بزرگ کی تبلیغ


مصروفیت کی بنا پر عصر کی نماز میں تاخیر ہوئی، قریباً شام کے وقت مسجد پہنچا، نیت باندھی اور جلدی سے چار رکعت نماز ادا کی۔ نماز عصر کے بعد مسنون تسبیح کر رہا تھا اور ساتھ ہی سامنے بیٹھے دو نورانی چہرے والے سفید ریش بزرگوں کی گفتگو سن رہا تھا؛ ایک بزرگ دوسرے کو کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا معنی و مفہوم اور مقصد سمجھا رہے تھے۔ سبحان اللہ! زرد چادر اوڑھے بزرگ شاید تبلیغی جماعت کے ساتھی تھے، ان کا اردو لہجہ قدر کمزور تھا یا شاید طویل عمری کے باعث الفاظ کی ادائیگی میں مشکل تھی۔ ایک بزرگ کا محبت بھرے کلمات بولنا اور دوسرے بزرگ کا محبت سے سننا دل کو ایسا بھایا کہ باوجود ضروری کام کے وہیں بیٹھا رہا۔

کہہ رہے تھے بھائی صاحب، اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی دونوں جہانوں کی کامیابی پورے کے پورے دین اسلام میں رکھی ہے۔ دین اسلام میں داخلے کے لئے سب سے پہلے کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ و کلمہ شہادت کا ”اقرار باللسان و تصدیق بالقلب“ یعنی دل و زبان سے اقرار ضروری ہے۔

حاجی صاحب! اس کلمہ طیبہ کے دو حصے ہیں۔ پہلا توحید جبکہ دوسرا رسالت۔

اب پہلے حصے یعنی توحید کے بھی دو حصے ہیں، یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے سب کچھ ہونے کا یقین اور اللہ تعالیٰ کے ذات کے علاوہ کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہمارے دل و دماغ میں رچ بس جائے۔ اسی طرح کلمے کے دوسرا حصہ یعنی رسالت، حضور ﷺ کے طریقوں پہ چل کر دونوں جہانوں کی کامیابی کا یقین اور غیروں کے طریقوں پہ چل کر دونوں جہانوں کی ناکامی کا یقین ہمارے دل و دماغ میں بیٹھ جائے۔ دونوں بزرگوں کی باتیں تبلیغی جماعت کی روایتی دعوت تھی، مگر مجھے ان کے پرخلوص اور خوبصورت رویے نے متاثر کیا۔

ہم نے جب سکول سے میٹرک کیا تو آخری دنوں میں پرنسپل صاحب کلاس روم میں تشریف لائے اور برائے نصیحت کچھ کلمات کہے، کہا بچو! آپ سب چند ہی دنوں کے مہمان ہو، آپ سب نے سکول میں کافی عرصہ گزارا، اس دوران اچھے برے دن آئے، آپ کی شرارتوں کے باعث، ہوم ورک نہ کرنا، ٹیسٹ میں کم نمبر لینا، غیر حاضری وغیرہ اور اسی طرح کچھ سٹوڈنٹس کی بدتمیزی یا چالاکی نے اساتذہ کا دل دکھایا ہو گا۔ اب آخری کچھ دن باقی ہیں، سو ان دنوں اپنے حسن ظن و فرمانبرداری سے اساتذہ کے دل میں اپنی محبت پیدا کرو اور اپنا مقام بنا لو۔ اور یاد رکھو جہاں بھی جاؤ وہاں بہتر سلوک اختیار کرو، خصوصاً الوداعی اوقات میں، تاکہ جاتے جاتے ابھی یادیں چھوڑ جاؤ۔

مجھے پرنسپل صاحب کی یہ باتیں ان دو بزرگوں کو دیکھ کر یاد آئی، انہوں نے بھی زندگی کی دوڑ دھوپ کی، نجانے کہاں کہاں کی خاک چھانی اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہو گا۔ اب شاید انہیں دنیا میں اپنی باقی ماندہ مدت بونس لگنے لگی ہو گی۔ تو یہ لوگ مسجد میں آ کے محراب کے قریب بیٹھ گئے۔ سبحان تیری قدرت

زندگی بھی کیا چیز ہے، عروج پہ ہو تو یوں لگتا ہے کہ زوال نام کی کوئی شے نہیں، اور زوال آئے تو سارے امیدوں کو بہا لے جائے۔ لیکن اس عمر میں بھی اگر کسی انسان کو کوئی فکر (مذہبی تعلیمات) سہارا دے تو اس شخص کو اپنی قسمت پہ ناز کرنا چاہیے۔

وہ لوگ کتنی خوش قسمت ہیں جو بڑھاپے میں دنیا کے مصائب و مشکلات سے بے غم ہو کر آرام و سکون سے اپنے رب کے قریب جا بیٹھتے ہیں اور زندگی بھر کے دکھڑے اپنے رب کو سناتا ہے۔ رب روٹھا ہو تو اسے مناتے ہیں، مسجد خالی ہونے پہ اپنی اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور رب کی محبت کے عالم میں مدہوش ہو کر اسے اپنے سینے سے لپٹا پاتا ہے۔ وہ اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے قرآن مجید کو اٹھا کر ملائم لبوں سے چومتے ہیں اور اشک بار آنکھوں تلک لے جاتے ہیں۔ شاید خدا کی جانب سے انسان کے لئے بڑھاپے میں راہ راست، آرام و سکون، نور و بزرگی دینا دنیا کی آخری نعمت ہے۔

ہم جو جوانی پہ اترا رہے ہیں اور موج مستی میں اپنا اصل بھول بیٹھے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام انسانوں کو دنیا و آخرت میں راہ راست خاتمہ بالخیر و خاتمہ بالایمان دے۔

Facebook Comments HS