں ایک جیسے حالات سے ہی دوچار رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی سوچ اور تگ و دو کا محور صرف خود کو بھوک سے مرنے سے بچانا ہے۔ سوچ کا بھوک تک محدود ہونا، ایک طرف ان کے حالات کو بدلنے سے روکتا ہے تو دوسری طرف انھیں بہت سے اندیشوں سے بھی آزاد کرتا ہے۔ زندگی اور موت کے تصور کے گرد گھومتا یہ افسانہ زندگی، وقت، ارتقاء، بھوک، خوف اور موت کی کئی زاویوں سے تعبیر پیش کرتا ہے۔
