پہاڑوں کی انگڑائیاں (2)

صبح کا اجالا ٹھنڈی ہوا کے ساتھ نمودار ہو رہا تھا۔ سونے والوں کو بھی جگا دیا گیا۔ سب اب تیار ہو کر بیٹھ گئے۔
لو جی، پنڈی کا اسٹیشن آ گیا۔ سب نے اتر کر سکھ کا سانس لیا۔ ہم نے پنڈی اسٹیشن پہنچ کر جلدی جلدی فجر کی نماز ادا کی کیوں کہ میڈم شکیلہ نے سب کو کہہ دیا تھا۔ جلدی گاڑیوں پر سوار ہوں۔ تقریباً 3 گھنٹے کا مزید سفر کرنا تھا۔ دو مزدہ بالکل تیار تھیں جن پر ہم سوار ہوئے اور تمام بیگز ڈرائیور اور کنڈکٹر نے چھتوں پر پھینکے۔ سب کہہ رہے تھے سامان کو مضبوطی سے باندھ دیں تاکہ کچھ گرے نہ۔ پنڈی سے مری کی جانب یہ قافلہ چل پڑا۔
جیسے جیسے سفر گزر رہا تھا۔ راستے میں دونوں طرف اللہ تعالیٰ کی حسین و جمیل سر زمین، سبزہ ہی سبزہ اونچے پہاڑ جو زمرد لباس میں ملبوس تھے۔ ان کی پہنائیوں کی حد نہ تھی۔ کہیں بہت گہری کھائیاں تھیں جنھیں دیکھ کر دل ڈر رہا تھا۔ اگرچہ سڑکیں اچھی بنائی گئی تھیں تاہم میدانی علاقوں کی طرح ہموار اور کشادہ نہ تھیں۔ گرل گائیڈ ہاسٹل کی جانب جیسے جیسے بڑھ رہے تھے، راستے مزید دشوار اور پیچیدہ ہو رہے تھے۔ یک دم بس اوپر بہت بلندی پر چڑھ جاتی تھی اور دوسرے لمحے وہ بہت پستی میں اتر جاتی تھی۔
جیسے جھولا جھول رہے ہوں۔ ایک خوشی، خوف کی ملی جلی لہریں دل کے آ ر پار ہو رہی تھیں۔ سب نے سفر کے دوران باہر کی خوبصورتی کو اپنے اپنے موبائل میں قید کرنے کی کوشش کی۔ سڑک تنگ تھی اور سینکڑوں فٹ کی بلندی پر تھی۔ ساتھ ساتھ گہری کھائیاں تھیں۔ ذرا سی بے احتیاطی سے بس کھائی میں گر سکتی تھی۔ ہر شخص کی زبان پر دعائیں اور دل میں اللہ کا ذکر تھا۔ میں نے تو یہ علاقہ پہلی بار دیکھا تھا دعا کر رہی تھی اب خیر خیریت سے واپس چلی جاؤں دوبارہ نہیں آؤں گی۔
اس علاقے کا حسن جتنا مسرت آفریں تھا اتنا ہی اس کے اونچے نیچے راستے خوف زدہ تھے۔ پہاڑوں میں دور دور گھر بکھرے ہوئے نظر آتے تھے۔ کوئی گہرائی میں گھر تھا کوئی پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ خیال آ تاکہ یہ لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہوں گے۔ یا پھر یہ لوگ یہاں کی پہاڑی زندگی کے عادی ہو چکے تھے۔ یہاں کے ڈرائیور بھی ان راستوں کے رازوں سے آ گاہ تھے۔ وہ تیزی اور پھرتی سے راستوں کے مطابق گاڑی کا رخ بدل دیتے تھے۔ اتنی جلدی گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا ہو گا جتنی تیزی سے راستوں کی نوعیت بدل جاتی تھی۔ اس اونچ نیچ میں سب کو اپنے سامان کی بھی فکر تھی کہ گر نہ جائے۔ ایسا ہی ہوا ایک بیگ موڑ کاٹتے ہوئے بس سے گرا اور سب نے ڈرائیو کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اتنی رفتار سے جا رہا تھا کہ رکتے رکتے بھی بہت دور نکل گیا۔ ہم سے پچھلی بس کے کنڈکٹر نے وہ بیگ اپنی بس پر رکھ لیا۔
اللہ اللہ کر کے گرل گائیڈ ہاسٹل پہنچے۔ سامان اٹھا کر 65 سیڑھیاں نیچے اتر کر بڑے ہال میں داخل ہوئے۔ چار، پانچ بڑے بڑے ہال تھے۔ اس میں کچھ بیڈ تھے اور کچھ میٹرس۔ میڈم شکیلہ اور مس پروین بڑی ذمہ داری کے ساتھ سب ٹیچرز اور طالبات کو جگہ مہیا کرنے میں مصروف تھیں۔ ہماری طالبات، شہر بانو، عفیفہ اور رابعہ بڑی پھرتی سے اپنے لیے جگہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ہال میں صرف تین الماریاں تھیں۔ ان میں سے ایک الماری پر رابعہ اور شہر بانو قابض ہو ہی گئیں تا کہ کوئی اور نہ لے لے۔
کچھ سامان اس الماری میں رکھا اور بیگ الماری کے ساتھ سجا دیے، مس فائزہ نے ان طالبات کے ساتھ مل کر بیڈ شیٹ بچھائیں اور کمبل، تکیے رکھ کر اطمینان سے سب بیٹھ گئے۔ میڈم شکیلہ نے کہا، ٹیچرز بیڈ لے لیں اور طالبات میٹرس۔ یہ کہہ کر وہ دوسرے ہال میں لی گئی۔ ضلع قصور سے تقریباً 64 افراد تھے۔ اب کچھ آ رام ہو چکا تو سب نے
منھ ہاتھ دھویا اور تازہ ہوا میں سانس لے کر قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگے۔ یہ ہاسٹل گھوڑا گلی میں تھا۔ یہ ایک بلند مقام ہے۔ جس ہال میں ہماری رہائش تھی اس کے پچھلی طرف وسیع برآمدہ تھا۔ وہاں کھڑے ہو کر دیکھیں تو بہت ہی حسین و جمیل منظر آنکھوں سے سفر کر کے دل میں اتر جاتا تھا۔ چاروں طرف پہاڑ ہی پہاڑ تھے۔ کچھ اونچے کچھ نیچے ایسے لگتا تھا جیسے کسی دوشیزہ نے انگڑائی لی ہو جس نے سبز لباس زیب تن کیا ہو۔
یہ ہر ایک کے لیے کشش کا باعث تھا۔ ان پہاڑوں پر سر سبز و شاداب بلند و بالا درخت تھے۔ چیل، اخروٹ، چلغوزہ اور انجیر کے زیادہ درخت تھے۔ ایسے لگتا تھا تمام علاقے نے سبز رنگ کی چادر اوڑھ رکھی ہو۔ اگر یہ اللہ کی بنائی ہوئی زمین اتنی حسین ہے تو جنت کتنی خوبصورت ہو گی؟ ہر شخص سوچنے پر مجبور ہو گا۔ سب ان حسین جلوؤں میں محو تھا کہ مس نبیلہ کی بلند آ واز آئی، ”چلو کچھ دیر آ رام کر لو پھر سیر کرنا۔ سب اپنے اپنے بستر پر دراز ہو گئے۔
موسم خوشگوار تھا پنکھوں کی ضرورت نہ تھی اور ہال میں پنکھے نہیں لگائے گئے تھے۔ زیادہ سردی نہ تھی۔ باریک کپڑے ہی سب نے زیب تن کیے تھے۔ چند گھنٹے آ رام کیا تھا کہ کسی نے آ واز دی آ کر کھانا کھا لیں اور اپنے اپنے برتن بھی ساتھ لے آئیں۔ ہماری طالبات نے اپنے اور ہمارے برتن لیے اور دھو کر 65 سیڑھیاں چڑھ کر ڈائننگ ہال میں پہنچے۔ میں مس نبیلہ سے پوچھ رہی تھی روزانہ اتنی سیڑھیاں چڑھ کر کھانا پڑے گا۔ کون چڑھے گا؟
مس نبیلہ نے میری طرف دیکھا اور گویا ہوئی“ ہم چڑھیں گے اور کون چڑھے گا ”میں خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی لیکن یہ ایک مشکل امر تھا۔ دن میں چار بار اتنی ہی مشقت کے بعد پیٹ پوجا ہونی تھی۔ ناشتہ چائے، لنچ، شام کی چائے اور رات کا کھانا۔ ایک ہفتہ ہماری یہی روٹین تھی چار بار سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے تھے۔ سانس پھول جاتا، ٹانگیں تھک جاتی تھیں۔ گرل گائیڈز کی کوچ اور ٹرینر میڈم عاطفہ تھیں ان کا تعلق لاہور سے تھا۔
وہ قصور کی رہنمائی کر رہی تھی۔ کیمپ کمانڈر میڈم فرزانہ تھیں۔ دونوں فرض شناس اور شائستہ آفیسرز ہیں۔ انھوں نے سب پر واضح کر دیا کہ ہر شخص اسی میس روم میں ہی کھانا کھائے گا۔ نیچے ہال میں لے جانے کی اجازت نہ تھی۔ پھر خواہ کوئی ٹیچر ہے یا طالب علم وہ اپنا کھانا خود لے گا لائن میں لگ کر۔ یہ ایک اور سخت اصول سنا دیا گیا۔ بس اتنا تھا کہ طالبات ٹیچرز کی رسپیکٹ کرتے ہوئے اپنی جگہ دے دیتی تھیں کہ زیادہ دیر کھڑا نہ ہونا پڑے۔
میڈم عاطفہ اور میڈم فرزانہ نے طالبات کو چھے گروپوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کے مختلف نام رکھ دیے، ساتھ ایک ایک ٹیچر کو بھی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ یہاں تو اسکول سے بھی زیادہ سخت اصول بتا دیے گئے۔ میرے ذہن میں یہی تھا کہ سیروتفریح کریں گے کچھ چند ایک لیکچر ہوں گے اور بس لیکن یہاں تو قائد اکیڈمی لاہور کی طرح نظم و ضبط پر پابند رہنا تھا۔ جیسے فوج کو قواعد ضوابط پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے ویسے ہی یہاں ماحول بن گیا تھا۔
مس پروین کو صبح 4 بجے نماز کے لیے سب کو اٹھانے کی ڈیوٹی دی گئی تھی۔ وہ بھی دن بھر کی تھکی ہوتی تھیں اٹھتے اٹھتے کچھ دیر ہو ہی جاتی۔ وسل کی آ واز آتی ”سب اٹھ جاؤ نماز کے لیے“ ۔ طالبات اٹھتے اٹھتے دیر کر دیتیں۔ مس نبیلہ جب اونچی آ واز سے کہتی اٹھ جاؤ تو تب کہیں یہ بچیاں اٹھتیں۔ نماز پڑھ کر ہم کچھ حصہ قرآن مجید کا تلاوت کرتے۔ مس نبیلہ قرآن کریم ساتھ لائی تھیں۔ میں موبائل سے ہی پڑھ لیتی۔ کچھ تسبیحات میں وقت صرف ہوتا۔
ابھی سونے ہی لگتے کہ میڈم عاطفہ اور میڈم فرزانہ وسل بجاتے آ دھمکتی، اٹھو ورزش کے لیے گراؤنڈ میں چلیں۔ اس گراؤنڈ میں اترنے کے لیے بھی کچھ سیڑھیاں اترنا پڑتی تھیں۔ وہاں مختلف طریقوں سے ورزش کروائی جاتی مزید تھکن سے چور ابھی بیڈ پر بیٹھتے ہی تھے کہ ناشتہ کا بلاوا آ جاتا۔ پھر سیڑھیوں کا خیال چکرو چکری کر دیتا۔ ناچار جانا ہی پڑتا۔ ناشتہ کے بعد گیارہ بجے تک کلرز سرمنی ہوتی دراصل یہ پرچم کشائی کی تقریب تھی۔
ہر روز یہی روٹین تھی۔ ہر آ نے والا دن ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیتا تھا۔ کمروں کی صفائی کا خیال رکھنا، یونیفارم پہن کر تمام سرگرمیاں سر انجام دینا، دو دن تو بہت تھک گئے یہاں تک کہ ہماری ایک طالبہ تو رونے ہی لگ گئی۔ کہ مجھے اگر پتہ ہوتا کہ یہ سب ہونا ہے تو آتی ہی نہ۔ صرف رات بچتی تھی کہ آرام کر لیتے اور سکون کی نیند بھر لیتے لیکن کہاں سکون؟ چھانگا مانگا سے آ یا ہوا طالبات کا گروپ نہ جانے کس پنجرے سے رہا ہو کر آ یا تھا، رات گئے تک ہلہ گلہ کرنے بیٹھ جاتا تھا۔ گانا بجا نا، ہلکا پھلکا ڈانس بھی کر لیتیں۔ کچھ لوگ بہت انجوائے کر رہے تھے۔ ہماری مس نبیلہ اور پروین بھی مگن تھیں۔ لیکن بوجھل آنکھیں نیند پوری کرنے کو بے تاب تھیں بہت کہا اب رات بہت ہو گئی ہے لیکن وہ تو ایسے جیسے پنجرے سے آ زاد ہو کر آ نے والا قیدی پرندہ اپنی آ زادی کے گیت گا رہا ہو۔
