میمز کا کلچر


جب ہم چھوٹے تھے، یعنی کہ تھوڑے تھوڑے بڑے ہو رہے تھے، نئی چیزیں اچھی لگتی تھیں، ٹرینڈز فالو کر کے خود کو ماڈرن سمجھنے لگتے تھے۔

تب اگر کسی ایسے صاحب یا صاحبہ سے ٹکراؤ ہوجاتا، جو اپنی بات کا آغاز ایسے شروع کرتے کہ
ہمارے زمانے میں۔ ۔ ۔
یا
آج کل کے بچے تو۔ ۔ ۔

تب ایسے جملے سن کر ہماری کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح اس جگہ سے ہم نکل جائیں۔ مگر آج میں بھی کچھ مجبور ہوں اس طرح کے جملے بولنے پر۔ ۔ ۔

چلیں رہنے دیں، کچھ اور بات کرتے ہیں۔

جب جب میں فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی میم دیکھتی ہوں تو یہی سوچتی ہوں کہ ہمارے نوجوان کتنے ذہین ہیں، ہوشیار ہیں کہ کسی بھی بات میں سے مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں۔

مگر یوں لگنے لگا ہے کہ کچھ عرصے سے بات ہاتھوں سے نکل رہی ہے اور میمز کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے ہمارے بچے کسی بھی چیز کو لے کر اس کا مذاق، اوہ میرا مطلب اس پر میم بنا دیتے ہیں اور اگر کوئی اس میں کسی خامی کی طرف متوجہ کروائے تو

My life my rules!
جیسے جملے کہہ کر کندھے جھٹک دیتے ہیں۔

جیسے ابھی پچھلے دنوں نظر سے بہت سی ریلز ایسی گزریں جس میں کسی بھی چیز کی وڈیو پر، علی ظفر کا بلغ العلی بکمالہ یا سمیع یوسف کا رحمتہ اللعالمین یا پھر یا نبی سلام علیک لگا ہوا تھا۔ تو میرا سوال ان میمرز یا ان چیزوں کو شیئر کرنے والوں سے ہے کہ کیا واقعی آپ لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ یہ جو آپ نے لگایا ہے یہ کیا ہے یا کس ہستی کے لیے ہے؟ ان جیسے کلاموں کو تو پڑھنے کے بھی آداب ہوتے ہیں، تو ہم کیسے کسی ایسی اعلیٰ مقام و مرتبہ والی شخصیت کے لیے لکھے گئے کلام ایسے ہی کسی بھی چیز میں استعمال کر سکتے ہیں

یا صرف ٹرینڈنگ کی وجہ سے لگا دیا؟

بڑوں کا کچھ احترام ہوتا ہے، اور پھر ایسی ہستی جن کا کوئی ثانی نہیں، جن پر اللہ اور ان کے فرشتے بھی درود اور سلام بھیجتے ہیں ان کا نام آپ کس طرح استعمال کر رہے ہو؟

اس کے علاوہ ابھی آبدوز ڈوبنے کا افسوس ناک واقعہ ہوا، اس کو لے کر بھی مختلف میمز سامنے آئیں اور شیئر کرنے والوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ واقعہ سیکھنے کے لیے تھا نہ کہ مذاق بنانے! کے لیے۔

بوڑھے لوگوں کا، کم صورت والوں کا، ان پڑھوں کا، دیہاتیوں کا، ایک علاقے والے دوسرے علاقے والوں کا، قائد اعظم کا علامہ اقبال کا، دوسرے مسالک کا، حتی کہ دجال اور قیامت تک ہم نے کسی کو نہیں چھوڑا۔

مذاق سب کو اچھا لگتا ہے مگر اس کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔

اور انسان باشعور تبھی ثابت ہوتا ہے جب وہ اپنے ہر عمل سے پہلے خود کو پرکھے پھر چاہے وہ مزاح کی بات ہی کیوں نہ ہو! ورنہ دوسرے لوگوں کا مذاق بنا کر، مینٹل ہیلتھ کے بارے میں آگاہی پھیلانا بے معنی ہو گا!

تو میرے نوجوانوں! کسی کو خوش کرنا، مسکراہٹ بانٹنا اچھی بات ہے،
مگر اس قیمت پر کہ لازماً باقی لوگوں کو دل دکھے، کوئی اچھا سودا تو نہیں۔
بس آخر میں معین نظامی کا یہ شعر ہی کافی ہو گا۔

اس طرح کی باتوں میں احتیاط کرتے ہیں
اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں

Facebook Comments HS