انتہاؤں کی سرزمین اور اصلاح احوال


’برائی کو سرزد ہوتے دیکھو تو روکو؛ ہاتھ سے، زبان سے یا کم از کم دل سے برا جانو‘ ۔ رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی تعمیل میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر مشتہر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جنسی ہراسانی کے خلاف ہمارے ہاں جہاد بالسیف، جہاد بالقلم اور جہاد بالنفس جاری ہے۔ ’سیف‘ سے میری مراد اس جرم کے کرداروں کو بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی تمام تر عملی کوششیں ہیں۔ ’قلم‘ کی نسبت میڈیا کی طرف اور ’نفس‘ اس فعل قبیح کے خلاف غم و غصہ اور نفرت و کراہت کی طرف اشارہ ہے۔

برائی کا چرچا کرنا بھی برائی ہی ہے اور خاص کر فحاشی جیسی برائی کا کچا چٹھا کھولنا دلدل میں کود جانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کے پیش نظر بہت سوں کو کچھ بھی کہنے میں تذبذب کا سامنا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں دماغی خلل، ذہنی و فکری انتشار، اخلاقی تنزلی و پراگندگی٬ کج روی اور جنسی ہیجان جیسی بیماریاں اپنے ڈیرے ڈال رہی ہیں۔ یہ سرزمین ہر حوالے سے انتہاؤں کی سرزمین ثابت ہو رہی ہے۔ یہاں برائی بھی عروج پر اور برائی کی مذمت بھی اس حد کو چھو رہی ہے کہ برائی کی تشہیر اور پذیرائی کا مؤجب بنتی جا رہی ہے۔ وہ کہ جنہیں خباثتوں کی خبر تک نہیں تھی، طریقہ ہائے واردات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔

ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ یہ سماج کس ڈگر پر جا رہا ہے۔ سبب تلاشنے، ذمہ داری کا تعین کرنے اور تدارک کی تدبیر کے لیے ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے اپنے ضمیر سے یہ سوال پوچھنے کی اشد ضرورت ہے کہ آیا ہم یوں برائیوں کا قلعہ قمع کر رہے ہیں یا ان کی آبیاری؟

جو ہوا اس کی مذمت اور جرم کے مرتکب عناصر کی مرمت پہ ہر ذی شعور متفق ہی نہیں بلکہ مصر ہے البتہ، یہ پہلو نہایت حساس اور اہم ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا پڑھا رہے ہیں، کیا سکھا رہے اور سب سے بڑھ کر کیا دکھا رہے ہیں؟

تعلیمی درسگاہوں کو شیطانی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر سمجھا اور پیش کیا جانے لگا ہے جو سب سے بڑا المیہ ہے۔ کالی بھیڑیں بلکہ بھیڑیے تقریباً ہر شعبہ زندگی میں پائے جاتے ہیں جن کی تعداد قلیل اور جن کی وارداتیں گاہے دیکھنے کو ملتی ہیں مگر المیہ یہ بن چکا ہے کہ ان محدودے چند عناصر کی شرمناک حرکتوں کے باعث پورے شعبے بلکہ نظام کو رسوا کرنا، مطعون و ملعون ٹھہرانا ظلم عظیم ہے۔ یہ انتہا پسندی؛ کج فہمی اور فکری دہشت گردی سے ذرا کم نہیں۔

ہمیں جہاں شرانگیزی کا راستہ روکنا ہے وہیں ہمارا یہ فرض بھی ہے کہ فساد فی الارض کے سارے امکانات کو مسدود کرنا ہے۔ اس کار خیر کو سر انجام دینے کی ذمہ داری ارباب اختیار سے لے کر اہل علم و دانش اور سول سوسائٹی تک سب ہی پر عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آخر کیسے اور کیونکر ہم نے معاشرتی برائیوں، اخلاقی بے راہ رویوں اور قانون کی خلاف ورزیوں کا سد باب کرنا ہے؟

پالیسی سازوں، قانون سازوں، تعلیم کے شعبے سے منسلک کردار سازوں اور حضرات علمائے کرام کو سر جوڑنا اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لانا ہو گا وگرنہ تدارک کے اسباب کیے بغیر میڈیا کے ذریعے درندگی کی تشہیر کرنا، شرمندگی کا باعث ہے چہ جائیکہ مذمت ہی کے پیش نظر ہے۔ آڈیو، ویڈیو، تصاویر اور تہذیب سے عاری، نا زیبا تحریری گفتگو کی ترسیل، تشہیر اور ترویج، فحاشی و عریانی کے راستے بجائے مسدود کرنے کے ہموار کرتی چلی جائے گی۔

جرائم کی روک تھام اور سد باب کے لیے ہر شہری ریاست و حکومت کا دست و بازو بنے مگر حکمت، تدبر، حسن ترکیب اور توازن کے ساتھ۔ اعتدال اور میانہ روی ہی صراط مستقیم ہے۔ ہم اپنا شمار امت وسط کے الہامی خطاب سے نوازے ہوئے لوگوں میں کرتے ہیں لہٰذا ہمیں اعتدال کی راہ اپنانے اور انتہاؤں کو ترک کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ تبھی ہم امت وسط کہلائے جانے کے حقدار ٹھہریں گے۔

Facebook Comments HS