انتخابات 2023ء: امکانات و خدشات


آج کل پاکستان کے عوام ایک دفعہ پھر انتخابات 2023ء کے انعقاد اور ملتوی ہونے کے ہیجان اور بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ اس وقت ملکی میڈیا پر انتخابات ایک گرما گرم موضوع ہے۔ جہاں وقت پر انتخابات کے انعقاد کے حق میں آراء، خواہشات اور دلائل موجود ہیں بین اسی طرح انتخابات کے التوا یا سرے سے انتخابات ہی نہ ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ انتخابات کا وقت پر ہو جانا ایک معمول کی بات ہے کہ اسمبلی کے پانچ سال مکمل ہونے پر آئین پاکستان کی رو سے 60 یا 90 دن کے اندر اندر غیر جانبدارانہ اور شفاف عام انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ البتہ انتخابات نہ ہونے یا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے اسباب و عوامل کا کھوج یا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔

پاکستان میں جو بھی خواتین و حضرات خواہ ان تعلق کسی پارٹی یا زندگی کے کسی بھی اور شعبہ سے ہو اور وہ یہ خدشات رکھتے ہوں کہ انتخابات کو کچھ ہو نہ جائے یا کوئی غیر سیاسی قوت مداخلت کر کے کچھ ایسا نہ دے یا ویسا نہ کر دے۔ ان کے دلائل دو یا تین مفروضوں کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ اول یہ کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ اسمبلی کے انتخابات چونکہ مقررہ مدت کے اندر نہ ہو سکے جو کہ ملکی آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور جو قوتیں ایک دفعہ کامیابی سے آئین کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں لہذا وہ ملکی آئین اور ایک دفعہ پھر روند کر عام انتخابات کو بھی سبوتاژ یا ملتوی کر سکتی ہیں۔ دوسرا مفروضہ خاصا دلچسپ ہے کہ عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت روز افزوں آسمانوں کو چھو رہی ہے اس لیے حکومت وقت عام انتخابات میں شکست کے خوف سے دو چار ہے اور انتخابات کے انعقاد سے گریزاں یا بھاگ رہی ہے۔ تیسرے مفروضے کی اساس یہ ہے کہ غیر سیاسی طاقتیں چونکہ انتخابات کے حق میں نہیں اس لیے کوئی بڑا واقعہ یا حادثہ ڈیزائین کر کے انتخابات کو غیر معینہ یا ایک طویل عرصہ کے لیے انتخابات کو موخر کیا جا سکتا ہے اور وہ بڑا حادثہ چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری یا قید و بند سے متعلق ہو سکتا ہے۔

اب ہم مذکورہ مفروضوں کا ترتیب وار منطقی، مادی اور زمینی تقاضوں کی روشنی میں تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں کتنا وزن اور دم ہے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی منہدم شدہ اسمبلیوں کے انتخابات آئین کی طے کردہ مدت کے اندر منعقد نہ ہو سکے۔ حکومت وقت یعنی پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت اور انتظامیہ کی محض خواہش یہی تھی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہیں لہذا حکومت وقت نے الیکشن فنڈز کی کمی، سیکورٹی فورس کی عدم دستیابی، معیشت کی بدحالی اور اسمبلیوں کے انہدام کے طریقہ کار پر شکوک کھڑے کر بہرحال الیکشن کا انعقاد کو ٹال مٹول کرنے میں کامیاب رہی۔ ماہ اگست میں اسمبلیوں کی آئینی مدت ختم ہونے جا ر رہی ہے مگر اس دفعہ حکومت وقت یا نگران حکومت یا الیکشن کمیشن کے پاس الیکشن نہ کروانے یا ملتوی کرنے کا کوئی آئینی یا مناسب اخلاقی جواز نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کی جماعتیں اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ 1973ء کے آئین میں پناہ لی ہے۔ اگر اس دفعہ آئین سے روگردانی کی گئی تو یہ آئین کی پامالی ہو یا نہ ہو مگر یہ بڑی پارٹیاں پھر آئینی تحفظ سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ ہماری ناچیز رائے ہے کہ مذکورہ پارٹیاں اپنی آخری پناہ گاہ یعنی آئین کے وقار کو ملحوظ رکھیں گی اور وقت پر الیکشن کروانے پر ہی اتفاق کریں گی۔

تحریک انصاف کی گورنمنٹ 10 اپریل 2022ء کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ختم ہو گئی۔ اس وقت پارٹی کی مقبولیت کی حالت خاصی پتلی تھی۔ اس کے بعد ایسا کیا ہوا کہ تحریک انصاف مقبولیت کی بلندیوں چھونے لگی۔ اس ضمن میں دو باتیں تکرار کے ساتھ میڈیا پر ہوئیں ایک یہ کہ پی ڈی ایم کی گورنمنٹ کی طرف کی کی جانے والی مہنگائی اور دوسری یہ کہ تحریک انصاف سے عوامی ہمدردی کا اظہار کیونکہ تحریک انصاف کی گورنمنٹ کو غیر قانونی طریقے یا غیر ملکی مداخلت کے ذریعے نکال باہر کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ دنیائے سیاست طاقت کا کھیل ہوا کرتا ہے اس میں بھائی چارے اور ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی۔ سیاست کا ایک اور خاصا بھی ہے کہ مخالف فرد یا پارٹی کی غلطیاں یا خامیاں دوسرے فریق کی مقبولیت کا باعث نہیں ہوا کرتیں البتہ حاصل شدہ ووٹوں کی تعداد میں چند سو یا چند ہزار کا ہیر پھیر ہو سکتا ہے۔ دنیا جہان کی سیاسی پارٹیاں اور افراد اپنے سیاسی پروگرام، درست عوامی حق کے فیصلوں اور اعلیٰ کارکردگی یا بہتر گورنس کے ذریعے سے مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ تحریک انصاف تو ڈھنگ کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیاں بھی نہ توڑ سکی۔ عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے 9 مئی کو ایک عام آدمی بھی سڑک پر نہ آیا البتہ چند سو پارٹی کارکنان سڑکوں پر نکلے وہ بھی اس دھج سے کہ پوری پارٹی ہی تتر بتر کروا لی۔ آج خان صاحب کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا پر خان صاحب کے ”اہم خطابات“ کو سننے والوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 10 لاکھ تک کی ہے جبکہ صرف پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کی تعداد لگ بھگ 12 کروڑ ہے۔

پاکستان میں کسی بھی انتخابی حلقے میں مقبول ترین پارٹی کا ووٹ بھی 20 سے 30 ہزار تک کا ہوتا ہے باقی کے ووٹ امیدوار برادری، علاقائی گروہ بندیوں اور مختلف طرح کے لین دین کی بنیاد پر کرتے ہیں تب کہیں جا کر ایک لاکھ کے لگ بھگ ووٹ اکٹھے ہوتے ہیں اور سیٹ نکلتی ہے۔ اکثریت مضبوط امیدوار یعنی (Electables) تحریک انصاف کو الوداع کہہ چکے۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف اپنے نظریاتی کارکنان کو ہی الیکشن ٹکٹ دینے پر مجبور ہو گی۔ ان پارٹی کارکنان کو زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 ہزار ووٹ مل ہی جائیں گے لیکن اس تعداد سے سیٹ نہیں جیتی جا سکتی۔

پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی جیسی تجربہ کار سیاسی پارٹیاں تحریک انصاف کی اس زبانی کلامی مقبولیت سے ڈر کر الیکشن سے فرار حاصل کر لیں گی اس کا تصور بھی محال ہے۔ تحریک انصاف کی حالیہ ٹوٹ پھوٹ سے اس وقت کی تمام حکومتی پارٹیاں اپنے اپنے سیاسی حصے اور جثے کو وسیع کرنے کی کوشش کریں گی اور الیکشن سے بہتر موقع بھلا کیا ہو سکتا ہے۔

خدا نا خواستہ کوئی بڑا واقعہ یا حادثہ الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ ماضی قریب میں الیکشن کے موقع پر بینظیر بھٹو کی ناگہانی شہادت کا ایک بڑا حادثہ تھا لیکن اس کے باوجود الیکشن محض 6 ہفتوں کے لیے ہی موخر ہوا تھا۔

دنیا بھر میں نگران یا غیر منتخب حکومتیں کوئی پذیرائی کی نظر سے نہیں دیکھیں جاتیں۔ بحیثیت ریاست پاکستان موجودہ معاشی و عالمی حالات کے پیش نظر کسی غیر منتخب یا غیر آئینی حکومت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں سیاست کے طالب علم کے طور پر ہم جنرل الیکشن کو 2023ء میں ہی ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS