عورت نما مچھلی پارٹ (4)
تمہاری بستی کا ماحول ہمارے گاؤں سے کچھ مختلف تھا۔ وہاں مختلف مافوق الفطرت قسم کے قصے کہانیاں اور داستانیں زبان زد عام تھیں۔ جن میں اکثر کے راوی بابا جلال تھے۔ جو رشتے میں میرے ماموں تھے۔ وہ ہمیں بتاتے کہ زیر زمین پانی میں گٹھ مٹھیوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ گٹھ مٹھیے سے مراد ایک ایسا آدمی ہے جس کا قد ایک بالشت کے ساتھ بند مٹھی کو ملا کر رکھا جائے تو دونوں کی مجموعی لمبائی کے برابر بنتا ہے۔ ایک بار وہ کنواں کھود رہے تھے جب وہ پانی تک پہنچے تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے گٹھ مٹھیے کو دیکھا۔
جو اپنے سر پر اپنے قد کی مناسبت سے ایک چھوٹی سی گٹھڑی اٹھائے جا رہا تھا۔ ہمارے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کو عید دینے دوسرے گاؤں جا رہا تھا۔ ہم نے کوئی نقصان پہنچائے بغیر اس کو جانے دیا۔ ندی نالوں دریاؤں اور ایسی تمام قدرتی آبی گزرگاہوں کے پانیوں میں جلہوڑہ نامی ایک ایسی مخلوق موجود ہوتی ہے جو پانی کے بہاؤ کو خواجہ خضر کی ہدایت کے مطابق کنٹرول کرتی ہے۔ خواجہ خضر پانیوں کے شہنشاہ ہیں۔
جلہوڑے ان کے حکم کے مطابق پانیوں کا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس بستی کے ساتھ ہی ایک پرانا دریا بھی گزرتا تھا۔ جس کو بڈھا دریا کہا جاتا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے صرف بڈھ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اس بڈھ میں مچھلیاں وافر تعداد میں موجود ہوتیں۔ سردیوں کے موسم میں ہم دو تین بار باقاعدہ پروگرام بنا کر وہاں جایا کرتے اور جالوں کی مدد سے پنسیریوں کے حساب سے شنگاری مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔
اس بڈھ میں سارا سال پانی کا بہاؤ جاری رہتا اور برسات کے موسم میں اس میں باقاعدہ سیلاب آ جایا کرتا اور بڈھ کا پانی اس کے کناروں سے باہر نکل کر پوری بستی کو چاروں طرف سے گھیر کر اسے ایک جزیرے کی شکل میں تبدیل کر دیتا۔ بابا ہمیں بتاتے کہ اس کے پانیوں میں بلہنیں رہتی ہیں۔ یہ ایک ایسی آبی مخلوق تھی جس کا کمر سے اوپر کا دھڑ عورت کا اور نیچے کا دھڑ مچھلی کا ہوتا تھا۔ گاؤں کے کئی لوگ اس بات کی گواہی دیتے کہ انہوں نے بلہنوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
یہیں پر ہمارے علم میں اضافہ ہوا کہ ایسا کالا ناگ جس کی عمر سو سال سے زیادہ ہو جائے تو وہ حسب منشا کسی بھی جاندار کی شکل اختیار کرنے پر قادر ہو جاتا ہے اور اکثر وہ انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اپنی بقیہ عمر انسانوں کی بستیوں میں عام لوگوں کی طرح گزارنا پسند کرتا ہے۔ اور اس کی پہچان کرنا ایک مشکل کام ہے۔ فلاں گاؤں میں ایک شیش ناگ نے پورے بیس سال انسانی روپ میں گزار دیے۔ اس کا پتہ اس طرح چلا کہ ایک دن گھر میں بیٹھے بیٹھے وہ اچانک ہی فوت ہو گیا اور کچھ دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہاں بستر پر اس مردہ شخص کی بجائے ایک سانپ پڑا تھا۔
انسانی بہروپ میں شیش ناگ جب بین کی آواز سنتا ہے تو اس پر خاص اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا انسانی بہروپ اپنے اصلی روپ یعنی شیش ناگ کی شکل میں تبدیل ہونے کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن راز افشا ہونے کے خوف سے شعوری طور پر اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے انسانی بہروپ کو ہی قائم رکھے۔ بعض اوقات وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ناکام۔ دوسری صورت میں وہ شیش ناگ کی شکل میں نمودار ہو کر وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
مزید برآں شیش ناگ اپنی آنکھیں جھپک نہیں سکتا۔ اس کی آنکھیں دائمی اور مسلسل کھلی رہتی ہیں۔ اگر آپ کسی بھی شخص کی حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں کہ وہ انسان بنے یا شیش ناگ کا انسانی بہروپ تو اس کی آنکھوں میں دیر تک جھانکتے رہیں۔ اگر وہ کچھ دیر کے بعد اپنی آنکھیں جھپک لے تو وہ آدمی ہے اور اگر وہ آنکھیں جھپکے بغیر مسلسل ہی دیکھتا رہے تو وہ پھر یقیناً انسان کے روپ میں شیش ناگ ہے۔ اس کلیے کے مطابق تو بعض اوقات ہمیں اس بات پر بھی شبہ ہوتا کہ بابا جلال بذات خود بھی شیش ناگ ہیں اور انسانی بہروپ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کچھ ڈر اور کچھ جھجھک کی وجہ سے ہم اس بات کا کھلے عام اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ بہت عرصے کے بعد شاکر شجاع آبادی کے اس شعر نے بھی شیش ناگ کے انسانی بہروپ میں آنے کے نظریے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
میکو شاکر بین و جاون دے میں یار تے ناگ نکھیڑ گھناں
اس کا مطلب ہے کہ شاکر مجھے بین بجانے دو تاکہ میں اپنے یار میں اور ناگ میں تمیز کر سکوں۔ کیونکہ جب میں بین بجاؤں گا تو یاروں کے بہروپ میں موجود ناگ اپنی اصلی صورت میں آ جائیں گے۔ بابا ہمیں درویشوں کے قصے کہانیاں سناتے کہ درویش دنیاوی آلائشوں حرص و طمع، بغض و عداوت اور حسد و رشک سے بے نیاز ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ اور اس ازلی و ابدی ذات مبارکہ سے کسی چیز کی طلب کو بھی اطاعت و فرمانبرداری کی نفی گردانتا ہے۔
درویشوں کے پاس موجود علم و حکمت کے موتی کتابوں میں کہیں نہیں ملتے یہ وہ علم ہے جو صدیوں سے سینہ یہ سینہ منتقل ہوتا ہوا یہاں تک پہنچتا ہے۔ کیوں کہ واقعی یہ قصے کہانیاں کتابوں میں تو کہیں موجود نہیں تھے۔ اور اگر کتابوں میں ہوتے بھی تو بابا جلال نے کون سا انہیں پڑھ لینا تھا۔ کیوں کہ وہ تو کورے ان پڑھ تھے۔ لیکن تقریباً نصف صدی کے بعد بابا یحییٰ کی لکھی ہوئی کتابیں کاجل کوٹھا اور پیا رنگ کالا پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ بابا جلال کی سنائی ہوئی اکثر باتیں اس سے ملتے جلتے انداز میں ان میں دہرائی گئیں تھیں۔


