صحرا میں کشتیاں دوڑ رہی ہیں


حالیہ بارشوں نے بھر سے پورے پاکستان بالخصوص سندھ میں شہر اور گاؤں کے علاوہ صحرائے کاچھو کو ڈبو دیا ہے۔ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ بارشوں کی پیشن گوئیوں کی وجہ سے ہر طرف خوف طاری ہو گیا ہے۔ صحرائے کاچھو میں 2022 ء کے سیلاب کے اثرات ختم ہی نہیں ہوئے۔ لوگ اب بھی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ اب تک گھر بنا نہیں سکے۔ روڈ جوں کے توں ٹوٹے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر پل نہیں بن پائے۔

سندھ حکومت کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ایف پی بند میں پڑے شگاف بند نہیں کیے۔ اور ناں ہی ایم این وی کے بندوں کی مرمت کی گئی ہے۔ ادھر حمل جھیل کے بندوں کی مرمت نہیں کی اور ٹوٹی پلیں مزید کمزور ہو گئی ہیں جنہیں حالیہ بارشوں میں پہاڑوں سے بہتے ندی نالوں کے پانی نے پلوں کے باقی حصے توڑ دیے ہیں۔ صحرائے کاچھو کا سندھ کے دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ لوگ زندگی کا رسک لے کر کھانے پینے کی اشیاء لینے سرگردان ہیں۔ گاچ ندی دریا بن کر پہاڑوں میں سے صحرائے کاچھو میں بہنے لگی ہے۔

گاج ندی بلوچستان کے ضلع خضدار سے آتی ہے۔ راستے میں اس سے بلوچستان کی کولاچی، کوشک اور دوسری بارانی ندیاں ملتی ہیں۔ وہ پانی ضلع دادو کی سرحدوں میں آتا ہے جہاں اس سے سول، سوری، تکی، نلی، ککڑانی، ہلیلی، کھندانی، انگئی اور نئیگ ملتی ہیں۔ گاج یہ سارا پانی لے کر منچھر جھیل کی طرف بہتی ہے۔ دوسری طرف گاج کے علاوہ جیکب آباد اور شہداد کوٹ سے مولہ، جھل مگسی اور دوسری ندیاں پہاڑوں میں سے بہتی حمل جھیل کی طرف آتی ہیں۔ حمل جھیل کا پانی یا تو ایف پی بند کے سہارے کاچھو میں سے منچھر جھیل کی طرف جاتا ہے یا پھر حمل جھیل سے ایم این وی ڈرین جسے اب آر بی او ڈی کے ذریعے منچھر جھیل میں جاتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ نہ ایم این وی کے بندوں کی مرمت کی گئی ہے اور ناں ہی ایف بند مضبوط کیا گیا ہے۔ اس لیے حالیہ بارشوں میں پھر یہ ہوا کہ صحرائے کاچھو اس بار دوبارہ ڈوب گیا ہے۔ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ منچھر جھیل کا اضافی پانی اڑل اور دانستر نہروں کے وسیلے دریائے سندھ نہیں بہایا گیا اور نہ ہی کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے دریائے سندھ کے دروازے کھولے گئے ہیں۔ اس لیے منجھر جھیل میں پانی زیادہ جمع ہو گیا ہے اور پانی صحرائے کاچھو میں پھیل گیا ہے۔

صحرائے کاچھو جھیل بن گیا ہے اور صحرائے کاچھو میں کشتیاں دوڑ رہی ہیں۔

ہونا یہ چاہیے کہ حمل جھیل کے بند مضبوط کیے جائیں۔ ایف بند اور آر بی او ڈی کے بندوں اور ایف بند کو مضبوط بنایا جائے۔ منچھر جھیل سے نکلنے والی نہروں کو چوڑا کر کے ان کی گنجائش بڑھائی جائے تاکہ اضافی پانی آسانی سے دریا میں ڈال دیا جائے اور ایسی صورتحال نہ بنے کہ صحرائے کاچھو ہمیشہ جھیل نہ بنے اور نہ ہی صحرا میں کشتیاں دوڑتی نظر آئیں۔

Facebook Comments HS