پوٹسدام میں ایک روز


موسم سہانا ہو۔ درجہ حرارت قابل برداشت ہو اور ”اپنی“ دنیا کے جھمیلوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو تو انسان کو دور دراز علاقوں میں جانا چاہیے۔ ہفتے کا دن تھا۔ ہم تین فیملیز نے، مشترکہ طور پر، برلن سے ملحقہ مشہور تاریخی شہر پوٹسدام کے مضافات میں، گوگل سرچ سے نکالے گئے ایڈریس، نیو مین نامی پھلوں کے فارم ( باغ) میں جانا اور وہاں خود پھلوں کو توڑ کر خریدنے کا پروگرام بنایا۔

میں کئی بار پوٹسدام جا چکا تھا۔ پاکستان سے برلن۔ سیاحت پر آئے ہوئے رشتے داروں کے ساتھ، یہاں سینسوسی نامی پارک میں جانا اور سیر کرنا یاد ہے۔ یہ ایک نہایت خوبصورت، ، قابل دید، بہت بڑا اور تین تہوں پر محیط پارک، پوٹسدام کا لینڈ مارک کہلاتا ہے۔ اس پارک کے اندر داخل ہونے سے پہلے ایک بہت بڑی پرانی تاریخی ونڈ مل یعنی ہوائی چکی ہے۔ سلطنت پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم اول کے دور میں لگائی گئی، ہالینڈ ملوں کی طرز پر بنائی ہوئی یہ مل، مختلف ادوار میں بوجہ جنگی تباہی، بار بار تعمیر ہوتی رہی ہے۔ اتحاد جرمنی اور تعمیر نو کے بعد 1995 سے، یہ پبلک کے لئے کھول دی گئی ہے۔ یہاں کے آٹے کی روٹی بھی سینسوسی پارک میں خریدی جا سکتی ہے۔ دوسرا سیسیلین نامی مشہور پارک، پوٹسدام کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتا ہے۔ پروشیا کے دارالحکومت ہونے کی وجہ سے، پوٹسدام میں نہایت خوبصورت عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں۔ پوٹسدام، جرمن صوبے برانڈنبرگ کا موجودہ دارالحکومت بھی ہے۔ او کے۔

Sanssouci Park

ہم، دو کاروں میں سوار، 11 لوگ بشمول بچے، برلن سے پوٹسدام عازم سفر ہوئے۔ اپنی منزل پر پہنچنے پر، انکشاف ہوا کہ وہاں ماسوائے آلو بخارے، دوسرے تمام موسمی پھل ختم ہو چکے ہیں۔ بچوں کو صرف چیری توڑنا اور کھانا تھا۔ وہاں ہی سے ہمیں، چار کلو میٹر کی دوری پر، پھلوں کے فارم یعنی باغ کا، ایک نیا ایڈریس ملا جہاں ابھی چیری توڑنا ممکن تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگر ہم چار بجے بعد از دوپہر وہاں پہنچ جائیں تو ہم باغ میں داخل ہو سکیں گے۔ اس وقت ساڑھے تین بجے تھے۔ طوفانی بارش شروع ہو چکی تھی۔ لیکن ہم 15 منٹ بعد ، مارقعارڈ نامی پھلوں کے فارم کے دفتر پہنچے۔ استقبالیہ پر، ہمیں مزید معلومات اور باغ تک پہنچنے کی راہنمائی دی گئی۔
پھلوں کے باغ تک جانے کے لئے، ایک تنگ اور دشوار راستہ تھا جس پر ہم، دونوں کاروں کو، کھیتوں کے درمیان، پگڈنڈی نما چھوٹی سی کچی سڑک پر چلاتے ہوئے باغ تک پہنچے۔ کاروں سے اتر کر، ہم نے جب چیری کے درختوں سے چیریز دیکھیں تو وہ کھٹی تھیں۔ استقبالیہ سے صوتی رابط سے معلومات ملی کہ یہ باغات ان کے نہیں ہیں، ان کے میٹھی چیریز کے باغات کہیں اور ہیں۔ نئی جگہ پہنچ کر ہم سب نے، گھر سے ساتھ لائے ہوئے، اپنے اپنے ڈبے نکالے اور بارش سے دھلی ہوئی چیریز کو، ان میں ڈالنا شروع کیا۔ چیریز کو درختوں سے اتارنے کے علاوہ، پیٹ پوجا بھی ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ، بارش نے ایک دفعہ پھر زور پکڑا لیکن ہم سب کے ڈبے، چیریز سے بھر چکے تھے۔ ہم نے واپسی کا ارادہ کیا۔ ہماری دونوں کاریں، تنگ پگڈنڈی نما کچے راستے سے ہوتے ہوئے، استقبالیہ کے دفتر پہنچ گئیں۔ ہم نے اپنے اپنے ڈبوں کا وزن کرایا اور وہاں قیمت خرید ادا کی۔ اس کے بعد کچھ تصاویر بنائیں اور تقریباً 4 گھنٹے کے خوبصورت، ڈے آؤٹ ٹور کے بعد ، برلن واپس پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS