جناب ظفر عمران کا انٹرویو
کل شام آرٹس کونسل کی لابی میں، نیلگوں دھویں کے مرغولوں کے درمیان جو دراز گیسو شخص کاما سترا کے سیاق و سباق پر روشنی ڈال رہا تھا، آج دُپہر اپنی سوشل میڈیا وال پر نو جوان نسل کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے نظر آیا۔ رات برسات اتری، تو وہ ایک عاشق بن گیا، اور صبح دھوپ پھیلی، تو ایک مبلغ۔
یہ ظفر عمران کا تذکرہ ہے۔ مگر ظفر عمران کون ہے؟ ایک فکشن نویس یا ایک ڈراما نگار؟ سیاسی تجزیہ کار یا محض ایک شاطر فن کار؟ ماہر لسانیات یا پھر ایک ماہر عشقیات؟ اس کی زلفیں اتنی دراز کیوں ہیں؟ خود کو فلم اسٹار سمجھتا ہے؟ یا پھر جون ایلیا؟
ظفر عمران کون ہے؟ اس کا جواب تو شاید ظفر کے پاس بھی نہ ہو، مگر یہ سطریں لکھتے ہوئے مجھے یہ ادراک ضرور ہے کہ وہ اس کا دل ایک تخلیق کار ہے، اور اس کے قلم میں ایک زندہ شخص سانس لیتا ہے، جو کبھی شرارت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، کبھی تلخی زیب تن کر لیتا ہے۔ کیا آپ ظفر عمران سے ملے ہیں؟ چلیں، تو آج مل لیتے ہیں، ایک مختصر سا مکالمہ پیش خدمت ہے۔
اقبال: آج ہر کوئی کہ رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرنے والا ہے، آپ بھی کچھ کہیں، آپ کو کیا لگتا ہے؟
ظفر: حالیہ نعرے میں تو یہ عوام کو خوف زدہ رکھ کر حکومت کرنے کی باتوں جیسی ایک بات لگتی ہے، تا کہ خزانہ بھرنے کے لیے جس طرح کے نا گوار فیصلے کیے گئے، حامیوں کو اس کا سیاسی جواز فراہم کیا جا سکے۔ میں ماہر معاشیات نہیں کہ حساب کتاب کر کے نقشہ بناؤں اور پھر یہ دعوا کروں کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں ؛ لیکن ملکی تاریخ و سیاسی منظر نامہ دیکھوں، تو چاہے حکومت کہیں سے قرض لے، یا عوام پر مزید ٹیکس لگائے، اس رقم کو کوئی سیاسی حکومت عوام کی بہ بود پر خرچ کرنے سے قاصر ہے۔ ملک کے ہر محکمے پر ایک محکمے کا قبضہ ہے، جو خود پچاس سے زائد کاروبار کرتا ہے ؛ نیز جس کا خود احتسابی نظام ایسا ہے کہ کوئی دوسرا ان سے سوال نہیں کر سکتا کہ لیا گیا پیسا کہاں خرچ کیا۔ ہم پڑھتے آئے کہ ریاست ایسی سر زمین پہ قائم ہوتی ہے، جس کی متعین سر حد ہو، وہاں آئین ہو؛ یہاں یہ احوال ہے کہ سر حد بھی انھی کی، اراضی بھی ان کی، اور آئین بھی وہی ہیں۔ ایسی نا انصافی کب تک اور کیوں کر چلے گی؟ ڈیفالٹ کا سوال عارضی ہے، یہاں ملک کی تقسیم کا سوال رکھیے کہ مشرقی پاکستان کی طرح اگلی تقسیم کب ہو گی۔
اقبال: ان انقلابی افکار پر آگے بات ہو گی۔ ادب کی سمت چلتے ہیں، عام خیال ہے کہ آج ادیب حاشیے پر ہیں، بے معنی ہو گئے ہیں، کیا اس سے متفق ہیں؟
ظفر: ادیب بے معنی نہیں ہوتا؛ حاشیے پر ہمیشہ سے رہا ہے۔ حاشیہ متن سے باہر ہوتا ہے، معنی کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں ”ادب“ متن ہی نہیں ؛ جہاں اول و اخر پلاٹ، بنگلے، گاڑیوں میں زندگی کے معنی تلاش کیے جاتے ہوں، در اصل وہ سماج زندگی کے معنی کھو چکا ہے۔ ولی دکنی سے میر، داغ تا فیض اور ناصر کاظمی تا حال، شاعر و ادیب کے لیے نان نفقہ کے ذرائع میں تبدیلی آئی ہے۔ جو کل خون تھوک رہا تھا، وہ آج بھی خون ہی تھوک رہا ہے ؛ حاشیے پر ہے، اور حاشیے پر سماج کی بے معنی سمت کی توضیح کر رہا ہے۔
اقبال: آپ کے فکری فرمودات سے متاثر ہو کر خیال گزرا کہ اگر کسی روز آپ کو مسند اقتدار سونپ دیا جائے، تو حکم کیا صادر کریں گے؟
ظفر: جو اقتدار سونپے گا، اس سے پوچھ کر بتاؤں گا کہ مجھے کیا حکم دینے کے لیے اقتدار سونپا گیا۔ ویسے سنجیدہ سوال ہے کہ کوئی مجھے اقتدار سونپے گا کیوں؟ پھر یہ سوچیے کہ ایک شہری جو ریاست کی کم زور پالیسیوں پر کڑھتا ہے، اسے اقتدار دینے کا سوال کیوں؟ مثلا: ایک ادیب، ادا کار، مصور، فوجی کا اقتدار سے کیا لینا دینا؟
اقبال: اچھا سوال ہے۔ چلیں، پھر ادب کی سمت چلتے ہیں۔ ایک کتاب، جو متعدد بار پڑھی اور آج بھی پڑھنے کی خواہش ہے؟
ظفر: دل چاہ رہا ہے کہ یہاں تھوڑا ادیب ادیب سا بننے کے ادا کاری کروں اور چند رٹ رکھی معروف کتابوں کے نام دُہراؤں، جنھیں ادیب لوگ سراہتے ہیں، تا کہ پڑھنے والوں پر میری کتب بینی کی دھاک بیٹھے ؛ لیکن واقع یوں ہے کہ ”تھکے ہوئے ذہنوں کے لیے اکسیر“ ، ابن صفی کی ”عمران سیریز“ کا ہر ناول متعدد بار پڑھا ہے اور بار بار پڑھ سکتا ہوں۔ شفیق الرحمان کو بار بار پڑھنا بھی بھاتا ہے۔ اس کے علاوہ، میرے کتب خانے میں چند سو کتابیں ہیں، چالیس پچاس کو چھوڑ کر لگ بھگ سبھی ایک سے زائد بار پڑھی ہیں۔
اقبال: کوئی فکشن نگار، جسے پڑھ کر خواہش ہوئی کہ اپنی کتاب نذر آتش کر دیں، جس کی تقلید کی خواہش ہوئی؟
ظفر: عمدہ نثر لکھنے والا ہر مصنف پسند ہے، مگر کسی کی تقلید پسند نہیں۔ ویسے میں یہ وضاحت دیتا چلوں کہ میں خود کو ادیبوں کی فہرست میں رکھتا بھی نہیں ؛ جانیے کہ دال روٹی کا چکر تھا، لہاذا مزدور کو ادیب نہ سمجھا جاوے۔ مطالعہ کتب کی عادت کچھ برسوں سے چھوٹ سی گئی ہے ؛ اس کی وجہ میری منتشر خیالی ہے۔ دیکھیے کب یہ سلسلہ بہ حال ہوتا ہے اور میں کتب بینی کے سفر پہ نکلتا ہوں۔ قاری کے طور پر کہوں تو عمدہ زبان لکھنے والے بہت سے نام ہیں ؛ مثال کے لیے عنایت اللہ دہلوی، قاضی عبدالستار، اسد محمد خان کی نثر پڑھوں تو لطف سوا ہوتا ہے۔ یہ بھی عجیب ہو گا کہ ایک طرف میں خود کو عمدہ نثر کا شائق بتلا رہا ہوں تو دوسری طرف مجھے راجندر سنگھ بیدی پسند ہیں ؛ تو عمدہ نثر ہی سب کچھ نہیں کانٹینٹ کی اہمیت سوا ہے۔
اقبال: آپ شاعر تو نہیں، مگر یہ سوال پہلے سے لکھ رکھا تھا، جواب دیجیے، غالب، اقبال، فیض، جون؛ اکیسویں صدی میں کس شاعر کو متعلق پاتے ہیں؟
ظفر: جب تک اردو زبان باقی ہے، آپ کے لیے گئے ان چار ناموں میں سے غالب و اقبال متعلق رہیں گے ؛ فیض اور جون کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا، میرے لیے مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ فیض اور جون کے پرستار اس رائے پر ناک بھوں چڑھائیں، مگر یہاں مجھ غیر شاعر کو اپنی رائے دینے کا حق دیا گیا تھا۔
اقبال: کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے بہت سے ادیبوں کو نگل لیا، ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
ظفر: سوشل میڈیا نے روایتی گروہ بندیوں پر ضرب لگائی، تو زنگ آلود ادیبوں کا اجارہ کم ہوا ہے۔ ادبی پرچوں میں تعلق کی بنیاد پر شایع ہونے والے کہ سکتے ہیں، سوشل میڈیا نے ہماری صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا؛ جب کہ احوال یہ ہے، سوشل میڈیا نے محض ان پر جما زنگ دکھایا ہے۔ ہمارے یہاں کا چلن یہ ہے کہ نئے ماڈل کی کار آ جائے تو ناقدین آواز لگاتے ہیں کہ یہ ماڈل فیل ہے، اس سے پچھلا ماڈل بہ تر تھا؛ مارکیٹ قبول کر لے تو ناقدین کے منہ بھی بند ہو جاتے ہیں۔ یہی احوال تازہ کاری کا بھی ہے ؛ ہمارے یہاں تجربہ کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے ؛ ناقدین گزشتہ ’ماڈل‘ کو دیکھ کر نئے لکھنے والوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ممکن ہے انھوں نے بالٹی بنانے والوں کو ادیب سمجھ لیا ہے، جو ایک ہی سانچے کے مطابق بالٹی بنا کے دے تو اچھا۔ یہاں ادب کے ناقد کہلوانے کے شوقین تو بے بہا ہیں، حقیقت میں پائے نہیں جاتے یا لحاظ رکھتے کہوں تو ایک دو نام ہیں۔ مغربی چھاپا خانوں سے نکلے، مغربی پیمانے اٹھائے ادبی ناقد، ہاتھ میں اٹھائے ولایتی پیمانے میں، جس کہانی کو پورا پورا فٹ ان نہیں کر پاتے، اس پر مسترد کی مہر لگا دیتے ہیں۔ بہ ہر حال یہ فیصلہ میں نے، آپ نے نہیں، وقت نے کرنا ہوتا ہے، اور میں وقت ہی کو مستند ناقد سمجھتا ہوں۔ خدا ہمیں ادبی ناقدین اور برے وقت سے بچائے۔
اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکرین، جنھیں نو جوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟
ظفر: مجھے نہیں معلوم سوشل میڈیا مفکر کیا ہوتا ہے ؛ میرے لیے سوشل میڈیا بیٹھک، چوپال یا تھڑے کی سی حیثیت رکھتا ہے، جہاں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کسی بھی موضوع پر اوٹ پٹانگ ہانکا جا سکتا ہے اور پھر بھلا دوستوں کو کون مفکر سمجھتا ہے! ؟ پیاروں کو مشورہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر انھیں فالو کریں، جن کی محفل میں جی لگتا ہے ؛ مخالفین یا ناقد نہیں دوست تلاش کریں ؛ دوستوں کی بیٹھک اپنا لہو جلانے کے لیے نہیں ہوتی۔
اقبال: زندگی دوبارہ جینے کا موقع ملے، تو کون سا کردار چنیں گے؟
ظفر: میں نے ایک شخص کی زندگی کا سب سے زیادہ مطالعہ کیا ہے ؛ اس کی زندگی میں تھوڑی سی محرومیاں ہیں، اور ڈھیروں شادمانیاں ؛ سفر ہیں اور نا رسائیاں ؛ اس کے مقدر میں بے لوث اساتذہ ہیں، جنھوں نے انگلی پکڑ کے راستہ دکھایا؛ وہ محسنوں جیسے دوست رکھتا ہے ؛ یہ ایک زندگی میری ہے ؛ اپنے علاوہ کوئی کردار نہیں، جسے میں دوبارہ جینا چاہوں گا۔ بس! اس میں تھوڑی رسوائیاں شامل کر کے، کہ پاک دامنی کے فریب نے حسرتوں کے سوا کچھ نہ دیا۔
اقبال: ”ہم سب“ کے ساتھ آپ کا کیا تعلق ہے؟ عدنان خان کاکڑ سے لسان کی بابت آپ کی نوک جھونک کی کیا کہانی ہے؟
ظفر: ”ہم سب“ کا آغاز 2016 ء میں ہوا، عدنان خان کاکڑ اور وسی بابا سے تعلق اس سے پرانا ہے۔ جب ”ہم سب“ کا آغاز ہوا تو عدنان نے فیس بک سے اٹھا کر میری کچھ تحریریں ”ہم سب“ میں شایع کر دیں ؛ فیس بک پر قلم برداشتہ لکھا جاتا ہے، ”ہم سب“ میں شایع ہونے پر مجھے گھبراہٹ ہوئی کہ ان میں وہ بات نہیں، جو کسی پرچے میں چھپنے لائق ہو۔ اس گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے اس آن لائن ویب کے لیے لکھنا شروع کر دیا؛ پھر بھی بات نہ بن کے دی تو سوچا مزید نہیں لکھنا۔ وسی بابا کی ڈانٹ کھائی کہ جب تجھے (ٹی وی سے ) لکھنے کے پیسے ملتے ہیں، تو تیرا لکھا کسی قابل ہو گا ہی، لہاذا چپ کر کے لکھتا رہ؛ چپ کر کے لکھتا رہا۔ پھر نہ جانے کیسے ”ہم سب“ کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گیا۔ رہی عدنان سے نوک جھونک کی تو اس میں عدنان کا ٹرولنگ والا مزاج کا دخل ہے۔ میں ماہر لسان ہر گز نہیں، لیکن عدنان کی چھیڑ چھاڑ نے دوسروں پر میرا یہ تاثر قائم کر دیا ہے، جیسے میں زبان کی درستی کے لیے ڈنڈا لیے کھڑا ہوں، اور یہ شدت پسندی زبان کی ترویج میں حائل ہے۔ خیر سے میں نے بھی کبھی تردید نہیں کی؛ مجھ پر ماہر لسان کا الزام ایسا ہی ہے جیسے کسی نا مرد پر ریپ کا الزام لگا دیا جائے۔ اس کا وکیل عدالت میں ڈاکٹر کی رپورٹ لہراتا رہا کہ یہ میڈیکلی اس لائق نہیں، پھر بھی بزرگ وار نے الزام کی تردید میں لب نہ کھولے کہ نامردی کا ٹھپا کیوں لگوائے۔
سوال: مگر صاحب، آپ کی یہ ضد تو ہے ناں کہ لفظ توڑ کر لکھے جائیں، تلفظ نپا تلا ہو، املا درست لکھا جائے؟
ظفر: زبان کا چسکا کچھ تو شو بز کی وجہ سے لگا؛ کسی لفظ کا درست تلفظ کیا ہے، وغیرہ؛ یہ بحث کبھی شو بز میں عام تھی۔ لوگ نیوز کاسٹر، ادا کاروں، گلو کاروں کی ادائی نقل کر کے تلفظ کی اصلاح کرتے تھے۔ ہم نے اپنے سینیرز کا یہی چلن دیکھا۔ پھر شکیل عادل زادہ کی صحبت کا اثر ہوا کہ درست املا کی شناخت، اور لفظ کی کھوج میں دل چسپی پیدا ہوئی۔ وہ لغات دیکھنے کی ترغیب دیتے، اس یقین کے ساتھ کہ اردو کی کوئی لغت ایسی مستند نہیں کہ آنکھیں بند کر کے بھروسا کیا جا سکے۔ جہاں تک لفظ توڑنے کی بحث ہے، تو یہاں یہ غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے کہ الفاظ جوڑ کر لکھنے سے وہ غلط نہیں قرار پاتے ؛ اردو الفاظ کا یک ساں املا رواج پائے، یہ وہ کاوش ہے ؛ کوئی اس تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتا، تو اس پر کیا زور زبر دستی کرنا۔
اقبال: نواز شریف یا عمران خان، اگلا الیکشن کون جیتے گا؟
ظفر: وہی جو بڑے بھائی کے مفادات کے تحفظ کی پکی قسم کھائے گا؛ سچ کہوں تو میں ”پاکستانی جمہوریت“ سے بد دل ہو چکا؛ اتنا سیاست دانوں سے نہیں جتنا، جمہور کے رویے مایوس کرتے ہیں۔






