گھریلو ملازمین اور تشدد کی ثقافت
غلامی کا طوق میری خوش نصیبی ۔ ۔ ۔ ۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک چودہ سالہ ملازمہ پر ایک سول جج کی بیوی کا بہیمانہ تشدد آج کا ”گرم مسالہ“ یا ہاٹ ٹاپک ”ہے۔ جج نے بیوی کے دفاع میں عذر لیا ہے کہ وہ ذہنی مریض تھی۔ مگر جج کی بیوی کو ویسے بھی سزا تو ہوگی نہیں۔ جج کے پاس ”دیت“ کا حربہ باقی ہے جس کے سامنے مظلوم بالآخر چت ہو جاتا ہے ورنہ ذہنی مریض تو جج صاحب بھی ہیں جو یہ تشدد دیکھتے رہے اور کچھ نہیں کیا؟
وہ بیوی کا نفسیاتی علاج کرا سکتے تھے۔ ملازمہ کو بچا سکتے تھے۔ اسے طبی امداد فراہم کر سکتے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا۔ یہ یہاں کا کلچر ہے بات اسی کلچر کی ہے جس میں جج ایک فیوڈل کلاس کا نمایندہ ہے اور ملازمہ کمی کمین شمار ہوتی ہے جن کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے اور وہ اسے غلط نہیں سمجھتے نہ اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ کسی نے اس بچی کی ماں سے نہیں پوچھا کہ تم نے چھ ماہ تک بیٹی کی خبر کیوں نہیں لی؟
وہ اس پر خوش اور مطمئن تھی کہ ایک بیٹی کو جج صاحب کی ایر کنڈیشنڈ کوٹھی میں رکھوا دیا ہے۔ بہت اچھا کھاتی پیتی ہے۔ بیگم صاحبہ پرانے جوڑے کی برانڈڈ اترن دیں تو بیٹی کی خوش نصیبی۔ شاندار گاڑی میں بھی ساتھ چلی جاتی ہے۔ وہ کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں تو بچا ہوا اسی کو ملتا ہے۔ تنخواہ الگ جمع ہوتی رہتی ہے۔ خراب سلوک کبھی کبھار کی گالیاں یا مار پیٹ پھر کیا ہے جس کا گلہ کیا جائے۔ یہ یہاں کے فیوڈل کلچر کا پرانا تسلیم شدہ طرز زندگی ہے۔
سب فیوڈلز جو شہروں میں کوٹھی کار کے مالک ہیں اپنے گاؤں سے نچلے طبقے کے غلام منتخب کرتے ہیں اور شہر لے آتے ہیں تو یہ غلام اور اس کے خاندان کی خوش قسمتی شمار ہوتی ہے میں اپنے حلقہؑ شناسائی میں تین ایسے گھر دیکھ چکا ہوں جہاں گاؤں سے لائے گئے بچے کام کرتے ذلت خوشی خوشی برداشت کرتے جوان ہو گئے، ماں باپ سال چھ ماہ میں آ کے ان کی تنخواہ لے گئے۔ مالکوں نے بچوں کی شادی کرا دی تو گھر میں ایک ملازمہ اور آ گئی۔ وہ ملازم شوفر۔
مالی یا چوکیدار ہو گیا۔ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسے دس جماعت پڑھا کے نام ٹیچرز میں نام لکھوا دیا یا چپراسی لگوا دیا تو تنخواہ گھر والوں کو پہنچنے لگی۔ با اثر افراد کے گھر میں ملازمت سے ان کی برادری یا خاندان کو تحفظ اور اثر رسوخ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پولیس بھی ان سے دور رہتی ہے جتنے بیورو کریٹ۔ سیاستداں اور جائز ناجائز کاروبار سے دولت مند بننے والے ہیں وہ سب یہاں ایسے ہی ملازم رکھتے ہیں۔ یہ ملازم بد سلوکی کے باوجود نافرمانی یا مجرمانہ فعل کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
وہ جانتے ہیں کہ اس کا خمیازہ ان کے خاندان اور برادری کو بھگتنا پڑے گا چنانچہ ان کے فرار کا بھی امکان نہیں رہتا۔ اسلام آباد میں پنڈی اور مری کے نواح۔ ایبٹ آباد ہزارہ یا آزاد کشمیر کے غریب گھروں کے افراد عام ملتے ہیں جو وفادار غلام رہ کے زیادہ فوائد حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کے خاندان کے نوجوانوں کو ملازمت کے لیے سفارش مل جاتی ہے یہ سلسلہ ڈیڑھ سو سال کا تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ جب انگریزوں نے پنڈی میں کمانڈ آفس قائم کیا تو مری اور گلیات نے اہمیت حاصل کی وہاں ”مری بریوری ” (جو اب پنڈی میں ہے)، لارنس کالج اور ساملی سینیٹوریم بن گئے۔ یہاں سے نچلے درجے کے ملازمین بیرے خانساماں شوفر اردلی حجام اور مالی حاکم انگریز کے گھروں میں کام کرنے لگے۔ وہی شیف اور بیکر بنے اور ان کے خاندان والے پاسپورٹ کے بغیر سفارشوں سے لندن اور ہانگ کانگ جانے لگے۔ شاید پچاس سال قبل میں نے چراٹ کے پاس ایک گاؤں ”ہانگ کانگ“ نام کا دیکھا جہاں سے کثیر تعداد میں لوگ ہانگ کانگ گئے تھے جو برطانیہ کے زیر نگیں تھا۔ انہوں نے وہاں سے جو کما کے بھیجا اس نے گاؤں کو خوشحالی دی اور مجھے پتا چلا کہ گاؤں میں ہانگ کانگ کا ڈالر بازار میں قبول کیا جاتا تھا بالکل اسی طرح پرانے میر پور کے لوگ کثیر تعداد میں برطانیہ گیے جو پنڈی سے سو سوا سو کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔
یہ میرپور منگلا ڈیم کی جھیل میں ڈوب گیا تو دوسرا نیا میر پور دریائے ؑ جہلم کے دوسرے کنارے پر بسایا گیا جو آزاد کشمیر کا علاقہ ہے۔ اب وہاں نئے شہر میں شاندار مکانات ہیں جو خالی پڑے ہیں اور بہت کم کرائے پر دستیاب ہیں۔ مقصد آمدنی نہیں دیکھ بھال ہے لیکن کرائے دار نہیں ملتا گھروں میں عورتیں بچے یا بوڑھے ہیں اور یہاں لندن سے آنے والے پونڈ مقامی بازار میں بھی چلتے تھے ہزارہ ایبٹ آباد اور گلیات جیسے وسیع علاقے کے لوگ پہاڑیے کہلاتے ہیں اور یہی لوگ سیزن میں ٹورسٹ انڈسٹری کو سنبھالتے ہیں۔
اب بھی رش کا سیزن 15 مئی سے 15 ستمبر تک ہے لیکن ٹورسٹ یہاں سارا سال آتے ہیں، بہتر ٹرانسپورٹ اور اچھی سڑکوں کی وجہ سے لاہور ملتان اور پشاور کے سیاح تین چھٹیوں میں بھی فیمیل کے ساتھ ہوٹلوں میں بھر جاتے ہیں۔ پہاڑیوں کی چوتھی نسل جان گیؑ ہے کہ ٹورسٹ سے مال کیسے کمایا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹورسٹ کا اعتماد گنوا کے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہر سال رپورٹ ہونے والے کسی جھگڑے کا سبب ٹورسٹ ہی ہوتے ہیں جو موج مستی کے موڈ میں حد سے بڑھ جاتے ہی