اگلے دن کچھ عادت ہو گئی تھی تمام سرگرمیوں کی۔ نماز، ورزش، ناشتہ پرچم کشائی کے بعد ہمیں پنڈی پوائنٹ کی سیر کروائی گئی۔ ٹیڑھے میڑھے راستے انگڑائیاں لیتے پہاڑ، جن پر بلند و بالا درخت تھے۔ قدرت کا شاہکار نظر آ رہا تھا۔ پہاڑوں سے بہنے والے چشمے جن کا ٹھنڈا میٹھا پانی فرحت بخشتا تھا۔ پنڈی پوائنٹ پہنچنے کے لیے ہم سب کے لیے چھوٹی چھوٹی پک اپ ہائر کی گئیں۔ اس علاقے میں چھوٹی گاڑیاں سفر کرنے کے لیے محفوظ ہیں۔ پوائنٹ پہنچ کر میڈم شکیلہ نے اپنے فرائض ادا کیے چیئر لفٹ کی 800 کی ٹکٹ آ دھی 400 کی کروائی۔ دو دو افراد ایک چیئر لفٹ پر سوار ہوئے۔
میرا یہ پہلا تجربہ تھا۔ چیئر لفٹ کو دیکھ کر کچھ خائف تھی لیکن کسی پر اپنا خوف ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ مس پروین میرے ساتھ بیٹھی۔ چلتی چیئر لفٹ پر بیٹھنا بھی ایک مہارت تھی۔ بیٹھے تو دل کی دھڑکن اس قدر تھی جیسے ابھی بند ہو جائے گا۔ میں نے چیئر لفٹ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ موبائل نکال کر تصاویر بنانے کی مجھ میں تو ہمت نہ تھی۔ ایسے لگا جیسے ذرا سی حرکت کی تو نیچے گہری کھائیاں میری قبر بن جائیں گی۔
آہستہ آہستہ آ گے بڑھتے گئے تو کچھ حوصلہ ہوا ایسے لگتا تھا جیسے ان خوبصورت فضاؤں میں پرندوں کی طرح پرواز کر رہے ہوں۔ سینکڑوں فٹ کی بلندی پر جا رہی لفٹ کبھی بہت بلندی تک پہنچ جاتی کبھی بہت پستی میں محسوس ہوتی کہ پاؤں بھی زمین پر لگ سکتے تھے۔ یہ سطح زمین کی ناہمواری کے باعث تھا۔ اتنے سنسان اور جنگلی علاقے میں نیچے کچھ بچے کہہ رہے تھے ”باجی دس روپے پھینکو نا“ کبھی کہتے ”باجی آپ بہت سمارٹ لگ رہا ہے“ اس صورتحال میں بیگ سے پیسے نکالنا مشکل تھا۔ ایک سوچ اور فکر دامن گیر تھی کہ میرے ملک کا کوئی کونہ بھکاریوں سے خالی نہیں ہے۔ اس میں حکومت کا قصور ہے یا عوام کا؟
بلند و بالا درختوں کے بیچ سے گزرتی چئیر لفٹ اللہ کی بنائی جنت جیسی خوبصورت سر زمین پر میرا یہ پہلا سفر تھا۔ چلغوزے، چیل، اخروٹ کے درختوں کے پتوں کو میں نے بارہا چھوا۔ ایسے لگا جیسے میں آ سمان کو بھی چھو لوں گی۔ جب نیچے گہرائی میں نظر جاتی تو ایسے لگتا جیسے دل بھی ساتھ ہی نیچے جا رہا ہے۔
دوسری طرف پہنچنے والے تھے کہ کچھ کیمرہ مین ہاتھ میں کیمرہ لیے کہنے لگے میڈم پکچر بناؤں۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا نہیں۔ چیئر لفٹ سے اترتے ہوئے بڑی مستعدی سے اترنا پڑتا ہے کیونکہ یہ صرف آہستہ ہوتی ہے بالکل رکتی نہیں ہے۔ زندگی بچانے اور چوٹ سے بچنے کے لیے سب ہوشیاری دکھا ہی لیتے ہیں۔ اس طرف مال روڈ ہے جہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں سجائے اپنی روزی روٹی کما رہے تھے۔ گھوڑے والے بھی سفید رنگ کے گھوڑے لیے کھڑے کہہ رہے تھے۔ باجی سواری کر لیں۔ ہم نے سواری تو کیا کرنی تھی۔ گھوڑے کے ساتھ تصاویر ضرور بنا لیں کہ یادگار رہے۔ کافی فاصلہ ہم پیدل طے کرتے ارد گرد کے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔

