پدر سری نظام میں عورت پر ملکیتی اختیار کی حکمت عملی (تیسرا حصہ)
سید سبط حسن اپنی کتاب پاکستان میں تہذیب کا ارتقا میں لکھتے ہیں ”وادیٔ سندھ میں اموی نظام قائم تھا یعنی حسب نسب اور وراثت کا سلسلہ ماں کی طرف سے چلتا تھا۔ لہٰذا معاشرے میں عورت کا مرتبہ مرد سے اونچا تھا۔ عورت کی ذات افزائش فصل و نسل کی محرک بھی تھی اور علامت بھی۔ حوالہ ختم“ شاید اسی کے ڈھکے چھپے اعتراف میں آج بھی دھرتی کو ماں پکارا جاتا ہے۔ عورت میں خلق کرنے کی قدرتی صفت چوں کہ اسے مرد سے برتر ثابت کرتی تھی۔
غالباً یہ ہی وجہ ہو کہ مرد نے جب طاقت کے بل پر سماج پر قبضہ کر لیا تو ساتھ ہی ساتھ اس نے یہ زبان زد عام روایت بھی گڑھ لی ہو کہ حوا نے آدم کی پسلی سے جنم لیا تھا۔ اور یوں مرد کو تخلیق کا منبع و مخرج قرار دیا گیا۔ اور عورت کی کوکھ کو محض ایک ایسے سانچے کے طور پہ دیکھا جانے لگا جہاں مرد کے وارث ڈھلتے ہیں۔
لہٰذا ذرائع پیداوار میں زمین کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی شامل کر لیا گیا کیوں کہ وہ بچے پیدا کرتی تھی لہٰذا عورت اس افرادی قوت کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ قرار پائی جس کے ذریعے پدرانہ معاشروں کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل ہوتی تھی۔ مزید براں یہ کہ جب الات پیداوار کی تبدیلی سے زیادہ پیداوار ہونے لگی اور زمین کی اہمیت دوچند ہوتی چلی گئی تو ذرائع پیداوار کے حصول اور اس پر قبضہ کی بڑھتی ہوئی طاقتور خواہش نے ملکیت کے نجی تصور کو جنم دیا۔
ذرائع پیداوار کے زیادہ سے زیادہ حصول اور اس پر اپنا حق ملکیت برقرار رکھنے اور لالچ پر مبنی لوٹ کھسوٹ کے اس نئے نظام کو ہانکنے کے لیے طاقت کا استعمال نا گزیر قرار پایا جو اختیارات کا متقاضی تھا۔ لہٰذا پدر سری نظام نے ان سیاسی اداروں کی تشکیل کی جن کا مقصد مرد کو بحیثیت سربراہ کے اختیار کل کے ساتھ برقرار رکھنا تھا۔ یہ ادارے بالترتیب مذہب اور ریاست کہلاتے ہیں ان اداروں نے طاقت کے اصول کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے قوانین اور اخلاقی قدریں تشکیل دیں جنھوں نے مرد کو با اختیار ایوان بالا میں بحیثیت سربراہ کے متمکن کیا جبکہ عورت اس کے حرم کی زینت قرار پائی۔ جس کا اولین مقصد جنگ سے لوٹے تھکے ہارے مرد کو تسکین فراہم کرنا تھا یا یوں کہہ لیجیے کہ مرد کی خواہشات کی مکمل تکمیل۔
ڈاکٹر مبارک علی امام غزالی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”نکاح کا مطلب لونڈی ہو جانا ہے، لہٰذا بیوی شوہر کی لونڈی ہے اور اس پر مطلق فرمانبرداری واجب ہے۔ حوالہ ختم“ مطلق فرمانبرداری کے اس پدرانہ اخلاقی پیرائے میں عورت کو مرد پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کے جذبے سے سرشار پروان چڑھایا گیا۔ اور یہ ہی شائستگی عورت کا خاصہ قرار پائی کہ جس کی بنیاد پر عورت کو مثالی قرار دیا جانے لگا۔ کیوں کہ مرد کے گھر کی دیکھ بھال اس کے وارثوں کی افزائش و پرورش اور اس کی جنسی تسکین جیسے کٹھن اور مستقل کاموں کو سرانجام دینے کے لیے ایسے ہی جذبہ کی ضرورت تھی تا کہ وہ انھیں بلا معاوضہ و تکرار تمام عمر خاموشی سے جاری رکھ سکے۔
