امیگریشن اینڈ پاسپورٹ آفس، میران شاہ


کچھ ہفتے پہلے میں نے اپنے رشتہ دار کا پاسپورٹ لینے میرانشاہ گیا۔ آپ لوگ تو جانتے ہو گے ٹل اور میران شاہ روڈ کا کیا حال ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹ اور تلاشی۔ خیر اس پر پھر کبھی بات کرے گے پوسٹ کے مقصد پر آتے ہے۔ جو امیگریشن اور پاسپورٹ آفس میں ہوا۔

بہت رش تھا دو تین لائن بنے ہوئے تھے کوئی نیا پاسپورٹ بنا رہا تھا کسی کے پاسپورٹ میں نام غلط تھا کوئی بنایا ہوا پاسپورٹ لے رہا تھا۔ میں بھی پاسپورٹ لینے کے لائن میں کھڑا ہوا جو باہر چھوٹی سی کھڑکی میں بنایا ہوا پاسپورٹ دیا جاتا تھا۔ جب میری باری آئی۔ میں نے اپنے رشتہ دار کا پاسپورٹ ٹوکن دی، اس کا شناختی کارڈ کاپی اور پرانا پاسپورٹ بھی دکھایا۔ آفس والے نے پوچھا یہ بندہ آپ کا کیا لگتا ہے میں نے عاجزانہ الفاظ میں کہا ماموں ہے سر۔ اس نے کہا ہم کسی اور کو پاسپورٹ نہیں دے سکتے اس کا باپ یا بھائی نہ ہو ہم کسی اور رشتہ دار کو نہیں دے سکتے، ناراض نہیں ہونا، ہمیں اجازت نہیں ہے۔

میں نے وجہ پوچھی کہنے لگے ایسا بہت مسئلے پیش ہوئے تھے پتا نہیں کون کس کا پاسپورٹ لے کے گیا تھا کون کسی کا کہ یہ میرا فلاں رشتہ دار ہے۔ اس وجہ سے اب ہم اس بندے کا باپ یا بھائی نہ ہو، ہم کسی اور رشتہ دار کو پاسپورٹ نہیں دے سکتے۔ میں نے مہذب طریقے سے کہا کہ اس نے مجھے اپنا پرانا پاسپورٹ دیا ہے جو ابھی نیا بنوایا ہے، اپنا ٹوکن دیا ہے اور اپنا شناختی کارڈ کاپی بھی دی ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ثبوت دو؟ کوئی اور نہیں ہوں یہ میرا اپنا رشتہ دار ہے۔ یہ ابھی فتح جنگ میں ہے۔ بہت دور ہے اس لئے مجھے بھیجا گیا ہے۔ کوئی بات مان نہیں رہا تھا اور طرح طرح کے قانون کی باتیں کر رہا تھا۔ میں نے بھی مایوس ہو کر واپس اپنا راستہ اختیار کیا۔ اسی آفس کے باہر پولیس والا تھا جو ہمارے علاقے سے تعلق رکھتا تھا اور ہمارے رشتہ داروں کو جانتا تھا۔ حال احوال پوچھا۔ کیسے آنا ہوا تھا۔ میں بھی پریشان تھا۔ اپنا مسئلہ بتایا کہ ایسی ایسی بات ہے، پاسپورٹ نہیں دیتا۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے، بہت سادہ انسان ہو، تعلیم کتنی ہے؟ میں نے اپنی تعلیم بتائی کہ (بی ایس انگلش) کیا ہے۔

پولیس والے نے کہا یہ پاکستان ہے بیٹا ”ٹوکن میں دو یا تین سو پیسے فولڈ کر کے دے دو، آپ کا کام ہو جائے گا۔ یہ قائد اعظم آپ کا کام چلا لے گا، آپ کا جان پہچان قائد بھائی کر لے گا کہ پکا یہ عابد کا ماموں ہے۔ میں اس کو جانتا ہوں۔ میں نے کہا نہیں نہیں ایسا میں نہیں کر سکتا، یہ رشوت میں آتا ہے۔ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

پولیس والوں نے کہا نہیں یہ رشوت میں نہیں آتا۔ آپ کسی کا حق تو نہیں لے رہے، اپنے ماموں کا پاسپورٹ لے رہے ہوں۔ خیر مجھے ڈر لگ رہا تھا زندگی میں کسی کو ایسے پیسے نہیں دیے تھے۔ پولیس والوں نے کہا ڈرو مت، اگر ایسا ویسا کچھ کہا، میں ذمہ دار ہوں، مجھے الٹا ذبح کرو اگر کچھ ہوا۔ اس کو اچھے طرح سے جانتا ہوں۔ یہ دو ٹکے والے ہیں۔ یہ سب پیسے کے لیے کچھ بھی کرتے ہیں۔ پولیس والے نے ذمہ لے لیا۔ میں نے ٹوکن میں تین سو پیسے فولڈ کر کے دے دیا۔ پولیس والا آفس والے کو اشارہ کیا کہ پاسپورٹ دے دو۔ ٹوکن میں پیسے چپکے سے اپنے جیب میں رکھے اور مجھے پاسپورٹ دے دیا۔ مجھے ایسا بھی لگا کہ میرے ساتھ بہت اچھا کیا۔ اتنی دور سے پھر آنے سے بچا لیا۔ کلرک نے اپنا ضمیر، قانون، انسانیت تین سو پیسے میں بیچ دیے۔

Facebook Comments HS