وطن کے سینے پہ خونِ ناحق کی گہری لکیریں


جے پور سے ممبئی جا رہی ٹرین میں ایک جنونی پولیس اہلکار کا تین نہتے اور معصوم مسلمانوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز شہید کرنا، مقتول کی لاش پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا ملک کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہی نہیں بلکہ عوام سے لے کر حکومتی اداروں، نیم فوجی اداروں یا خود فوج میں سرایت کرنے والے مسلم منافرت کے کینسر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں تینتیس سالہ جنونی سی آر پی جوان چیتن سنگھ کو لاش پر کھڑے کہتے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنا ہے تو مودی اور یوگی کو ووٹ دینا ہو گا۔

اس افسوس ناک خبر کے غم سے ملت ابھی نکل بھی نہ پائی تھی کہ میوات کے ضلع نوح سے فسادات کی خبریں آنی شروع ہو گئیں اور دیر گئے رات دہلی سے متصل ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں میں گروگرام کی انجمن مسجد سیکٹر 57 کے امام، حافظ سعد کو ہندو انتہا پسندوں نے مسجد پر دھاوا بول کر شہید کر دیا، اور عبادت خانے کو بھی آگ لگا دیا۔ جاں بحق ہونے والے نوجوان امام، حافظ سعید کا تعلق صوبہ بہار کے غریب گھرانے سے تھا اور وہ تین بہنوں سمیت گھر کا واحد سہارا تھے۔ ان کی ہمشیرہ کے بقول رات ساڑھے گیارہ بجے حافظ صاحب نے فون پر بتایا کہ لائٹ کاٹ دی گئی ہے اور مسجد کے باہر واچ مین سمیت پولیس کا دستہ پہرے پر تعینات ہے۔ لیکن رات بارہ بجے دو سو کے قریب حملہ آور مسجد میں داخل ہوئے اور حافظ سعد اور ان کے دو ساتھیوں پر ٹوٹ پڑے۔

ٹھیک اس سے چند دن قبل 25 جولائی کو ، آسام کے موریگاؤں ضلع میں، صدام حسین اور پانچ مسلم دوستوں پر ایک ہندو ہجوم نے اس وقت حملہ کیا جب وہ کھیلوں کے ایک پروگرام سے واپس آرہے تھے اور بارش سے بچنے کے لیے ٹین کی کسی چھپر کے نیچے کھڑے بارش رکنے یا کم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہجوم نے ان پر گائے چوری کرنے کا الزام لگایا، لیکن متاثرین نے اس سے انکار کیا۔ صدام کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا، اور دو دیگر زخمی ہوئے۔ پولیس پہنچی لیکن اگلی صبح تک انہیں بچانے میں ناکام رہی۔

ان سب واقعات کی ویڈیو کلپیں دیکھ کر یا ان کی تفصیلات پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی۔ منی پور سے لے کرک ہریانہ تک ہر جگہ دہشت گردوں کا راج ہے اور وہ جیسا چاہ رہے ہیں، کر رہے ہیں۔ کوئی انھیں روکنے ٹوکنے یا پوچھنے والا نہیں ہے۔ شاید ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ سماج کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹانے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہے۔ ایسا کرنے سے عوام الگ الگ خیموں میں بٹ جاتے ہیں اور ان کی پوری توجہ اپنے فرقے کے مفاد کی جانب مبذول ہوجاتی ہے۔

مذہب کے نام پر سڑکوں پر تانڈو ڈانس کرتے ہندوتوا کی افیم کے نشے میں ان نوجوانوں کے پاس روز گار یا تعلیم کے مواقع اور مستقبل کے ارمان ہوتے تو بی جے جیسی فسطائی جماعت صوبائی اور مرکزی حکومتوں پر قابض نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ بھی کیسا بے رحم مذاق ہے کہ اس حوالے سے بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے اقتدار میں آنے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں کمی آئی ہے، میڈیا کے ذریعہ وقتاً فوقتاً اس کا پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے لیکن مستقل اس قسم کے واقعات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ حکومت اپنی بات میں کتنی سچی ہے۔

مسلمان ان نفرت انگیز حملوں کا اصل ہدف بنے ہوئے ہیں لیکن کچھ حد تک عیسائی بھی اس نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔ سکھوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو بھی مختلف وجوہ کی بنا پر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود، باہم متحد ہونے نیز اپنی جرات مندی کے سبب جہاں سکھوں کو اس طرح کے واقعات کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے یا یہ کہا جائے کہ سکھوں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے شرپسندوں کو سکھوں کے جذبہ مدافعت اور مزاحمت سمیت بہت سے پہلوؤں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، وہیں سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود مسلمان اپنے داخلی انتشار اور فرقہ بندی کے سبب ان کے لیے لقمہ تر ثابت ہوتے ہیں۔

یہ واقعات یا تو متاثرین کے لیے باعث تشویش ہوتے ہیں یا پھر چند حساس اور انصاف پسند شہریوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی عام اکثریت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک تحقیق کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو آف انڈیا کے بموجب، سال 2014 اور 2019 کے درمیان، ہندوستان نے ہر سال اوسطاً 82,406 فسادات دیکھے۔ اس عرصے میں فسادات کی کل تعداد 494,438 تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی بدامنی کو روکنے اور ان کو کم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کو موثر طریقے سے نافذ نہیں کیا گیا۔ فسادات کے واقعات پر قابو پانے میں حکومت کی یہ ناکامیاں اور غیر مستحکم حالات ملک کے بارے میں تشویش پیدا کرتے ہیں۔

ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں ذاتی فرقہ واریت کی آگ کو مزید بھڑکانے میں گھی کا کام کر رہی ہیں۔ اس لیے سماج ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہو پا رہا ہے۔ چالاک و مکار سیاستداں عوام کی ذہنی حالت کو پرسکون کرنے کی غرض سے ہمیشہ کمیٹی بٹھاتے ہیں، کمیشن کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی تشکیل مجرمین کو سزا دینے کے مقصد سے نہیں، بلکہ عوامی غم و غصے یا تھوڑی بہت بین الاقوامی سطح پر ظاہر کی گئی وقتی تشویش کو فوراً ٹھنڈا کر کے حقیر سیاسی مفادات کی غرض کو پورا کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

اس لیے ہمارے ملک میں اب تک ایسی کوئی مثال نہیں ہے، جس سے کسی بھی سنگین جرم کے لیے تشکیل کردہ کمیٹی یا کمیشن کی سفارش پر مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہو۔ اس سے کمیٹیوں اور کمیشنوں پر قومی سرمایہ بھی خرچ ہوتا ہے اور کوئی خاطر خواہ فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کے پس پشت ایک اہم اور بنیادی سبب یہ ہے کہ کوئی سنگین جرم، خواہ وہ سیاسی، سماجی، فرقہ وارانہ، اخلاقی رذائل یا بدعنوانی سے متعلق ہو، اسے سیاسی پشت پناہی ضرور حاصل ہوتی ہے۔

اوپر سے مضبوط ہاتھ ہونے کے سبب عوام کی زبردست آواز بھی دب جاتی ہے۔ اس کو دبانے میں کمیشن اور کمیٹیاں معاون کردار ادا کرتی ہیں۔ نتیجتاً مجرمین شہ پاکر آزاد گھومتے ہیں اور اگلی کاروائی کا پختہ منصوبہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے سرپرست متاثرین کے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے گھڑیالی آنسو بہاتے ہیں۔ یعنی سرپرستی پانے والے لوگ آنسو نکلواتے ہیں اور سرپرستی کرنے والے آنسو پونچھتے ہیں۔ دونوں کی سرگرمیاں آنسوؤں پر مرکوز ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فسادات وجرائم کا لامتناہی سلسلہ کسی چکی کی طرح مستقل چلتا رہتا ہے۔ ان کییہ تیز و تند روانی کب رکے گی؟ یہ سوال ہنوز برقرار ہے۔ کیوں کہ جب محافظ ہی حملہ آور بن جاتا ہے تب محافظ اور حملہ آور کی صحیح پہچان نہیں ہوپاتی۔ ان ہی عوامل کے سبب مجرمانہ فطرت والے سزا پانے سے محفوظ رہتے ہیں۔ عدلیہ متاثر ہو جاتی ہے، عاملہ بدعنوان اور مقننہ خودغرض و موقع پرست ہوجاتی ہے۔ ملک و سماج بے سمتی کا شکارہوجاتا ہے۔ نتیجتاً جرائم میں اضافہ ہونے لگتا ہے، فسادات برپا ہونے لگتے ہیں اور بدعنوانی پنپنے لگتی ہے۔ ہر طرف افراتفری اور بد حواسی پھیل جاتی ہے، فی الحال ہمارا ملک ان ہی واقعات سے گزر رہا ہے۔ اس صورت میں فساد کا اختتام ہوتا کہیں بھی نظر نہیں آتا اور ملک مستقبل گہری تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔

آج ترقی کا دور ہے۔ آستھا کی بنیاد پر کسی عبادت گاہ کا وجود ثابت کرنا اس سائنٹفک دور میں کوئی معنی نہیں رکھتا، لیکن ہمارے سیاسی لیڈرعوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ان ہی بے معنی موضوعات کو ہوا دے رہے ہیں۔ جب کہ ترقی یافتہ سماج کے لوگ نئی سوچ کے ساتھ خود کو آگے کی جانب بڑھا رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ ہم ترقی کا راستہ چھوڑ کر آج بھی تباہی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ آج پوجا استھلوں کے لیے مر مٹنے کا زمانہ نہیں ہے۔ آج ملک کو اور خود کو ترقی کے راستے پر آگے بڑھانے کا وقت ہے۔ لیکن افسوس ہم مستقل دیکھ رہے ہیں کہ حصول آزادی کے بعد بھی مختلف قسم کی فرقہ پرستیوں کا بخار پھیلتا ہی جا رہا ہے۔

عجیب بدقسمتی ہے کہ ترقیاتی کاموں کے بجائے حکومتی بجٹ کا ایک حصہ بظاہر فرقہ وارانہ فسادات کی آگ کو ٹھنڈا کرانے میں خرچ ہوتا ہے۔

برطانوی حکومت کے دور میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کی غرض سے انگریزوں نے ہندوستانی معاشرے میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے فرقہ پرستی کی تخم ریزی کی۔ آزاد ہندوستان نے ہر شعبے میں انگریزوں کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی ہی پیروی کی، انگریزوں نے ’پھوٹ ڈالو، راج کرو‘ کی پالیسی اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے اختیار کی تھی۔ آزاد ہندوستان کی حکومتوں نے اسی پالیسی کو ووٹ کے ذریعے اقتدار ہتھیانے کے لیے نافذ کیا ہے۔

مہابھارت میں ایک کہانی آتی ہے۔ راجا پریکشت کو تکشک ناگ نے کاٹ لیا اور راجا کا انتقال ہو گیا۔ پریکشت کا بیٹا راجا جنمے جے نے زمین سے ناگوں کو ختم کرنے کے لیے یگیہ کیا۔ ناگ یگیہ کی آہوتی میں زمین کے ہزاروں ناگ بھسم ہو گئے، جو اصلی مجرم ناگ تھا، وہ دیو راج اندر کے سنگھاسن کے نیچے چھپا ہوا تھا اور زمین کے بے قصور ناگ جن میں کئی زہریلے بھی نہیں تھے، یگیہ میں بھسم ہو رہے تھے۔ اس کے بعد کئی داؤ پیچ کھیل کر ناگ یگیہ درمیان ہی میں روک دیا گیا۔ نتیجتاً تکشک ناگ کو بچا لیا گیا، اسی طرح ہمارے ملک میں بھی فسادات میں ڈسنے والے تکشک ناگ کو بچا لیا جاتا ہے۔ زہر اور دانتوں سے عاری ناگ مارے جاتے ہیں۔

جب تک فرقہ پرستی کے تکشک کو تحفظ ملتا رہے گا تب تک ہندوستان سے فرقہ وارانہ فسادات، انتہا پسندی، دہشت گردی اور علیٰحدگی پسندی بھی ختم نہیں ہوگی۔ اس میں ہر بار ہزاروں لاکھوں لوگ بھینٹ چڑھتے جائیں گے اور ملک کا یہ سنگین مسئلہ روز بہ روز بدتر ہوتا جائے گا۔

افسوس اس ضمن میں مسلم قائدین کا رول۔ خواہ وہ مذہبی قائدین ہوں یا سیاسی قائدین۔ بہت مایوس کن رہا ہے۔ سیاسی قائدین تو اپنی پارٹی لائن سے ہٹ کر زبان کھولنے یا کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے، رہے مذہبی قائدین تو وہ صرف ’تشویش‘ ظاہر کرنے اور مذمتی بیان جاری کرنے سے زیادہ کچھ کرتے نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف داخلی انتشار اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی نے ملت کو توڑ کر رکھ دیا ہے، جس کا احساس شرپسند عناصر کو بھی ہے۔ بین المذہبی فرقہ پرستی کے ساتھ اس داخلی فرقہ پرستی کو ختم کرنا اور باہم متحد ہونا بھی بہت ضروری ہے، ورنہ صرف چیخنے چلانے اور ’تشویش‘ ظاہر کرنے سے مسئلہ تو حل نہیں ہو گا، صورت حال مزید بگڑتی جائے گی بلکہ مسلسل تیزی کے ساتھ بگڑ رہی ہے


محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah