عشق بیچارہ اور عقل عیار (6)


مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ( 30 ) سچا صوفی ایسا فرد ہے کہ اگر اس پر کوئی ناحق تہمت لگائے اور ہر سمت سے ملامت کی بوچھاڑ ہو، تب بھی وہ صبر کے ساتھ یہ سب جھیلتا ہے، تنقید کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔ وہ الزام کے جواب میں الزام نہیں لگاتا، کوئی اس کا مخالف اور دشمن حتیٰ کہ ”غیر“ ہو بھی کیسے سکتا ہے جب اس کے نزدیک کسی غیر کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ تو خود اپنے نفس سے معدوم ہے، چنانچہ وہ کس طرح کسی کو اپنا دشمن یا مخالف سمجھے جب وہاں صرف اور صرف ایک ہی واحد ذات کی جلوہ نمائی ہے؟

( 31 ) اگر تم اپنا ایمان مضبوط کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے تمہیں اپنے اندر کی سختی دور کرنا ہوگی، چٹان کی طرح مضبوط ایمان کے لئے کسی پرندے کے پروں سے بھی زیادہ نرم دل درکار ہے۔ زندگی میں بیماریاں، حادثات، نقصان، تمناؤں کا ٹوٹنا اور اس قسم کے کئی دیگر معاملات ہمارے ساتھ اسی لئے پیش آتے ہیں تاکہ ہمیں رقت قلب عطا کریں، ہمیں خود غرضیوں سے نکالیں نکتہ چینی کے رویے تبدیل کریں اور ہمیں کشادہ دلی سکھائیں۔ کچھ لوگ تو سبق سیکھ کر نرم ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ پہلے سے بھی زیادہ سخت مزاج اور تلخ ہو جاتے ہیں۔

حق تعالیٰ کے قریب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے قلوب اتنے کشادہ ہوں کہ پوری انسانیت اس میں سما سکے اور اس کے بعد بھی ان میں مزید محبت کی گنجائش باقی رہے۔ ( 32 ) کوئی امام، پادری، ربی اور اخلاقی و مذہبی قائدین میں سے کوئی بھی رب اور تمہارے بیچ حائل نہیں ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ تمہارا ایمان اور تمہارا روحانی مرشد بھی نہیں۔ اپنے اقدار اور اصولوں پر ضرور یقین رکھو لیکن ان کو دوسروں پر مسلط مت کرو۔ اگر تم لوگوں کے دلوں کو توڑتے رہتے ہو، تو کوئی بھی مذہبی فریضہ انجام دینا تمہارے لئے سود مند نہیں۔

ہر قسم کی بت پرستی سے دور رہو کیونکہ یہ تمہاری روحانی بینائی کو دھندلا دے گی۔ صرف اپنے رب کو مرشد حقیقی سمجھو۔ علم اور معرفت ضرور حاصل کرو لیکن ان علوم و معارف کو اپنی زندگی کا مقصد مت بناؤ۔ ( 33 ) اس دنیا میں جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی مقام پر پہنچنے اور کچھ نہ کچھ بننے کی جد و جہد کرتا ہے، حالانکہ یہ سب کچھ ایک دن یہیں چھوڑنا پڑے گا، ایسے میں تم صرف اور صرف نایافت اور نیستی کو اپنا مقصد قرار دو۔ زندگی میں اتنے سبک بن جاؤ جتنا کہ صفر کا ہندسہ ہوتا ہے۔

ہم برتن کی طرح ہیں، برتن پر خواہ کتنے ہی نقش و نگار کیوں نہ ہوں لیکن اس کا کارآمد ہونا صرف اس خلا کی وجہ سے ہے جو اس کے اندر ہے، یہ خلا ہی اسے برتن بناتا ہے اور یہی نایافت اور خلا ہمیں بھی درست رکھتے ہیں۔ کسی مقصد کا حصول ہمیں متحرک نہیں رکھتا بلکہ یہی خالی پن کا احساس ہمیں رواں دواں رکھتا ہے۔ ( 34 ) سر تسلیم خم کرنے اور راضی برضا رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے عمل ہو کر عضو معطل ہوجائیں اور نہ ہی یہ جبریت (Fatalism) یا تعطیل (Capitulation) ہے بلکہ یہ تو اس کے بالکل برعکس ہے۔

اصل قوت تسلیم و رضا ہے، ایسی قوت جو ہمارے اندر سے پھوٹتی ہے، وہ لوگ جو زندگی کی الوہی (Divine) حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں، وہ ایسے دائمی سکون میں رہتے ہیں کہ اگر سارا جہان موج در موج فتنوں میں مبتلا ہو جائے تب بھی اس سکون میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ ( 35 ) اس دنیا میں جہاں ہم رہ رہے ہیں، یکسانیت اور ہمواریت ہمیں آگے لے کر نہیں جاتی بلکہ مخالفت اور تضاد آگے لے کر جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی تضادات ہیں، وہ سب ہم میں سے ہر ایک کے اندر پائے جاتے ہیں۔

چنانچہ مومن کے لئے ضروری ہے کہ اندر کے کافر سے ضرور ملے۔ کافر کو بھی اپنے اندر کے خاموش مومن کو دریافت کرنا چاہیے۔ ایمان تدریجی سفر ہے جس کے لئے اس کے مخالف یعنی بے یقینی کا ہونا لازم ہے تاوقتیکہ انسان، انسان کامل کے مقام تک جا پہنچے۔ ( 36 ) دنیا عمل اور اس کے ردعمل کے اصول پر قائم ہے، نیکی کا قطرہ یا برائی کا ذرہ بھی اپنا ردعمل یا نتیجہ پیدا کیے بغیر نہیں رہتے۔ لوگوں کی سازشوں، دھوکہ دہی اور چالبازیوں کا خوف مت کھاؤ۔

اگر کوئی تمہارے لئے جال تیار کر رہا ہے تو یاد رکھو، اللہ بھی خیر الماکرین ہے۔ پتا بھی اس کے علم اور اجازت کے بغیر نہیں ہلتا۔ بس اللہ پر سادگی سے پوری طرح یقین رکھو۔ وہ جو کچھ بھی کرے، خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ( 37 ) خدا باریک بین اور بڑا ہی ماہر گھڑی ساز ہے۔ اتنا درست کہ زمین پر ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر وقوع پذیر ہوتی ہے، نہ ایک لمحہ وقت سے پہلے اور نہ ایک لمحہ تاخیر سے اور یہ عظیم گھڑی، بغیر کسی استثنا کے، سبھی کے لئے بالکل ٹھیک اور درست کام کرتی ہے، ہر ایک کے لئے محبت اور موت کا لمحہ مقرر ہے۔

( 38 ) کوئی حرج نہیں اگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہم اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں کہ ”کیا میں اپنا طرز زندگی اور اپنی روش بدلنے کے لئے تیار ہوں؟ کیا میں اپنا آپ بدلنے کے لئے تیار ہوں؟“ ۔ اگر دنیا میں ہماری زندگی کا ایک دن بھی گزرے ہوئے دن کے مساوی گزرے تو بڑی حسرت کا مقام ہے۔ ہر لمحہ، ہر آن، اور ہر سانس کے ساتھ ہمیں اپنی تجدید کرتے رہنا چاہیے، نیا جنم لیتے رہنا چاہیے اور نیا جنم لینے کے لئے ایک ہی طریقہ ہے۔

موت سے پہلے مر جانا۔ ( 39 ) جزو تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن اس کا کل ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے۔ دنیا سے جب بھی کوئی چور ڈاکو رخصت ہو، اس کی جگہ لینے کے لئے نیا شخص پیدا کر دیا جاتا ہے اور ہر صالح اور ولی کے رخصت ہونے پر کوئی دوسرا صالح اور ولی اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے۔ اس طریقے سے بیک وقت ہر شے تبدیل ہوتی جاتی ہے لیکن مجموعی حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ( 40 ) محبت کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔ مت سوچو کہ مجھے کس قسم کی محبت کی تلاش ہے؟

روحانی یا جسمانی، ملکوتی یا ناسوتی، مشرقی یا مغربی۔ محبت کی یہ تقسیم مزید تقسیم پیدا کرتی ہے۔ محبت کا کوئی عنوان ہے نہ کوئی مخصوص تعریف (Definition) ۔ یہ تو سادہ اور خالص چیز ہے بس۔ محبت آب حیات ہے اور آتش کی روح بھی۔ جب آتش آب سے محبت کرے، تو کائنات مختلف روپ اور نئے انداز میں ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔

مولانا جلا الدین رومیؒ نے عشق کے جو چالیس نرالے اصول وضع کیے، وہ بھی دراصل اسی عقل کی تخلیق ہیں جسے وہ ناقص کہہ کر ٹھکراتے ہیں اور وہ عشق کو شعور کے بغیر معقول مگر ماورائے ادراک بناتے ہیں حالانکہ اصول بجائے خود ایسی بنیادی سچائی یا تجویز ہے، جو عقیدے یا طرز عمل کے نظام یا استدلال کے سلسلے کی بنیاد کے طور پر کام کرتی ہے، یعنی اصول فی نفسہ عقل کی اولاد معنوی ہے، شاید اسی لئے پروفیسر احمد رفیق اختر کہتے ہیں رومیؒ صوفی نہیں بلکہ فلسفی تھے اور عشق کے چالیس اصولوں کو پڑھ کر یہی لگتا ہے کہ رومیؒ نے مذہب سے قطع نظر کر کے عشق کے تصور کو خالص فلسفیانہ اصولوں پہ استوار کیا۔

جس طرح کنفیوشس نے کہا تھا ”تصوف مذہب نہیں یہ محض اخلاق ہے اور اخلاق بھی ان عالی دماغ لوگوں کے لئے جنہیں اخلاق کی ضرورت ہی نہیں ہوتی لیکن مذہب اخلاق کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے اور اس چیز کے بغیر اخلاق ایسی آگ ہے جو دور ہونے کی وجہ سے اپنی حرارت تم تک نہیں پہنچا سکتا“ یعنی تصوف حرارت کے نشتر کو کند کر کے انسانوں کو بغاوت اور حریت کے جذبات سے محروم کر دیتا ہے۔ اس لئے مولنا رومیؒ کی عشق کی تمثیلی تعریف دراصل عقل، دین اور فطرت سے ماروا ایسا نرگسیت آمیز رومان ہے جس میں شریعت کی حدود اور نبوت کی پیروی کا شائبہ تک نہیں ملتا، یہی طریق ہمیں شاہ اسماعیل شہید کی کتاب عبقات میں بھی ملتا ہے، جو شریعت و سنت کو بائی پاس کر کے براہ راست اس مبدا فیاض سے فیض پانے کا دعوی کرتے ہیں جہاں سے نبیؑ فیضیاب ہوتے آئے، یہ تصوف کی وہ سیکولر اپروچ ہے جس کی اساس وحدت الوجود کے فلسفہ پہ رکھی گئی، اسی تصور سے مغلوب ہو کر منصور حلاج نے اناالحق کہہ کر اپنی ذات کو وجود باری تعالی کا جز تصور کر لیا تھا، تصوف کے اسی فلسفہ کو مشرق و مغرب کے سیکولر اور ہندو مواحد بھی قبول کرتے ہیں اور ایسے ہی خیالات کی بازگشت ہمیں بابا بھلے شاہ، سرمد، شاہ حسین اور خواجہ فرید کی شاعری میں ملتی ہے۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS