برطانوی ہند سے تارکین وطن کینیڈا لانے والا جہاز “کوما گاتوہ مارو“ اور تحریک آزادی
ہانگ کانگ سے روانہ ہو کے شنگھائی اور یوکوہاما رکتا ہوا چارٹرڈ جاپانی بحری جہاز ”کوما گاتوہ مارو“ وینکوؤر، کینیڈا کی بندرگاہ سے باہر ہی روک لیا گیا تھا۔ اس پہ برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب سے تین سو چالیس سکھوں، چوبیس مسلمانوں اور بارہ ہندؤوں پہ مشتمل کل تین سو چھہتر غیر قانونی تارکین وطن، کینیڈا منتقل ہونے آئے تھے۔
کینیڈا کے مغربی ساحل پر تارکین وطن کی آمد اٹھارہ سو اکاون میں شروع ہوئی جب ریلوے لائن کی دشوار گزار راستوں، جنگلوں میں تعمیر کے لئے نسبتاً آدھے یا تہائی معاوضہ پر چینی مزدور ہزاروں کی تعداد میں لائے گئے۔ ریلوے کا کام مکمل ہونے کے باوجود مزید مزدوروں کی آمد کا سلسلہ رک نہ سکا اور حکومتی سیاسی کاروباری اور عوامی حلقوں کی مخالفت اور نسلی، مذہبی، تعصب کو ہوا دیتے ان کی آمد روکنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوتے اٹھارہ سو پچاسی میں فی فرد بھاری ہیڈ ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ اسی تعصب کے ماحول میں میں اٹھارہ سو ستانوے میں حوالدار میجر کیسر سنگھ پہلا ہندوستانی یہاں آباد ہونے میں کامیاب ہوا۔ برطانوی نوآبادیاں ہوتے کوئی قدغن نہ تھی۔ چند ہی سالوں میں یہ تعداد ہزاروں میں جا پہنچی۔ زیادہ تر پنجابی اور سکھ تھے جو جنگلات لکڑیوں کے کاروبار، دریائی ترسیل، فیکٹریوں، معدنیات اور ہر ممکن جگہ بہت کم معاوضہ پہ کام کرنے لگے۔ اب تعصب اور نفرت ہر حلقہ اور ہر شعبہ زندگی کی طرف سے کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ انیس سو سات میں وینکوؤر میں دس ہزار افراد کے مجمع اور جلوس نے ایشیائی آباد کاروں پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ نسلی فسادات بھی ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں برطانوی ہند سے آنے والوں پر دو سو ڈالر زاد راہ کے علاوہ ہندوستانی پیدائش یا شہریت کے ثبوت اور ہندوستان سے ہی خریدے ٹکٹ کے ساتھ ہندوستانی بندر گاہ سے روانہ ہونے والے اور راہ میں بغیر کسی اور بندر گاہ میں رکے کینیڈا پہنچنے کی شرط عائد کر دی گئی۔ گویا عملاً مکمل پابندی لگ گئی۔ کیونکہ رستہ میں دو تین سٹاپ لئے بغیر اس وقت تک اتنا سفر ممکن نہ تھا۔

( تعصب کی انتہا کہ یورپ سے آنے والوں کو ہر سہولت مہیا تھی۔ کوئی شرط نہ تھی۔ ان کے لئے زاد راہ بھی صرف پچیس ڈالر تھی۔ انیس سو تیرہ میں ہی یورپ سے چار لاکھ کے قریب تارکین وطن کینیڈا آ بسے تھے جو آج تک کی یورپ سے آنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے ) ۔ انیس سو تیرہ میں جاپان کے راستے غیر قانونی داخل ہونے والے اڑتیس آبادکاروں نے قانون کے خلاف اپیل کردی۔ اسی دوران وینکوؤر کینیڈا اور کیلیفورنیا امریکہ میں ہندوستانی آباد کار آزادیٔ ہند کے لئے خالصہ ایسوسی ایشن کے جھنڈے تلے تحریک شروع کر چکے تھے۔ یہ تحریک آزادی ”غدر تحریک“ کے نام سے مقبول ہونے لگ گئی۔ برکت اللہ، سردار سوہن سنگھ پاٹھک، حسین رحیم، گیانی بھگوان سنگھ وغیرہ اور امریکہ سے بھگت سنگھ ٹھنڈ، مشہور سکالر اور مقرر، سرغنہ تھے اور ان کے جلسے جلوس بیانات وغیرہ ہندوستان کی آزادی کے مطالبہ کو آگے بڑھا رہے تھے۔ اب یہ اس اپیل کے حق میں کھڑے تھے۔ قانون کے الفاظ میں کچھ سقم کی وجہ سے یہ اپیل منظور ہوئی اور اپیل کنند گان کو رہائش کا حق مل گیا۔
ہانگ کانگ کا معروف بہت بڑا کاروباری گوردت سنگھ سندھو سرہالی، انیس سو چھ سے نقل وطن کے کاروبار میں تھا۔ اس اپیل کی منظوری کی اطلاع ملتے ہی تین ہزار ٹن کا بحری جہاز چارٹر کر چکا تھا۔ (اس دوران اسے علم ہو چکا تھا کہ وینکوؤر میں اس قانون کے سقم کو دور کیا جا چکا ہے اور اب داخلہ پکا ممنوع ہو چکا۔ ) اور مسافروں کی بکنگ کر چکا تھا۔ غالباً یہ تمام پنجابی تارک وطن کلکتہ کے راستے ہانگ کانگ اور شنگھائی پہنچائے گئے تھے یا پہلے سے وہاں بستے تھے۔ چار اپریل کو ہانگ کانگ سے ایک سو پینسٹھ، اٹھارہ اپریل کو شنگھائی سے دو سو گیارہ مسافر لئے، اور پندرہ سو ٹن کوئلہ لاد کر، یوکوہاما ( جاپان ) رکتا، یہ بحری جہاز تین مئی کو وہاں سے روانہ ہو تئیس مئی انیس سو چودہ کو وینکوؤر بندرگاہ کے داخلی تنگنائے برارڈ میں روکا جا چکا تھا۔ ادھر مسافروں سے توہین آمیز سلوک شروع تھا۔ وہ جہاز میں محدود اور خوراک اور پانی تک کی قلت کا شکار، لنگر انداز ہونے کی اجازت میں لیت و لعل اور بعض اوقات دن میں ایک مرتبہ کھانا مہیا کیا جاتا۔ بعد میں غدر رہنما آباد کاروں کے چندہ سے ممکن حد تک خوراک اور اشیاء مہیا کرتے۔

شہر میں ہندوستانیوں اور ان مسافروں کے خلاف جلسے جلوس، اور غدر تحریک یا خالصہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جہاز کے مسافروں کے حق میں تحریک اور اور احتجاج شروع تھا۔ بائیس ہزار ڈالر چندہ اکٹھا کیا۔ جہاز کو مسافروں سمیت واپس جانے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ ایجنسیوں کے ایجنٹوں نے مسافروں کو غدر تحریک کا رکن قرار دے کر نفرت کی آگ مزید بھڑکا دی۔ ادھر تحریک والے مسافر منشی سنگھ کے ذریعہ آباد عدالت میں اپیل دائر کر چکے تھے جو رد ہوئی۔ جہاز کو کھلے سمندر میں بھیجا اور بحریہ کے جہاز رین بو کو کوما گاتوہ مارو کو حدود سے باہر نکالنے کا حکم ملا جس پر مشتعل مسافروں نے کوئلے راکھ اور اینٹوں وغیرہ کی بارش کر دی اور رین بو کو واپس آنا پڑا۔ مذاکرات میں بیس مسافروں کو داخلے کی اجازت مل گئی جو پہلے کینیڈا کا چکر لگا چکے تھے۔ اور بالآخر ایک برطانوی فوجی رجمنٹ اور بحریہ کے جہاز کی کارروائی کے بعد چودہ جولائی انیس سو چودہ یہ واپس کلکتہ کے لئے روانہ کر دیا گیا۔ تارکین وطن کو برطانوی افسر ہاپکنز کے لئے دو ہندستانیوں پر جہاز کے مسافروں کی جاسوسی کرنے کا کا شک تھا۔ وہ بھی نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے اور ہاپکنز بھی احاطۂ عدالت میں گولی کا شکار ہوا۔ یوں اس جہاز کے مسافر تحریک آزادیٔ ہند کے کارکن شمار ہونے لگے۔
ستائیس دسمبر کا کوما گاتوہ مارو کلکتہ پہنچا تو جہاز اور مسافروں کو غدر تحریک کا رکن اور باغی قرار دیتے برطانوی بحریہ کچھ دور بج بج میں محبوس کر دیا۔ پولیس مسافروں کے لیڈر بابا گور دت سنگھ اور ساتھیوں کو گرفتار کرنے پہنچی تو مزاحمت شروع ہو گئی ایک مسافر کے پولیس افسر پر ہاتھ اٹھانے سے فائرنگ شروع کر دی گئی انیس مسافر مارے گئے۔ گور دت سنگھ کے علاوہ بہت سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ باقیوں کو پکڑ کر پنجاب ان کے گاؤں بھجوا دیا گیا اور جنگ عظیم اول کے خاتمہ تک انہیں گاؤں سے باہر نہ جانے کا پابند کر دیا گیا۔ گوردت سنگھ انیس سو بائیس تک روپوش رہا۔ پھر گاندھی جی کی ترغیب پر سرنڈر کر دیا اور پانچ برس قید کی سزا پائی۔ اس سانحہ نے امریکہ کینیڈا میں غدر تحریک کو بہت تقویت پہنچائی۔ اور یہ غیر قانونی تارکین وطن بھی تحریک آزادیٔ ہند کے ابتدائی دور کے مجاہد قرار پائے۔ غالباً پاکستان کی حد تک امریکا و کینیڈا میں چلنے والی آزادی کی اس غدر تحریک کا کسی کو کوئی پتہ تک نہیں۔

کینیڈا میں پنجابی سکھوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے ہوتے اب دو فیصد سے زائد آبادی، کوئی آٹھ لاکھ سکھ آباد ہیں۔ وینکوؤر، کیلگری، ایڈمنٹن اور برامپٹن کے شہر ان کے گڑھ ہیں۔ سیاست میں بھی ان کا دخل اور اثر بڑھ چکا۔ میونسپل لیول سے صوبائی اور مرکزی پارلیمنٹ میں ان کے بہت سے نمائندے پہنچتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی کابینہ میں ان کی موثر نمائندگی ہوتی ہے اور حکومتیں ان کا خصوصی خیال رکھنے پہ مجبور ہیں۔
اگلی تین چار دہائیوں تک اس سانحہ اور غدر تحریک کا ذکر کچھ بھول چکا سا رہا۔ مگر سکھ کمیونٹی نے سانحۂ کوما گاتوہ مارو کو تاریخ کی گرد میں چھپنے نہیں دیا۔ ساٹھ کی دہائی سے اسے زور شور سے اٹھایا جانا شروع ہے۔ ان شہروں خصوصاً وینکوؤر میں جگہ جگہ گورو دواروں یا اہم جگہوں پر اس سانحہ کی تفصیل لکھے یادگاری کتبے، یادگاریں اور مجسمے نصب ہیں۔ عجائب گھر اور لائبریریاں بن چکیں سیمینار اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور سالگرہ منائی جاتی ہے۔ کینیڈا اور امریکہ اور ہندوستان میں بہت سی فلمیں اور ڈرامے اس سانحہ پر بن چکیں۔ بے شمار ناول کہانیاں اور افسانے اس سے جڑے مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے۔ حکومت ان کے مطالبات اور تحریکوں سے اتنی مجبور ہو چکی کہ کئی شہروں کی انتظامیہ سے بڑھتے وزیر اعظم ہارپر اور بعد میں جسٹن ٹر وڈیو بھی سرکاری طور پر حکومت کینیڈا کی جانب سے سکھ قوم سے اس زیادتی پر پبلک اور پارلیمنٹ میں معافی مانگ چکے حتی کہ برامپٹن سے لبرل ممبر پارلیمنٹ روبی ڈھالہ اڑھائی ملین ڈالر کی رقم اس سانحہ کی یادگاریں اور ادارے وغیرہ کے لئے منظور کرا چکیں۔ غدر تحریک میں اور جہاز کے مسافروں میں پنجابی مسلمانوں کا نمایاں حصہ رہا مگر نہ کینیڈا کی مسلم آبادی نہ پاکستان میں اس کا پتہ۔
سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو فوجی رجمنٹ اس جہاز کو ملکی حدود سے باہر نکالنے پر مامور ہوئی، اس کی کمان پنجاب میں پیدا ہونے والا کینیڈین فوجی لیفٹیننٹ کرنل ہرجیت سجن دو ہزار گیارہ سے چودہ تک (گویا سوویں سالگرہ تک) کرتا رہا۔ یہی ہرجیت سجن دو ہزار پندرہ سے اکیس تک کینیڈا کا وزیر دفاع رہا اور آج کل کسی محکمہ کا وزیر ہے۔ قدرت کے رنگ نرالے۔



