غیرمعجل مہر: کیا ایک غیرمنصفانہ قانون؟
پاکستانی قانون میں حق مہر کو مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961 کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس، محمدن لاء، اور سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے رولز اور رولنگز کے مطابق، مہر رقم یا منقولہ و غیر منقولہ جائیداد یا ایک ایسا وعدہ ہے جو بیوی شادی کے معاہدے کی مد میں شوہر سے وصول کرنے کی حق دار ہے جس کی ادائیگی کو شادی سے پہلے فریقین کے ذریعے طے کرنا اور اس پر متفق ہونا ضروری ہے جس کا احاطہ نکاح نامہ کی شقاق 13 تا 16 کرتے ہیں۔ عبد القادر بمقابلہ۔ سلیمہ ( 1886 ء) کے کیس میں محترم جسٹس محمود لکھتے ہیں ”کہ اگر شادی کے وقت مہر کا واضح طور پر ذکر نہ بھی کیا جائے تو بھی بیوی کو مہر کا حق حاصل ہے جس کا تعین رواج کے مطابق ہو گا“۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے۔
”ان کے ماسوا جو عورتیں ہیں، تمہارے لیے حلال کیا گیا کہ اپنے مالوں کے عوض ان سے طلب نکاح کرو“۔ (النساء 24 )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کو ان کا مہر دے دو، کیونکہ یہ عورت کا اپنے شوہر پر حق ہے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب نکاح، حدیث 2183 )۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اگر تم نے کسی عورت کو مہر دیا تو تم نے اسے اس کے شخص کا حق دیا“۔ (سنن ابو داؤد، کتاب نکاح، حدیث 2184 )۔
مہر، مسلم شادی کے معاہدوں کا حصہ ہے۔ 2020 ایس۔ سی۔ ایم۔ آر 1289 کے مطابق، مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء ایکٹ 1962، کے سیکشن 2 کی رو سے ایسے معاملات جہاں فریقین مسلمان ہوں، قانون مہر سے متعلق تمام سوالات میں مسلم پرسنل لاء (شریعت) کے بنیادی اصولوں کے تحت فیصلہ کیا جائے گا۔ مہر کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے، مقدم، فوری مہر اور معجل مہر ہے، جو بیوی کو شادی کی تقریب میں یا اس کے فوراً بعد پورا اور مکمل ادا کر دیا جاتا ہے۔ کتاب ”اسلامی قانون کے پانچ مکاتب فکر کے مطابق شادی“ کے باب المہر میں شیخ محمد جواد مغنیہ فرماتے ہیں کہ اگر شوہر بیوی کو مہر ادا کرنے سے انکار کر دے تو بیوی شوہر کے ساتھ رہنے سے یا حق زوجیت کی ادائیگی سے انکار کر سکتی ہے اور اس ضمن میں اگر بیوی مہر کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شوہر سے الگ رہتی ہے تو وہ شوہر کے ذریعہ کفالت/نان و نفقہ کی حقدار ہو گی۔ (ولایت حسین بمقابلہ اللہ رکھی[ ( 1880 ) آئی ایل آر 2 آل 837 ]۔ ویسٹ پاکستان مسلم فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت، مہر کی ادائیگی کے حکم کے لیے بیوی عدالت سے رجوع کر سکتی ہے جس کے مطابق اگر مہر کی ادائیگی میں شوہر فیملی جج کے حکم کی عدم تعمیل کرے تو شوہر کی جائیداد سے بیوی کو مہر ادا کیا جائے گا اور اگر شوہر کے نام کوئی جائیداد نہ ہے تو عدالت اس ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شیڈول کے پارٹ دوم کے ضمن میں وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے اور شوہر کو ایک سال تک کی قید کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں مہر کی ادائیگی شوہر کی طرف سے پورا کیا جانے والا قرض ہے اور اگر یہ میاں بیوی کے درمیان طے شدہ مدت کے اندر بیوی کو نہیں دیا جاتا ہے تو اسے قرض سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے ”مہر شوہر پر قرض ہے۔“ (سنن ابن ماجہ 1890 )۔ امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں باب باندھا: لصاحب الحق مقالٌ (جس کا حق ہوتا ہے، اس کو تقاضا کرنے میں سختی کی گنجائش ہوتی ہے ) کے تحت لکھا:ترجمہ: ”اور نبی ﷺ سے روایت ہے : جس کے پاس قرض ادا کرنے کی گنجائش ہو، اس کا تاخیر کرنا اس (مقروض) کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، عزت کو حلال کرنا یہ ہے کہ قرض خواہ کہے : تم مجھ سے ٹال مٹول کر رہے ہو اور اس کی سزا اسے قید کرنا ہے“
مقدمہ سی۔ ایل۔ سی ( 2018 ) کے تحت اگر شوہر مکمل طور پر اور آخر میں حتمی طور پر مہر ادا کرنے سے انکار کر دے تو بیوی اس بنیاد پر طلاق لے سکتی ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ مہر کی عدم ادائیگی کی صورت میں اگر خاوند کو قید کی سزا سنائی جائے تو یہ سزا اسے ہمیشہ کے لیے ادائیگی مہر کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کرے گی اور جیسے ہی خاوند معاشی طور اس قابل ہوا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کر سکتا ہے یا اس کے نام کسی قسم کی جائیداد ثابت ہوئی تو بیوی عدالت سے ڈگری کی تعمیل کے لیے کبھی بھی رجوع کر سکتی ہے۔ شوہر کسی صورت ادا کیا گیا مہر واپس نہیں لے سکتا۔
اب قانونی طور پر مہر کی ادائیگی کی وضاحت کے لیے پہلے طلاق۔ خلع اور تنسیخ نکاح کی صورتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ طلاق دینا مرد کا اختیار ہے۔ طلاق دینے کی صورت میں مرد کو نکاح نامہ میں لکھا گیا حق مہر معجل، غیر معجل (مہر التواء) وغیرہ سب کچھ بیوی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے فرمایا! ”“ بے شک اللہ کے نزدیک کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ وہ مرد جو کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے اپنی حاجت پوری کرنے کے بعد اسے طلاق دے کر اس کا مہر لے لے ”۔ (صحیح۔ 999 )۔
خلع، عدالت کے ذریعے عورت حاصل کرتی ہے۔ خلع لینے کے لئے کسی وجہ کا ثابت کرنا ضروری نہیں کہ شوہر تشدد کرتا ہے، نشہ کرتا ہے، خرچہ پورا نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ خاتون کا اتنا کہنا بھی کافی ہوتا ہے کہ یہ شخص مجھے ناپسند ہے، میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ اس طلاق کے لیے شوہر کی رضامندی درکار ہوتی ہے اور کورٹ میں اس رضامندی کے لیے یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ پہلے شوہر کو ویسٹ پاکستان مسلم فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے قانون کے تحت نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد تمام قانونی حقوق کے ساتھ ٹرائل کا حصہ بنایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دونوں فریقین کو سیکشن 10 کے تحت مصالحت کا موقع بھی دیا جاتا ہے لیکن اگر کورٹ میں میاں بیوی کی مصالحت ناکام ہو جائے یا خاوند کورٹ کی کارروائی کا حصہ ہی نہ بنے تو ایسی صورت میں بیوی کی درخواست پر عدالت ہر صورت خلع کی ڈگری جاری کرے گی اور صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے مہر معجل کا 25 ٪ عورت کی تحویل میں دیتے ہوئے بقایا خاوند کو واپس کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے اور اگر مہر ابھی بیوی کو ادا ہی نہ کیا گیا ہو تو عدالت خاوند کو ملتوی مہر کا آدھا حصہ خاتون کو دینے اور آدھا کورٹ کی جانب سے معاف کر دینے کا حکم بھی جاری کر سکتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں فیملی کورٹ ایکٹ، 1964 کے 2015 کی ترامیم یعنی دفعہ 10 ( 5، 6 ) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ حق مہر اپنے شوہروں کو واپس کر دیں جن سے وہ خلع کی بنیاد پر طلاق لینا چاہتی ہیں۔ لیکن اس فیصلے کے برعکس اللہ، قرآن میں فرماتا ہے کہ ”اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہو لیا اور وہ (عورت) تم سے گاڑھا عہد لے چکیں ( 4 : 21 )۔
علیحدگی کا تیسرا طریقہ تنسیخ نکاح ہے۔ جو خاتون خلع کی صورت میں اپنا حق مہر وغیرہ نہیں چھوڑنا چاہتی وہ اس طریقہ کا اختیار کرتی ہے۔ تنسیخ نکاح کے لئے قانون میں مختلف شرائط دی گئی ہیں جو کہ ڈیزولیوشن آف مسلم میرج ایکٹ 1939 کے دفعہ 2 میں بیان کی گئی ہیں، مثلاً شوہر خرچہ نہیں دیتا، تشدد کرتا ہے، وہ نامرد ہے۔ وہ گم ہو گیا ہے، عرصہ 7 سال سے گھر نہیں آیا، وغیرہ وغیرہ۔ خلع کے برعکس عدالت یہ ڈگری خاتون کے حق میں تب کرتی ہے جب وہ اپنے لگائے گئے الزامات ثابت کرے مثلاً وہ نامرد ہونے کا الزام لگاتی ہے تو عدالت اسے میڈیکل کروانے کا کہہ سکتی ہے۔ تشدد کا الزام ہے تو اسے ثابت کرنے کا کہہ سکتی ہے لیکن ایسا حکم دینا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔ ( 2018 پی۔ ایل۔ ڈی۔ پشاور 34 )۔ اگر عدالت کی طرف سے یہ تفریق منظور ہو جائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور شوہر بیوی کو مہر ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ (شہانہ بی بی بمقابلہ ندیم شاہ [ ( 2015 ) ایم ایل ڈی 1623 ]۔
مہر کے معاملات میں سب سے پیچیدہ امر وہ رواجی مہر ہے، جسے مہر مؤجل یا غیر معجل مہر، مہر موخر یا مہر ملتوی کہا جاتا ہے جو کہ موخر شدہ اور وعدہ شدہ رقم یا جائیداد ہے۔ اکثر موخر شدہ رقم شادی کے وقت ادا کی جانے والے مہر سے زیادہ ہوتا ہے، مرد نکاح کے وقت مہر ادا نہیں کر پاتا تو بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ”مہر کی ادائیگی میں تاخیر جائز ہے۔ (صحیح مسلم 1427 ) مگر ایک اور مقام پر فرمایا کہ“ عورتوں کے مہر کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو۔ ” (سنن ابوداؤد 2122 )۔ اس قسم کے مہر کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مہر کہ جس کی ادائیگی کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ مثلاً دس 10 برس بعد دیا جائے گا، مہر مؤجل کہلاتا ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق جب تک وہ میعاد نہ گزر جائے عورت کو مطالبے کا اختیار نہیں اور میعاد پوری ہونے کے بعد نہ صرف وہ مطالبہ کا حق رکھتی ہے بلکہ حق زوجیت کی ادائیگی سے انکار بھی کر سکتی ہے۔ اور وصولی کے لیے عدالت سے بھی رجوع کر سکتی ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں شوہر قانونی طور پر سزا کا بھی حقدار ہو گا۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ“ اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے ) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ کہ شہوت رانی، تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو ” ( 4 : 2 )
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو۔ ( 4 : 29 ) )
اور پھر فرمایا کہ ”اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، ( 4 : 30 )۔
مندرجہ بالا قسم کے مہر میں دوسری صورت کو غیر معجل مہر کہا جاتا ہے اور اس میں یا تو نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا طریقہ کار واضح نہیں ہوتا، یا پھر ادائیگی کا وقت مقرر نہیں ہوتا اور یا پھر دونوں واضح نہیں ہوتے۔ ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961 کے دفعہ 10 کے مطابق جہاں مہر کی ادائیگی کے طریقہ کار اور وقت کے بارے میں نکاح نامہ میں کوئی تفصیلات درج نہیں کی گئی ہیں تو وہاں مہر عند الطلب یعنی کہ عورت کے مطالبہ پر مہر کی پوری رقم قابل ادائیگی ہوگی۔ اور اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اس نے مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کے ترکہ میں سے پہلے مہر ادا کیا جائے گا پھر ترکہ تقسیم ہو گا۔
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق جہاں نکاح میں مہر کی رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار واضح نہیں ہے تو ایسی صورت میں مہر کی رقم کو مہر معجل سمجھا جائے گا۔ (نصرہ بیگم بمقابلہ رجوان علی ( 1980 )۔ پاکستان کے قانون کے مطابق جب طلاق یا شوہر کی موت کی وجہ سے ازدواجی زندگی ختم ہو جائے تو مہر التواء کی رقم ادا کرنی ہوگی۔ تاہم یہ تصور اسلامی موقف کے بجائے زیادہ روایتی موقف ہے۔ اسلام میں اس طرح کا کوئی بھی قانون یا شرط موجود نہ ہے اور اسلامی سکالرز اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ مہر کا معاملہ نکاح سے مشروط ہے نہ کہ طلاق سے۔ مزید یہ کہ مسلم فیملی لاز 1961 کے سیکشن 6 کے مطابق اگر شوہر بیوی کی پیشگی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو مکمل مہر فوری طور پر ادا کرنا ہوگی چاہے پہلے اس کا کوئی بھی حصہ ادا کر دیا گیا ہو۔
محمدی قانون کے تحت مہر کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ ایک ذمہ داری ہے جو شوہر پر بیوی کے احترام کے نشان کے طور پر عائد ہوتی ہے۔ یہ وہ لازمی ادائیگی ہے جو شوہر اپنی بیوی کو تحفظ اور مدد کے طور پر کرتا ہے۔ اس کی ادائیگی ایک اعلان اور وعدہ ہے کہ اس نکاح کے بعد اب شوہر ہی مکمل طور بیوی کا کفیل ہے۔ اور دلیل یہ ہے کہ اگر نکاح کرتے وقت مہر مقرر کیا گیا ہو مگر خلوت صحیحہ کی نوبت نہ آئے تو ایسی صورت میں عورت کو نصف حق مہر ملے گا۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے : اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دی تاہم تم ان کا مہر مقرر کر چکے تھے تو اس مہر کا جو تم نے مقرر کیا تھا نصف دینا ضروری ہے سوائے اس کے کہ وہ (اپنا حق) خود معاف کر دیں یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے معاف کردے (یعنی بجائے نصف کے زیادہ یا پورا ادا کر دے ) (البقرۃ، 2 : 237 )۔
مہر اس حق زوجیت کی دلیل ہے جو ایک مرد کو اپنی بیوی پر حاصل ہوتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ ”پس جو لطف تم نے ان سے اٹھایا ہے اس کے بدلے میں ان کے مہر بطور ایک فرض کے ادا کرو۔ (النساء 21 )۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہر ہی وہ چیز ہے جس کے عوض مرد کو عورت پر ازدواجی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اس کی مزید تصریح وہ احادیث کرتی ہیں جو اس معنی میں نبی کریمﷺ سے مروی ہیں۔ صحاح ستہ اور مسند احمد میں حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے“ تمام شرطوں سے بڑھ کر جو شرط اس کی مستحق ہے کہ تم اسے پورا کرو، وہ شرط یہ ہے کہ جس پر تم عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کرتے ہو ”۔ لعان کا وہ مشہور مقدمہ، جس میں نبی کریمﷺ نے زوجین کے درمیان تفریق کرائی تھی، اس کا ذکر کرتے ہوئے عبداللہؓ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ جب تفریق ہو چکی تو شوہر نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرا مال مجھے واپس دلوایا جائے۔ آپﷺ نے جواب میں فرمایا“ مال لینے کا تجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو اس کی شرمگاہ جو تو نے اپنے لیے حلال کی تھی اس کے معاوضے میں وہ مال ادا ہو چکا، اور اگر تو نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو مال لینے کا حق تجھ سے اور بھی زیادہ دور ہو گیا۔ ”(مسلم۔ کتاب اللعان)۔ اس سے بھی زیادہ تصریح ایک حدیث میں ہے جو امام احمد اپنی مسند میں لائے ہیں“ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ یہ مہر دینا نہیں، وہ زانی ہے”۔ ان تمام نصوص سے مہر کی یہ حیثیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کوئی رسمی و نمائشی چیز نہیں ہے بلکہ وہ چیز ہے جس کے معاوضہ میں ایک عورت ایک مرد کے لیے حلال ہوتی ہے۔ اور بیوی کا حق یہ ہے کہ حق زوجیت کی ادائیگی کے ساتھ ہی پورا مہر واجب الادا ہو جائے۔ ماسواء یہ کہ زوجین کے درمیان اس کو موخر کردینے کے لیے کوئی قرارداد ہو چکی ہو۔ مگر یہ محض ایک رعایت ہے کہ اس کو ادا کرنے میں مہلت دی جائے۔ اگر مہلت کے بارے میں زوجین کے درمیان کوئی قرارداد نہ ہوئی ہو تو اعتبار اصل (جلدی) کی جائے نہ کہ مہلت۔ کتاب اسبیجابی میں فرمایا گیا ہے کہ:“ اگر مہر معجل ہو یا اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا گیا ہو تو وہ فوراً واجب ہو گا کیونکہ نکاح ایک عقد با معاوضہ ہے۔ جب نکاح سے شوہر کا حق متعین اور پورا ہو گیا تو واجب ہو گا کہ عورت کا حق بھی متعین ہو کر فوراً پورا ہو جائے اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جب مہر ادا کر دیا جائے۔ ”
قانون میں مہر کے معاملے میں ایک الجھن اور پیچیدگی مقدار کی ہے اور خصوصاً جب مہر کی رقم متعین نہ ہو تو اسلامی سکالرز کے مطابق یہ ایسی رقم ہونی چاہیے جو معاشرے میں یا ہر فرد کے معاملے میں رواج ہو۔ اس کا تعین بیوی کے خاندان کی سماجی حیثیت، اس کی قابلیت، اس کے شوہر کی سماجی حیثیت، اس کی عمر، شکل، سمجھ وغیرہ کے حوالے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ ایک مقام پر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ”ایک عورت اپنی سماجی حیثیت کے تناسب سے مہر کی حقدار ہے۔“ (سنن ابن ماجہ)۔ ایک اور مقام پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی لیکن نہ تو مہر مقرر کیا اور نہ ہی مباشرت کی اور پھر وہ فوت ہو گیا (تو اس کا کیا حکم ہے؟ ) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر اس کا مہر ہو گا (یعنی مہر مثل) ، نہ کم ہو گا اور نہ زیادہ۔ اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے ترکہ بھی ہے۔ معقل بن سنان اشجعی نے اٹھ کر کہا ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا۔
ہمارے معاشرے میں مہر کے حوالے سے ایک اور اہم نقطہ جو قابل غور ہے وہ یہ کہ اکثر افراد مہر فاطمی کو بنیاد بنا کر صرف 32 روپے یا اس حساب سے چند ہزار روپے بیوی کا حق مہر متعین کرتے ہیں تو احادیث کی مدد سے مہر فاطمی کو بھی جاننا ضروری ہے۔ مہر کی وہ مقدار ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صاحبزادیوں اور اکثر ازواج مطہرات کے لیے مقرر فرمائی تھی وہ مہر بارہ اوقیہ (ایک سو اکتیس تولہ اور تین ماشہ چاندی یا ایک کلو پانچ سو تیس گرام نو سو ملی گرام چاندی) سے زیادہ مقرر نہیں کیا۔ مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درہم چاندی بنتی ہے، موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے، اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے : ترجمہ: ”حضرت ابو سلمہؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ اور نش مہر دیا تھا، پھر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم کو معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: آدھا اوقیہ (یعنی بیس درہم) اس طرح کل مہر پانچ سو درہم ہوا؛ یہی ازواج مطہرات کا مہر تھا“۔
امام بخاری نے مہر کی کم سے کم مقدار 10 درہم کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت بتائی ہے۔ اور 10 درہم کا وزن 2 تولہ ساڑھے سات ماشہ ہے، اور موجودہ اوزان کے حساب سے اس کی مقدار 30 ؍ گرام 618 ؍ ملی گرام چاندی ہے، اس سے کم مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا۔
التواء کا مہر پاکستان میں ایک غیرمنصفانہ قانون ہونے کا پہلا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اسلام نے مہر تاخیر کی اجازت دی ہے تو وقت کی ساتھ مہر غیر معجل کی رسم ہمارے معاشرے میں ایک مضبوط جڑ کیوں پکڑ چکی ہے؟ واضح رہے کہ مہر کا التوا ایک رواج ہے، کوئی اسلامی قانون نہیں ہے۔ لہٰذا رواج کو بے لکھا معاہدہ مان کر مثل قانون نافذ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جس سوسائٹی کے رواج کو ہم یہ حیثیت دے رہے ہیں کیا وہ ایک متقی سوسائٹی ہے؟ اور کیا اس کے رواج شریعت کی روح اور اس کے اصولوں کی پیروی میں پیدا ہوئے ہیں؟ اگر تحقیق سے اس کا جواب نفی میں ملے تو اس قاعدے کو مثل قانون جاری کرنا عدل نہیں بلکہ قطعاً ایک نا انصافی ہے۔ اور ظلم کی اس چکی میں سب سے پہلے وہ مرد پستا ہے کہ جو مہر موخر کے تحت نکاح کی حامی بھرتا ہے۔ یہ نظریہ اس دلیل پر مبنی ہے کہ مہر کو موخر کرنے سے شوہر پر ہمیشہ ہی مالی بوجھ رہتا ہے، دوسرا یہ کہ طلاق کی وجہ سے مہر ادا کرنا ضروری ہے جو کہ مرد کو اس کی حیثیت سے بڑھ کر دینا دوبارہ سے ایک اور بوجھ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ قرآن واضح طور پر مہر کے حق میں یا اس کے خلاف نہیں بولتا۔ تاہم، ایسی آیات ہیں جو اپنے وعدوں اور وعدوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر بحث کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سورہ المائدہ میں ارشاد ہے : ”اے ایمان والو، تمام معاہدوں کو پورا کرو۔“ ( 5 : 1 )۔ اس میں میاں بیوی کے درمیان موخر مہر کی ادائیگی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، نبی کریم ﷺ نے خود اپنی بیوی کی عزت اور دیکھ بھال کے لیے ایک منصفانہ اور معقول مہر کی ادائیگی کی ترغیب دی۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا مہر کم ہو اور آسانی سے حاصل ہو“ (سنن ابن ماجہ)۔ پھر فرمایا۔ ”بہترین مہر وہ ہے جو دینے والے کے پاس ہو۔“ (الترمذی۔ 2 )۔ پھر فرمایا گیا کہ ”بہترین مہر وہ ہے جو شوہر کے لیے آسان ہو“۔ (ابو داؤد)۔
علاوہ ازیں اگر اسلام نے مہر کو حق زوجیت کی تکمیل اور نکاح سے جوڑا ہے تو اس کی ادائیگی کو خاوند کی موت یا نکاح کے اختتام کے ساتھ ہی حتمی طور پر کیوں مشروط کر دیا گیا ہے؟ پاکستانی قانون میں اس کی دلیل طلاق یا شوہر کی موت کی صورت میں خواتین کو مالی تحفظ فراہم کرنے کا ایک ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اور اسے اسلامی عقد نکاح میں ایک جائز عمل تو سمجھا جاتا ہے مگر اسلام کی روح کے خلاف عمل اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ مہر کا تعلق نکاح سے ہے نہ کہ طلاق سے۔ دوسرا یہ کہ خاوند کی وفات کے بعد اس کی جائیداد میں بیوی کا حصہ اور خاوند کے خاندان پر اس بیوہ کی کم از کم ایک سال کی دیکھ بھال اور کفالت کی ذمہ داری درحقیقت اس عورت کو مالی تحفظ فراہم کرتا ہے نہ کہ مہر کی ادائیگی کی ادائیگی معاشرے کے حوالے کرنا۔ ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جس سوسائٹی کا عرف اتنا بگڑ چکا ہو اور جس کے رواج نے شریعت کے احکام اور اس کی روح کے بالکل خلاف صورتیں اختیار کرلی ہوں۔ اس کے عرف و رواج کو ازروئے شریعت جائز قرار دینا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورت کو اس کا مہر دیا جائے تو اس پر ظلم نہ کیا جائے۔“ (سنن ابو داؤد، کتاب نکاح، حدیث 2182 )۔ ( تاخیر اسی ظلم کی ایک صورت ہے )۔ حدیث میں بیان ہوا ہے کہ۔ :ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غنی کا (قرض کی ادائیگی میں ) تاخیر کرنا ظلم ہے۔ (صحیح بخاری: 2287 )
اسی طرح مرد کی مالی حیثیت سے زیادہ مہر کا مقرر کر کے اس کا بوجھ التواء کی صورت میں اس پر ڈالے رکھنا کس طرح منصفانہ عمل تصور کیا جائے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! ”بہترین مہر وہ ہے جو دونوں فریقوں کو مطمئن کرے۔“ (سنن ابن ماجہ)۔ پھر فرمایا گیا کہ ”بہترین مہر وہ ہے جو شوہر کے لیے آسان ہو“۔ (ابو داؤد)۔ مزید فرمایا! ”بہترین مہر وہ ہے جو خوش دلی سے دیا جائے۔ (الترمذی)۔ التوائے مہر کی عمر بھر عدم ادائیگی خواتین کے حقوق پر بھی اہم اثرات مرتب کرتا ہے اور میاں بیوی کے رشتے پر بھی۔ اکثر کیسزز میں عورتیں مہر کے التواء کے انتظامات پر راضی ہونے کا جواز یہ دیتی ہیں کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا ہے، انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ راضی نہ ہوں، تو وہ شادی بالکل نہیں ہو پائے گی۔ اور بعد میں اپنے حق کے تقاضا کی صورت میں انہیں طلاق بھی ہو سکتی ہے۔ حالانکہ ان تمام صورتوں میں خاوند جو کہ بیوی کا مقروض ہوتا ہے اس کے بارے میں نبی کریمﷺ کی وعید اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ :ترجمہ:“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی ﷺ سے ایک شخص نے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور اس نے سختی سے بات کی تو اصحاب کرام نے اس (کو مارنے یا ڈانٹنے) کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق دار کو سختی سے بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
پاکستان 2021 انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق 80 فیصد نکاح ایسے ہوتے ہیں جن میں فقط معجل ادا کر کے غیر معجل ادا نہیں کیا جاتا۔ زر مہر کی مقدار مقرر کرنے میں اکثر جو چیز لوگوں کے پیش نظر ہوتی ہے وہ صرف یہ کہ اسے طلاق کی روک تھام کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس بات کی کوئی پروا نہیں کی گئی کہ جس شریعت کی رو سے عورتیں ان مردوں پر حلال کرتے ہیں وہ مہر کو حق زوجیت کا معاوضہ قرار دیتی ہے اور اگر معاوضہ ادا کرنے کی نیت نہ ہو تو خدا کے نزدیک عورت مرد پر حلال ہی نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے کہ جس نے مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ وہ اس مہر کو اسے ادا نہ کرے گا، وہ دراصل زانی ہے۔
مجموعی طور پر، قرآن اور حدیث مہر کی ادائیگی سمیت شادی میں مرد اور خواتین کے حقوق کی تکمیل کے خیال کو فروغ دیتا ہے، اور اس سلسلے میں خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کی نا انصافی یا نا انصافی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ موخر مہر، مالی عدم تحفظ، بدسلوکی اور خواتین کے وقار اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ عمل انصاف اور مساوات کے اسلامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ مہر التواء کے رواج کو ختم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خواتین کو ان کا مہر شادی پر یا اس کے فوراً بعد ادا کیا جائے اور اس کی مقدار اتنی ہو کہ مرد اپنی حیثیت کے مطابق فوراً ادا کر سکے۔


