جمہوریت مسائل کا حل ہے یا بجائے خود ایک مسئلہ؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے نئی ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کروانے کی بات کر کے ملک میں انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والے شبہات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب مردم شماری ہو چکی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی بنیاد پر انتخابات منعقد نہ ہوں۔ اس حوالے سے ہونے والی تاخیر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری حکومت تو ختم ہو رہی ہے، اب یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت انتخابات کا اہتمام کرے۔
شہباز شریف اتنے سادہ لوح اور کم فہم نہیں ہوسکتے کہ انہیں نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کروانے کے عواقب کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوں۔ سب سے اہم اور دلچسپ پہلو تو یہ ہے کہ ابھی تک اس مردم شماری کے نتائج سرکاری طور پر ترتیب دے کر مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں پیش نہیں کیے گئے۔ یہی کونسل قانونی طور سے مردم شماری منظور کرنے کی ذمہ دار ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن کو ملکی آبادی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق حلقہ بندی کر کے انتخابی شیڈول تیار کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے یہ مجبوری بھی لاحق ہوگی کہ آبادی کے اعداد و شمار بدلنے اور اس کے مطابق مختلف صوبوں میں آبادی کی شرح کے حساب سے نشستوں کی تعداد میں تبدیلی کی صورت میں، اس کی منظوری آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی تو یوں بھی اپنی مدت پوری کر رہی ہے لیکن اگر یہ چاہے بھی تو بھی تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کے بعد ایوان میں ارکان کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو آئینی ترمیم کی مجاز ہو۔
حکومت کی طرف سے اب یہ تو واضح کر دیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی 12 اگست کو از خود تحلیل نہیں ہوگی بلکہ اسے ایک دو روز پہلے ہی توڑ دیا جائے گا۔ اس طرح الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے کے لئے ساٹھ کی بجائے نوے دن کی مہلت دستیاب ہو گی۔ الیکشن کمیشن مقررہ آئینی مدت میں انتخابات منعقد کروانے کا اشارہ دیتا رہا ہے۔ تاہم اگر حکومت نے نئی مردم شماری کے نتائج کا اعلان کر دیا تو قانونی لحاظ سے الیکشن کمیشن اسی مردم شماری کے مطابق انتخابات کروانے کا پابند ہو گا۔ وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں اسی طرف اشارہ کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ سی سی آئی کا اجلاس کب منعقد ہو گا اور کب تک نئی مردم شماری کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ حکومت کے پاس اب نو دس دن سے زیادہ وقت نہیں ہے۔ اس مدت میں یہ کیوں کر سی سی آئی کے اجلاس میں اس اہم معاملہ پر مثبت رائے حاصل کر کے مردم شماری کے نتائج کا سرکاری اعلان کرسکے گی؟
نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات منعقد کروانے کا اعلان سوالات کا جواب فراہم ہونے کی بجائے متعدد نئے سوالات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ لیکن وزیر اعظم نے انتخابات کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ان سوالوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نہ صرف مقررہ آئینی مدت میں انتخابات کا تقاضا کرتی ہے بلکہ سندھ حکومت نے نئی مردم شماری کے نتائج کو بھی مسترد کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کے نام ایک خط میں مردم شماری پر متعدد اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ دونوں پارٹیاں حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ اب مردم شماری کی منظوری کا معاملہ اگر مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کیا جاتا ہے جہاں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود ہیں تو اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہباز شریف نے اپنی حکومت ختم ہونے سے محض ہفتہ عشرہ قبل یہ تنازعہ کیوں کھڑا کیا ہے؟
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ بیان ایم کیو ایم پاکستان کو مطمئن کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہو اور بعد میں عملی مجبوریوں کا حوالہ دے کر اس سے گریز کی صورت پیدا کرلی جائے۔ گویا سیاسی رسہ کشی کے ماحول میں وزیر اعظم ہر فریق کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا موقع مل جائے لیکن حقیقی صورت حال جوں کی توں رہے۔ حکومت گزشتہ ہفتہ کے دوران اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنوانے کے بارے میں یہی ہتھکنڈا استعمال کرچکی ہے۔ پہلے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے ارکان نے اسحاق ڈار کو امید وار کے طور پر سامنے لانے کی خبر شائع کروائی پھر اس پر تنقید کے بعد خود وزیر اعظم بھی اس تجویز سے منحرف ہو گئے۔ تاہم اگر وزیر اعظم نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کروانے کی تجویز سنجیدگی اور خلوص نیت سے پیش کی ہے تو یہ ملک میں انتخابات کے غیر ضروری التوا کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
حکومت پہلے ہی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ کا اہتمام کرچکی ہے اور پارلیمنٹ میں گزشتہ چند روز کے دوران متعدد ایسے قوانین منظور کیے گئے ہیں جن سے بنیادی آزادیاں محدود ہوں گی۔ گزشتہ روز ہی ایجنسیوں کو خصوصی اختیارات دینے اور ان پر حرف زنی کی صورت میں سزا دینے کا قانون منظور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتہ کے دوران سینیٹ چیئرمین کو ارکان کے احتجاج پر ’پرتشدد انتہا پسندی‘ کے خلاف قانون کی تجویز کو روکنا پڑا تھا۔ تاہم حکومت اس بل کو کچھ ترامیم کے ذریعے دوبارہ قومی اسمبلی کے موجودہ سیشن میں منظور کروانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والی قانون سازی سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا انتظام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے تحت انتخابات ہو بھی جائیں تو نئی منتخب حکومت ان بنیادی فیصلوں کو تبدیل نہ کرسکے جو ملک میں معاشی احیا کے منصوبے کے نام پر کیے گئے ہیں۔ اسی حوالے سے سینیٹر رضا ربانی نے چند روز پہلے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے قومی مفاد ہوتا تھا اب معاشی مفاد کے نام پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے سب سے اہم فیصلہ سول و فوجی قیادت پر مشتمل سرمایہ کاری کی خصوصی سہولت کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کا قیام ہے۔ اس کونسل کے زیر اہتمام سی پیک کے بینر تلے چینی سرمایہ کاری کے علاوہ عرب ممالک سے سرمایہ کاری کے متعدد منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ آرمی چیف اس حوالے سے ضامن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ اسے اجتماعی معاشرتی ذمہ داری کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں منرل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے واضح کیا کہ ’ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم مل کر ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں‘ ۔ آرمی چیف کے یہ خیالات واضح کرتے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں نے ملکی معاشی احیا اور مستقبل قریب میں سرمایہ کاری کے جو منصوبے تیار کیے ہیں، انہیں بہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے۔ گویا جو بھی معاشی منصوبہ بندی کی گئی ہے، اسے حتمی سمجھتے ہوئے مستقبل قریب میں منتخب ہونے والی حکومت کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ان منصوبوں کو مکمل کرے اور ان میں رکاوٹ کا سبب نہ بنے۔
عسکری و سیاسی قیادت کے ان اشاروں سے دو باتیں واضح ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت قائم ہوگی، اس کے پاس اپنے سیاسی و معاشی پروگرام کے مطابق کام کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں ہوگی۔ کیوں کہ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت نے مستقبل قریب کا معاشی لائحہ عمل پہلے ہی ترتیب دے دیا ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک طرف فوج ضمانت فراہم کر رہی ہے تو دوسری طرف قانون سازی کے ذریعے فیصلوں کو حتمی قرار دینے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کو سیاسی منظر نامہ سے نکال باہر کرنے کے اقدامات کے بعد اب یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مجوزہ انتخابات اگر منعقد ہو بھی گئے تو ان کے نتیجے میں ’ہم خیال‘ حکومت ہی قائم ہو اور ملکی منظر نامہ میں کوئی نئی ہنگامہ خیزی دیکھنے میں نہ آئے۔ مسلم لیگ (ن) کے حامی صحافی و تجزیہ نگار پہلے ہی پنجاب میں پارٹی کی واضح کامیابی اور نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ جبکہ ’غیر جانبدار‘ تجزیہ نگار کسی ایک پارٹی کی کامیابی کی بجائے یہ قیاس آرائی کرتے ہیں کہ نئی اسمبلی میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور ملک میں مخلوط حکومت قائم ہوگی۔ دونوں صورتوں میں سیاسی، معاشی اور انتظامی معاملات میں فوج کا پلہ بھاری رہنے کا امکان ہے۔
لگتا ہے کہ ملک میں ایک ایسا سیاسی انتظام متعارف کروانے کی تیار کی گئی ہے جہاں بظاہر آئینی حکومت قائم ہوگی لیکن یہ منتخب آئینی حکومت اسی چوخانے کے اندر رہ کر کام کرسکے گی جو فوجی قیادت کی مرضی و منشا سے تیار کیا گیا ہے۔ جو سیاسی گروہ اس انتظام سے ’بغاوت‘ کرے گا، ملکی قوانین اس کے راستے کی دیوار بن جائیں گے۔ گویا ملک میں ایک طویل المدت غیرعلانیہ آمریت کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ اس طرز عمل سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران سیاسی جماعتیں اور فوجی قیادت جمہوریت کو مسائل کا حل سمجھنے کی بجائے اسے بجائے خود ایک ایسا مسئلہ سمجھ رہی ہیں جس سے ہوشمندی سے نمٹنا ضروری ہے۔ اس تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم اور حکومتی نمائندے انتخابات کے بارے میں کیوں بے یقینی پیدا کر رہے ہیں۔


