ناٹ، چائلڈ – افریقی لٹریچر آپ کو مایوس نہیں کرے گا
کتابیں انسان کے لیے اتنی ہی ناگزیر ہیں جتنا کہ سانس لینا، بغیر کتابوں کے انسان کا دماغ تو رہتا ہے لیکن اس میں کوئی ڈھنگ کی سوچ نہیں رہتی۔ کتاب خوانی کے سلسلے میں کبھی کبھی ایسی کتابیں بھی آپ کے سامنے آجاتی ہیں جو آپ کی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں اور آپ کافی دیر تک بس یہی سوچتے رہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی لکھ سکتا ہے؟
ادب کی دنیا میں عبدالرزاق گرناہ نے پچھلے سال نوبل انعام حاصل کر کے لوگوں کو افریقی لٹریچر کی طرف متوجہ کیا۔ سوئیڈش اکیڈمی، گرناہ کے بارے میں لکھتی ہے کہ سال 2021 ء کا ادبی نوبل انعام، زنجبار میں پیدا ہونے والے عبدالرزاق گرناہ کو نوآبادیاتی اثرات اور مختلف براعظموں کے درمیان پھنسے پناہ گزیروں کے مستقبل کے حوالے سے کیے گئے ان کے ادبی کام پر دیا گیا ہے۔ ان کی لکھی گئی کتاب ”یاد مفارقت“ ان کی ترجمان ہے۔
گرناہ سے پہلے بھی لوگ افریقی لٹریچر سے واقف تھے، نائجیریا کے وول سوینکا نے بھی 1986 ء میں نوبل انعام حاصل کیا۔ اور چینوا اچیبے کو کئی بار نوبل انعام کی دوڑ میں دیکھا گیا لیکن وہ نوبل انعام لینے میں کبھی کامیاب نہ ہو پائے۔
بقول نگوگی وتیانگو:
”لکھاری کے لیے دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے دادا کی تلوار کو اٹھا کر معاشرے کو بدلنے میں کردار ادا کرے، اور دوسرا یہ کہ وہ کہہ دے مجھے دادا کی تلوار سے واسطہ نہیں، اور ان سے جاملے جو معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹ رہے ہیں، لکھاری کے لیے ان کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے“
یہ وہی نگوگی ہے جو پہلے انگریزوں کی دیے ہوئے نام جیمز وتیانگو سے مشہور تھا اور بعد میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو پایا، جب اسے احساس ہو گیا کہ انگریز حکومت اس کی زمین پر راج کر رہی ہے اور وہ ان کے آگے بے بس ہیں، تو اسی دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جو بھی لکھیں گے افریقی زبان میں لکھیں گے۔ اس کے بعد اس نے اپنی سابقہ تمام کتابوں کے نام بدل دیے اور نگوگی وتیانگو کے نام سے نئے ادبی سفر کا آغاز کیا۔
ویپ ناٹ، چائلڈ ان کی لکھی گئی ایک شاہکار ہے جو افریقی لٹریچر سے ہوتی ہوئی بلوچی لٹریچر (یعنی ہم تک) پہنچی، یہ کہانی ہے ان لوگوں کی جو ایک جنگ زدہ علاقے میں رہتے ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی جبر کا سامنا کرتے ہیں، یہ آئینہ دکھاتی ہے ان کو، جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے، ہم جو بھی کریں ہمیں کوئی ٹوکنے والا نہیں۔
ویپ ناٹ، چائلڈ کی کہانی ایک ایسے گھرانے سے شروع ہوتی ہے جس میں ظلم و ستم کے سوا کچھ نہیں۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ملک کی، جو نو آبادیاتی نظام کا حصہ ہے اور سالوں سے برٹش اس پر راج کر رہے ہیں لیکن کوئی ان کے خلاف اس ڈر سے آواز بلند نہیں کرتا کہ کہیں اس کے گھر کا چولھا بجھ نہ جائے۔ لیکن آخر لوگ غلامی کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور جب آواز بلند کرتے ہیں، تو انہیں مارا، پیٹا جاتا ہے، ان کی زبان بند کرنے کے ہزاروں طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ انجارج جو اسی کہانی کا کردار ہے وہ پڑھنا چاہتا ہے لیکن اسے بھی جبراً لاپتا کیا جاتا ہے۔ دن بھر اس کے دماغ میں یہی بات رہتی ہے کہ کس طرح اپنی زمین کی حفاظت کرنی ہے۔
یہ کہانی آپ کو بتاتی ہے کہ نو آبادیاتی نظام میں لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں اور انھیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی میں اگر کبھی نگوگی کو پڑھنے کا موقع ملے تو ضرور پڑھ لیجیے، افریقی لٹریچر آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔


