مسائل کا سامنا کرتے ہوئے اپنی سوچ بدلنا سیکھیں


زندگی قدرت کا سب سے خوبصورت اور انمول تحفہ ہے اور عطا کردہ نعمتوں، آسائشوں اور برکتوں کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ اپنی تخلیق کے اوائل سے ہی ہر انسان زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ اسی ضمن میں اکثر لوگ اپنی نیند اور آرام کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور نہ صرف سوتے بلکہ کھلی آنکھوں سے بھی خواب دیکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کے مقصد کو جان کر اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور مناسب لائحہ عمل تیار کرتے ہیں تاکہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔

دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا تہیہ کرتے ہیں تو کام کی شروعات میں بہت پرجوش ہوتے ہیں لیکن درپیش مسائل یا پہلی ناکامی یا اگر نتائج ویسے نہیں آتے جیسا کہ ہم نے سوچا ہوتا ہے تو ہمت ہار جاتے ہیں۔ سارا جوش جھاگ کی طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اکثر تو دل برداشتہ ہو کر اپنے خوابوں سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ کچھ لوگ محنت اور صعوبتوں کا سوچ کر ہی گھبرا جاتے ہیں اور اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو اپنی صلاحیتوں پر ہی بھروسا نہیں ہوتا لہذا وہ مشکل کام کو کرنے کا سوچتے ہی نہیں ہیں اور کوشش کرنے سے پہلے ہی جواب دے دیتے ہیں کہ ہم نہیں کر سکیں گے۔

ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اتار چڑھاؤ ’مشکلات‘ ناکامیاں ’پریشانیاں‘ دکھ ’تکالیف سب زندگی کا حصہ ہیں اور یہ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہمیں ہمارے رب کے قریب ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں ورنہ ہم تو اپنے خالق کو بھول جائیں‘ دعا مانگنے اور اس کو یاد کرنے کا خیال بھی چھو کر نہ گزرے۔

یہ حقیقت ہے کہ کئی بار زندگی ہمیں وہاں لا کر کھڑا کر دیتی ہے یا ایسی صورتحال سے دوچار کرتی ہے کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ پھر اس مقام پر ہم وہ سبق سیکھتے ہیں جو ہمیں کسی کتاب یا تعلیمی ادارے میں نہیں سکھایا جاتا۔ یہی وہ تجربات ہوتے ہیں جو ہمیں ماضی میں کی گئی غلطی کو دہرانے نہیں دیتے اور ہمیں کامیابی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔

ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ زندگی کا کوئی بھی معاملہ لے لیں اس میں اکثر ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم نے سوچا ہوتا ہے اور نہ نتائج ہماری مرضی کے مطابق ہوتے ہیں کیونکہ قدرت نے ہمارے لیے کچھ اور سوچا ہوتا ہے جو ہماری سوچ سے کہیں بہتر ہوتا ہے بے شک ہم اس کے رازوں کو نہیں جان سکتے۔ لیکن وقتی طور پر ہم پریشان ضرور ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں کوئی دوسرا در یا راستہ نظر نہیں آتا۔ ہم مایوسی کی حد کو پہنچ جاتے ہیں ’اپنی قسمت کو دوش دیتے ہیں‘ اپنے نصیب کو کوستے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو قدرت دوسرا اور بہتر دروازہ کھول دیتی ہے اور وہاں سے نوازتی ہے جہاں سے ہم توقع بھی نہیں کر سکتے۔

اس کائنات کو چلانے والا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور سب کام ویسے ہی انجام پاتے ہیں جیسا اس نے لکھا ہوا ہے ’پھر افسوس کس بات کا‘ ملال کیسا ’پھر دکھ یا پریشانی کیسی؟

جب بھی کوئی کام شروع کریں اس کی پوری جانچ پڑتال اور معلومات حاصل کریں ’تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کریں اور ہمیشہ متبادل منصوبہ تیار رکھیں تاکہ اگر ہمارا ایک منصوبہ ناکام ہو تو پلان بی تیار ہو۔

جب کوئی مشکل درپیش ہو یا حالات سمجھ سے باہر ہوں تو تھوڑا رک جائیں خود کو پرسکون کریں جیسے گاڑی گرمی میں مسلسل چلتی ہے تو اس کا انجن گرم ہو جاتا ہے اور اس کو ٹھنڈا کرنے لیے ہمیں گاڑی کو تھوڑے وقت کے لیے بند کرنا پڑتا ہے تاکہ انجن ٹھنڈا ہو جائے اکثر پانی وغیرہ بھی ڈالتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم انسانوں کو بھی آرام اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تازہ دم ہو کر ٹھنڈے دماغ سے سوچ سکیں۔ بدلتے حالات کے مطابق پھر سے اپنا لائحہ عمل تیار کر سکیں اس میں رد و بدل کر سکیں اور پھر سے اپنی بھرپور توانائیوں اور جذبوں کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر سکیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان مشکلات کا جو زندگی میں چار چاند لگاتی ہیں ان کا سامنا کیسے کرتے ہیں یا خود کو ان سے نمٹنے کے لیے کیسے تیار کرتے ہیں۔ یہاں پر ہماری سوچ آتی ہے جس کو ہم نے بدلنا ہے تاکہ ان درپیش مسائل کو ایک نئے عدسے یا ایک نئے زاویے سے دیکھ سکیں۔

مسائل کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہوتا ہے لیکن کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ان کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ ان مسائل کو اپنے لیے وسائل میں تبدیل کرتے ہیں۔ مشکل حالات سے باہر نکلنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ذہنی اور جسمانی مضبوطی حاصل ہو۔

قوت ارادی ’قوت برداشت اور مستقل مزاجی ہی انسان کو ایک دوسرے سے منفرد بناتی ہیں۔ اگر ہم مسائل کو اپنے دل و دماغ پر حاوی کر لیں تو کیا ہم ان کا بہتر حل نکال پائیں گے؟ ہرگز نہیں۔

جب ہم نے اس صورتحال کا ہر حال میں سامنا کرنا ہی ہے تو کیوں نہ ہم خندہ پیشانی سے سامنا کریں ’ٹھنڈے دماغ سے اس کا حل نکالیں۔ اس طرح ہماری ذہنی صحت بھی متاثر نہیں ہو گی اور نہ ہی ہم مایوسی‘ ڈپریشن ’غصہ‘ جھنجھلاہٹ وغیرہ کا شکار ہوں گے۔

خؤد کو ’اپنی سوچ کو قابو میں رکھنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے لیکن حالات و واقعات کو ہم کنٹرول نہیں کر سکتے ان کا صرف مثبت سوچ کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے بس دیکھنے کے زاویے کو بدلنا ہو گا۔

پریشان ہونا مسائل کا حل نہیں ہوتا نہ ہی ہمت و حوصلہ ہار دینا کوئی مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہی بہادری ہے اور اسی نقطہ نظر میں کامیابی کا راز چھپا ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہماری سوچ اور مسائل سے نمٹنے کا جوش ہی ہمارے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا ہمیں ہماری منزل تک لے جاتا ہے۔

لفظ کامیابی کا مفہوم سب کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ اس کو خود پر حاوی نہ کریں۔ ذہنی سکون اور اطمینان کے ساتھ مسائل کا بغور جائزہ لیں ان کا حل تلاش کریں۔ اپنی منزل کی طرف پہلا قدم اور مستقل مزاجی کے ساتھ پیش قدمی ہی اصل کامیابی ہے اسی طرح کسی بھی مشکل صورتحال سے نکلنا ہی ہماری فتح ہے۔

محنت کر کے اپنی منزل کی طرف بڑھنا جیت کی علامت ہے ’ہر ایک کے لیے کامیابی کی تعریف اور معنی مختلف ہیں اس کو دیکھنے کا زاویہ اور ماپنے کے ترازو منفرد ہیں لہذا کسی کی باتوں میں نہ آئیں اور نہ ہی کسی کی کامیابی یا پیش رفت سے دل برداشتہ ہوں۔ لوگوں کی نہیں اپنی پرواہ کریں۔ اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور زندگی میں شکرگزاری بڑھا دیں۔

Facebook Comments HS