ڈاکٹر وکٹوریہ بیٹمین کیمبرج یونیورسٹی میں اکنامکس کی پروفیسر ہیں۔ تاہم وہ ایک باغی کہلاتی ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف برہنہ احتجاج کرتی ہیں۔ ”وہ کہتی ہیں کہ عورتیں بلا معاوضہ کام کرتی ہیں جس میں کھانا پکانا، صفائی کرنا، کھانا یا پانی لانا اور بچوں اور بزرگوں کی دیکھ بھال کرنا شامل ہیں۔ برطانوی خیراتی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو اس طرح کے کاموں کے لیے کم از کم اجرت بھی ادا کی جائے تو اس کی مالیت 10 کھرب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گی۔
لیکن اس بارے میں بہت کم بات چیت ہوتی ہے۔ بیٹمین حکومتی پالیسیوں کے خلاف عموماً برہنہ ہو کر احتجاج کرتی ہیں۔ اور وہ کپڑے اتار کے احتجاج کرنے کی نظریاتی وجوہ بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ خواتین کی شائستگی دراصل خواتین کو نقصان پہنچا رہی ہے اس سے مردوں کا عورتوں پر کنٹرول بڑھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کیوں کہ جس لمحے آپ کسی عورت کی قدر و قیمت کو اس کی شائستگی سے نتھی کر دیتے ہیں تو اس سے آپ کو اس کی بے عزتی کرنے اور ان خواتین کے ساتھ گوشت کے ٹکڑے کی طرح برتاؤ کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں خواتین کی آزادی کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں اور طریقوں کو تقویت ملتی ہے۔ افغانستان میں اسکولوں سے خواتین کے انخلا سے لے کر ایران میں لازمی حجاب تک، کنوارپن کی جانچ، غیرت کے نام پر قتل اور انتقامی فحش مواد۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ مجھے حجاب پر پابندی پر اتنا ہی اعتراض ہے کہ جتنا حجاب پر۔ معاشرے اور حکومت کو یہ حکم نہیں دینا چاہیے کہ خواتین کو کیا کرنا چاہیے۔
سمانتھا نتاراجن، بی بی سی ورلڈ 8 اپریل 2023 حوالہ ختم“ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پدرسری نظام کے تحت صد ہا صد سے سدھائی ہوئی یہ مطیع و فرمانبردار اور بقول بیٹمین کے شائستہ عورت نہ صرف خانگی اور معاشرتی سطح پہ مرد کے تابع ہوتی چلی گئی بلکہ جنسی تعلقات میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ عورت کا کردار اس کی سماجی حیثیت کے مطابق مطیع و ماتحت ہو نا کہ مساوی۔ تا کہ جنگجو مرد اسے اپنی جنسی تسکین کے لیے بطور ملکیتی شے کے استعمال کر سکے۔ اسی کے پیش نظر پورنوگرافی/ فحش نگاری یعنی کھال والی فلموں میں مرد کے جنسی جذبات برانگیختہ کرنے والے مناظر میں عورت کو سیکس ٹوائے یعنی جنسی کھلونے یا آلے کے طور پر درشایا جاتا ہے۔ اور چوں کہ فحش مواد کے زیادہ تر خریدار مرد ہیں لہٰذا اکثریتی صارفین کی خواہش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ نسوانی جنس کا بطور شے استعمال عورت کی جنسی موضوعیت سے انکار کی صورت میں سامنے آیا۔ لہٰذا نسوانی احساسیت و جذبات کو یکسر فراموش کرتے ہوئے بجائے لطافت کے مرد بستر میں بھی عورت کو فتح کرنے کی سعی میں جارحانہ جنگی حکمت عملی کے تحت اپنی مردانگی ثابت کرنے پر کمر بستہ ہو گیا۔
اگرچہ معاملہ سنجیدہ ہے لیکن گراں نہ گزرے اس لیے ازراہ تفنن کہے دیتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے مرد نے اردو لغت میں موجود لفظ ”ذکر“ کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے جس کے بالترتیب معنی نر، مرد، آلہ تناسل، فولاد اور فولاد کی بنی تلوار درج ہیں۔
انسانی ارتقا کی تاریخ میں مردانگی کا تصور بطور تخریب ابھرتا ہے جو طاقت کے بے دریغ استعمال کی بنیاد پر قائم ہوا۔ لیکن جب قوت و طاقت کا رجحان تنو مند پٹھوں سے لطیف ذہنی استطاعت کو منتقل ہونا شروع ہوا تو مردانگی کو برقرار رکھنا دشوار ہو گیا۔ آئے روز ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتی مردانگی کو بچانے کی کوشش میں پدرسری نظام کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ عضو تناسل سے دستبرداری کو پدرانہ معاشروں کی پسپائی خیال کیا جانے لگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب نادرا کے دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی کے پاکستان میں مردوں کی بڑی تعداد نے اپنی جنس کی تبدیلی کی درخواست دی ہے تو کہرام بپا ہو گیا۔ اور بالآخر جنس کے خود تعین کو ممنوع قرار دینے پر زور دیا جانے لگا۔
پورنوگرافی یعنی کھال والی فلموں میں کام کرنے والی خواتین سے لے کر منکوحہ عورت تک مرد کے انتہا پسندانہ جنسی جذبات کے سامنے ڈھیر اس کی تسکین کا سامان مہیا کرنے پر مجبور دکھائی دیتیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے مزاج پر کھال والی فلموں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ منکوحہ کا ذکر یقیناً گراں گزرا ہو گا۔ اسی کے پیش نظر تا کہ آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں یہاں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے ہم سب پر لکھے گئے کالم ”غیر فطری ازدواجی زندگی کا عذاب“ سے اقتباس حوالے کے طور پہ پیش کیے دیتے ہیں۔
”ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اپنے کالم میں ایک خاتون مریض کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب وہ میرے پاس آئیں تو ان کے مقعد کی حالت بہت خراب تھی جو ایک کٹے پھٹے عضو میں بدل چکا تھا۔ جب ان خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے شوہر کو منع کیوں نہیں کرتیں تو ان خاتون کا کہنا تھا کہ میرے شوہر کو ایسے ہی پسند ہے۔ معائنہ کے بعد خاتون سے کہا گیا کے پیوند کاری کے ذریعے اسے کسی حد تک رفو کر دیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے شوہر اب باز آ جائیں گے تو خاتون کا جواب تھا نہیں ان کی جنسی تسکین ایسے ہی ہوتی ہے۔ یہ خاتون گزشتہ 25 سال سے اس عذاب کو جھیل رہی تھیں۔ جبکہ ان کے شوہر پڑھے لکھے بیس گریڈ کے سرکاری افسر ہیں۔ حوالہ ختم“
لہٰذا عورت خواہ وہ منکوحہ ہو، لونڈی ہو یا کھال والی فلموں میں کام کرنے والی پرفورمنگ آرٹسٹ ان سب کو کم و بیش ایک ہی سی صورت حال کا سامنا ہے۔ فرق صرف اس باریک سی لکیر کا ہے جو پدرسری نظام نے اپنی سہولت کے لیے منافقانہ سماجی درجہ بندی کی بنیاد پر کھینچ رکھی ہے۔ جس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ عورت کو حسب ضرورت استعمال میں لانے کے لیے اخلاقی و قانونی جواز حاصل کیا جا سکے۔
اور دوسری یہ کہ نسائیت یا تانیثیت جو مرد کی برتری کو مسترد کرتے ہوئے جنس کی سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ذاتی مساوات کی قائل ہے کو درجوں میں تقسیم کر کے ان پر قابو پایا جا سکے۔ اگر صورت حال کو بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مافوق الفطرت قوت سے لے کر خاندان کے سربراہ اور ریاست سے لے کر بالا خانہ تک مرد کا یہ دیو قامت صنفی جثہ ہر شعبہ ہائے زندگی کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔


