ضیغم علی شاہ۔ نامور سیاسی کارکن کی موت


خالد شریف کا شعر بہت یاد آ رہا ہے
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ضیغم علی شاہ گیلانی کو ہم سے جدا ہوئے چند روز ہو گئے ہیں۔ میں ہر روز یہ سوچتا کہ آج اس کی اچانک وفات پر نوحہ لکھوں گا لیکن حوصلہ ہی نہیں پڑتا تھا۔ اس معاملہ کو اگلے روز پر موخر کر دیتا تھا۔ آج حوصلہ کر کے اپنے دوست بلکہ برخوردار ضیغم علی شاہ گیلانی کی سیاسی زندگی پر قلم اٹھانے کا حوصلہ کر ہی لیا جواں سال ضیغم کی موت کا مجھے بڑا دکھ ہے۔ وہ میرا دوست بھی تھا اور برخوردار بھی وہ ایک باوقار سیاسی کارکن تھا۔

کبھی کسی لیڈر کے سامنے ہاتھ پھیلایا اور نہ ہی اپنے کارکن ہونے کی قیمت وصول کی ہمیشہ نظریاتی کارکن کی حیثیت سے کام کیا جب تک میں روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کا چیف رپورٹر رہا وہ رپورٹنگ روم میں باقاعدگی سے حاضری دیتا تھا لیکن جب سے اس نے اپنے گلے میں پی ٹی آئی کا جھنڈا ڈالا اس کی نوائے وقت میں حاضری میں بھی کچھ ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ شاید وہ میری ناراضی پر شرمندہ شرمندہ سا رہتا تھا۔ میں جہاں اس سے پیار کرتا تھا وہاں اس سے بڑا ہونے کے ناتے ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا تھا۔ میری ڈانٹ ڈپٹ اس کے سیاسی قبلہ کے تبدیل کرنے کے حوالے سے تھی۔ ضیغم شاہ نے مسلم لیگی ماحول میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ ایک صاف ستھرے کردار کا مالک سیاسی کارکن تھا۔ اس نے ایم ایس ایف اور یوتھ ونگ میں سیاسی شعور حاصل کیا یہی وجہ ہے۔ اس کا مسلم لیگ نون میں وسیع حلقہ احباب تھا۔ اچانک اس نے اپنے ماموں سید ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ جو میرے زمانہ طالبعلمی کے دوست ہیں، کی محبت میں مسلم لیگ نون چھوڑ کر پی ٹی آئی جائن کر لی

اس کے راستہ بھٹکنے پر میں نے اس سے شدید ناراضی کا اظہار کیا وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے میں خود مختار تھا لیکن مجھے اس کی سیاسی خودکشی اچھی نہ لگی کیونکہ جس جماعت کو اس نے جوانی دی اور دن رات کام کیا محض اپنے ماموں کی پیروی کرتے ہوئے پی ٹی آئی جائن کر لی جب کبھی اس کی نواز شریف کے خلاف فیس بک پر پوسٹ دیکھتا تو میں اس پر اپنے ریمارکس لکھتا کئی بار اس نے میری ناراضی کے پیش نظر قابل اعتراض پوسٹ ڈیلیٹ بھی کر دی مجھے سید ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ سے بھی بے پناہ محبت ہے۔

مڈل کلاس کا سیاست دان کسی سیاسی جماعت کا سرمایہ ہوتا ہے۔ اسے بھی مسلم لیگیوں نے ضائع کر دیا میں نے سید ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ سے ان کی سیاسی خود کشی پر بڑا احتجاج کیا لیکن شاہ صاحب نے نواز شریف جیسے اعلٰی ظرف سیاست دان کا ساتھ چھوڑ کر ایک ایسے شخص کو اپنا لیڈر بنا لیا جو لیڈر کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے۔ کم و بیش 15، 16 سال قبل جب لندن میں مسلم لیگ (ن) کے آفس میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹوں کی بندر بانٹ ہو رہی تھی تو میری موجودگی میں نواز شریف نے شاہ صاحب کے بارے جو شاندار الفاظ کہے وہ ایک سیاسی کارکن کے لئے شاندار خراج تحسین تھا۔

انہوں نے شاہ صاحب سے کہا کہ ”میں ہوں نا، آپ جذباتی نہ ہوں“ تو شاہ صاحب نے کہا کہ ”جناب قائد، میں بھی آپ سے جذباتی محبت کرتا ہوں“۔ آج بھی اسلام آباد کے مسلم لیگیوں میں شاہ صاحب کو بڑی عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی دیانت داری اور شرافت ہے۔ شاہ صاحب نے ہی اپنے بھانجے ضیغم شاہ کی سیاسی تربیت کی۔ ضیغم شاہ نے بھی سیاست کو کاروبار نہ سمجھا بلکہ اپنی جیب سے خرچ کر کے سیاست کی اس کا دامن سیاست کی آلودگی سے پاک تھا۔

وہ صحیح معنوں میں سیاسی کارکن تھا جو سیاست میں اپنا مقام بنانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ وہ ایک صحت مند نوجوان تھا۔ گن کلب کے ممبر کی حیثیت سے روزانہ ایکسرسائز کرنا اس کا معمول تھا۔ کئی بار مجھے سوانا کا باتھ کرنے کی دعوت دی مڈل کلاس سے تعلق تھا لیکن شاہانہ زندگی بسر کرتا تھا۔ ہمیشہ اچھے ماڈل کی گاڑی اس کے پاس رہتی تھی۔ وہ اپنا بیشتر وقت محنت مزدوری میں صرف کرتا بلڈر کے طور پر اچھی شہرت کا مالک تھا۔ نواز شریف کی جماعت میں تھا۔ جیل یاترا بھی اور پولیس تشدد کا سامنا بھی کیا۔

وہ جب بھی میرے پاس آیا تو شام کی چائے میرے ساتھ پی اور خاطر تواضع کے لئے کوئی نہ کوئی چیز لانا بھی نہ بھولتا۔ رپورٹنگ ٹیم اس کو طنزیہ گفتگو کا نشانہ بناتی کہ وہ صرف نواز رضا کی آشیرباد حاصل کرنے آتا ہے اور اس میں حقیقت بھی تھی۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہو گا جب کم و بیش 16، 17 سال قبل ضیغم کے سینئر صحافی اقبال جعفری کی صاحبزادی کے رشتہ کی بات چل رہی تھی تو میں نے ہی جعفری صاحب کو ضیغم کے با کردار نیک چال چلن اور اچھی شہرت کے مالک خاندان سے تعلق ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔

غالباً میں واحد اخبار نویس تھا جس نے ضیغم شاہ کی شادی میں شرکت کی اس لحاظ سے میں ضیغم سے بچوں کی طرح سلوک کرتا پچھلے دنوں میں نے اقبال جعفری سے ضیغم کے فون اٹینڈ نہ کرنے کے بارے میں شکایت کی تو انہوں نے اس کی علالت بارے میں بتایا البتہ علالت کی نوعیت نہیں بتائی جب مجھے معلوم ہوا کہ اس کو جگر کا عارضہ لاحق ہو گیا تو میری پریشانی بڑھ گئی اس کا جگر ٹرانسپلانٹ ہونا تھا۔ ہیپا ٹائٹس سی پر قابو تو پا لیا گیا تھا لیکن بہتر صحت ہونے پر ہی ٹرانسپلانٹ ہونا تھا اس نے آپریشن کے لئے 70 لاکھ روپے کا انتظام بھی کر لیا تھا لیکن موت کے فرشتے نے انہیں آپریشن کی مہلت ہی نہ دی مجھ میں ضیغم کی عیادت کا حوصلہ نہ ہوا دو بار فون پر بات ہوئی آج کل میں جگر کا ٹرانسپلانٹ ہونا تھا کہ ضیغم علی شاہ کی وفات کی خبر آ گئی یہ میرے لئے اندوہناک خبر تھی۔

سارا دن غم میں ہی گزر گیا صادق آباد میں ضیغم شاہ کے گھر تعزیت کے لئے گیا تو اس کے بڑے صاحبزادے سید صابر علی شاہ کو بڑے حوصلے میں پایا نام بھی صابر اور عملاً بھی صابر۔ خرم شاہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ضیغم شاہ کا حلقہ احباب ایم ایس ایف تھا۔ ان کے جنازہ میں ایم ایس، ایف کے رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ضیغم علی شاہ کی وفات جہاں ان کے خاندان کے لئے غم کا پیغام لے کر آئی وہیں ان کا وسیع حلقہ احباب بھی غم و اندوہ کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ ضیغم شاہ خبر نویسی میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کی تحریر ایک منجھے ہوئے اخبار نویس کی طرح ہوتی تھیں سیاسی جلسوں میں بھرپور شرکت اس کا معمول تھا۔ شرافت اس کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ایک خوددار سیاسی کارکن تھا۔ سیاسی کارکنوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا تھا۔

Facebook Comments HS