ایک پولیس آفیسر، ریٹائرڈ میجر یا بادشاہ سلامت
26 جولائی کی کڑکتی دھوپ میں ہم گورنر ہاؤس کراچی گیٹ نمبر چار پہ اندر جانے کے لیے تقریباً تین سے چار ہزار طلباء، وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ موجود تھے۔ کچھ ہی دیر بعد یہاں لیپ ٹاپ اور وزیراعظم نوجوان قرض پروگرام پہ ایک تقریب ہونا تھی، انٹری کے لیے چار سے پانچ دن پہلے سے ہی سب کے نام، شناختی کارڈ نمبر وغیرہ کا اندراج کیا جا چکا تھا لیکن یہاں گیٹ پہ اتنی بد انتظامی تھی کہ پانچ سے دس منٹ میں ایک طالب علم کا ڈیٹا چیک کر کے انٹری کی جا رہی تھی، ہر شخص چاہتا تھا کہ اس مسئلے کا حل نکلوا کر جلد از جلد نشستوں پر پہنچا جائے چند دوستوں نے رینجرز کے نوجوانوں اور پولیس افسران سے گیٹ پر جا کر بات کی اور کہا کہ خدارا اس مسئلے کا حل تلاش کریں ابھی گفتگو جاری ہی تھی کہ اندر سے پینٹ کوٹ پہنا ہوا ایک شخص تیزی سے باہر نکلا اور تیزی سے دائیں بائیں دھکے دیے پانچ سے چھ لوگوں کے بعد میرا نمبر آ چکا تھا اس کی کہنی میرے سینے میں پیوست ہوئی اور اس نے دوبارہ پوری قوت کے ساتھ دھکا دینے کی کوشش کی، میں نے جواباً اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور کہا بھائی صاحب دھکے کیوں دے رہے ہو آپ کون ہو؟
اب اس ہمارے ہی ٹیکس سے تنخواہ لینے والے بابو صاحب کے اندر کا فرعون جاگ اٹھا اور آستین اوپر کر کے مجھے پکڑا اور کہا ابھی میں تمھیں بتاتا ہوں میں کون ہوں؟ میں نے بھی اطمینان سے جواب دیا جی ضرور بتائیے آپ کون ہیں لیکن اس نے اپنا تعارف کرانے کی بجائے پیچھے کھڑے ایس ایس یو کے دو نوجوانوں کو بھی بلا لیا اور کہا اسے پکڑو، ایک پولیس مین نے میرا موبائل چھین لیا جب کہ دوسرے نے کہا شناختی کارڈ نکالو! میں نے اپنا شناختی کارڈ اس شخص کے حوالے کیا اور جی لیجیے میری شناخت ضرور کر لیجیے، لیکن وہ بابو صاحب مجھے فوراً پولیس اسٹیشن بھیجنے کے احکامات صادر کر چکا تھا کیوں کہ میں نے اس سے دھکے مارنے کی وجہ جاننے اور اپنی شناخت کروانے جیسا بڑا جرم کر لیا تھا، اب میری کلائی ایک پولیس انسپکٹر نے مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی میں نے اس سے سوال کیا کہ میں نے بہت بڑا کوئی جرم کیا ہے؟
اس نے کہا جی ہاں! تم نے اتنا بڑا جرم کر لیا ہے کہ اب تم ساری زندگی پچھتاؤ گے اور تمھیں نشان عبرت بھی بنایا جائے گا میں اس کی بات سن کر مسکرا دیا وہ مجھے متعجب نظروں سے دیکھنے لگا اور کہتا ہے تمھیں پتہ ہے یہ کون ہے میں نے کہا یہی تو نہیں معلوم اگر معلوم ہوتا تو میں اس سے کیوں پوچھتا؟ اس نے کہا تمھیں معلوم ہو جائے گا۔ میں ایک دفعہ پھر مسکرایا اور میں نے کہا کہ انسپکٹر میری بات سنو! موبائل اور شناختی کارڈ میں آپ سے لوں گا کیوں کہ آپ ہی مجھے لے کر جا رہے ہو۔
اس نے کہا مجھے کیا معلوم تمھارا موبائل اور شناختی کارڈ کس کے پاس ہے۔ میں نے کہا وہیں گیٹ پر تمھارے لوگوں نے لیا ہے اب وہ مجھے ساتھ لے کر دوبارہ گیٹ پر گیا وہاں ہمارے دوست سردار شعیب ان بابو صاحبان سے گفتگو کر رہے تھے کہ بلال کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ لوگ تھوڑا تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انسپکٹر کے ساتھ مجھے دیکھتے ہی وہ متکبر بابو صاحب پھر پولیس والے پہ سیخ پا ہو گیا کہ میں نے تمھیں کہا ہے کہ اسے دبوچ کر لے جاؤ۔ اس نے بڑی لمبی سانس لے کر، کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابو صاحب کو سیلوٹ مارا اور سوال کیا کہ سر اس کا موبائل فون اور شناختی کارڈ کس کے پاس ہے اس نے رعونت اور متکبرانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا میرے پاس ہے اسے فوراً لے جاؤ، ایک بابو صاحب نے انسپکٹر کو کان میں کہا سیدھا پولیس اسٹیشن لے جاؤ اور حوالات میں بند کروا کر آؤ، میں ایک دفعہ پھر مسکرایا اور ان کے ساتھ چل پڑا انہوں نے ایک ویگو گاڑی اسٹارٹ کی۔
اور تیزی کے ساتھ گاڑی کو آگے پیچھے کر کے سیدھا کیا عین اسی وقت میری نظر دور سے آتے ہوئے دوستوں پہ پڑی جن میں چوہدری علی اکبر گجر صاحب اور سردار شعیب نمایاں تھے میں نے ان کو ہاتھ ہلا دیا، تا کہ ان کے علم میں آ جائے میں ویگو پہ سفر کر رہا ہوں، ویگو گاڑی نے گورنر ہاؤس کے مختلف حصوں کا وزٹ کرنے کے بعد لنگر خانے والے ایریا میں جا کر سٹاپ کر دیا، اور گاڑی میں ہی مختلف سوالات کا سلسلہ شروع کیا میں نے انہیں تسلی بخش جوابات دیے اور واضح الفاظ میں بتا دیا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں یہ سب میں اپنے کالم میں ضرور لکھوں گا، اب ان کا رویہ قدرے بہتر ہو گیا میں نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے پھر سوال کیا کہ وہ وکیل کے لباس میں ملبوس بابو صاحب کون تھا انسپکٹر نے ادھر ادھر دیکھ کر رازداری سے مجھے کہا کہ وہ خفیہ ایجنسی کا میجر صاحب ہے میں نے اسے بلند آواز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ ایجنسی کے میجر یہ ہی کام کرتے ہیں جو یہ کر رہا ہے؟
وہ متعجب نظروں سے مجھے کہنے لگا کہ آپ کو پتہ ہے میجر کیا ہوتا ہے میں نے اسے کہا مجھے اچھی طرح علم ہے اور میرا تعلق ضلع چکوال سے ہے جہاں پر گھر سے دو تین لوگ افواج پاکستان میں ہوتے ہیں، انسپکٹر کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ واہ سائیں واہ! چائے پیو گے میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرا موبائل اس میجر کے پاس ہے تمھیں ایک فوجی افسر کا نمبر بتا رہا ہوں وہ ڈائل کر دو، انسپکٹر کہنے لگا میرا موبائل ٹریکنگ پہ ہے میں پکڑا جاؤں گا میں نے کہا جیسے مجھے پکڑ کر یہاں بٹھایا ہوا کبھی ڈاکوؤں، چوروں، لٹیروں سے بھی پکڑ کر ایسی انوسٹی گیشن کی ہے جس پولیس اسٹیشن میں آپ کی ڈیوٹی ہے وہاں جتنی وارداتیں پچھلے ایک ہفتہ میں ہوئی ہیں، ان میں سے کسی مجرم کو بھی پکڑا ہے؟
انسپکٹر اب ہونٹ دانتوں کے نیچے رگڑ رگڑ کر مجھے دیکھ رہا تھا اتنے میں ان کو ایک کال موصول ہوئی تو گاڑی گیٹ نمبر 1 پہ لے گئے اور مجھے اتار دیا، میں نے باہر جا کر اپنے دوستوں تک پیغام پہنچایا کہ میرا موبائل اور شناختی کارڈ آپ کی ذمہ داری ہے وہ لے کر آئیے گا، پروگرام ختم ہو چکا تھا چوہدری علی اکبر گجر صاحب نے ڈی ایس پی کو کہا کہ موبائل اور شناختی کارڈ پیدا کر کے دیں۔ رات 9 بجے تک سردار شعیب، چوہدری منظور اور سردار سمندر گل گورنر ہاؤس کے تمام پولیس اہلکاروں اور پولیس افسران سے مل چکے تھے لیکن موبائل اور شناختی کارڈ کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا موبائل فون اور شناختی کارڈ میجر کی جیب میں تھا اور وہ وزیراعظم کے پروٹوکول کے ساتھ ہی گورنر ہاؤس سے جا چکا تھا۔
البتہ اس نے کسی اور لوکیشن پہ پہنچ کر موبائل فون اور شناختی کارڈ گورنر ہاؤس کے عملے کے حوالہ کر دیا۔ اور گورنر ہاؤس یہ چیزیں پہنچتے ہی مجھے مل گئیں۔ رات کو نو بجے یہ حقیقت سامنے آئی کہ یہ میجر اسلام آباد پولیس کا ایس پی ہے اور وزیراعظم ہاؤس اور پروٹوکول کے ساتھ اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، اس واقعہ سے ہماری بیوروکریسی کا ایک بھیانک چہرہ سامنے آیا۔ کہ عوام کے ٹیکس سے ہی تنخواہیں اور مراعات لینے والے افسران اپنے آپ کو بادشاہ سلامت اور عوام کو غلام سمجھتے ہیں۔ افسران بالا اور حکمرانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ان افسران کی ٹریننگ میں یہ بات شامل کریں۔ کہ وہ اپنے آپ کو عوام الناس کی خدمت کے جذبے سے فیلڈ میں ڈیوٹی کے لیے اتریں نہ کہ عوام کو اپنا غلام سمجھ کر۔


