قرارداد سیاحت
چند روز قبل پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی جانب سیر و سیاحت کی غرض سے آنے والے سیاحوں سے بات چیت کا موقع ملا۔ اس دوران سیاحوں کی جانب سے شمالی علاقہ جات کے دلفریب مناظر کو حسین و جمیل الفاظ سے سراہا۔ قدرت کے فن پاروں کو ایمان کا حصہ بناتے ہوئے دلفریب احساسات کا اظہار کیا، لیکن وہیں دوسری جانب مقامی حکومت اور وفاق کی ترجیحات میں سیاحوں کو سہولیات مہیا کرنے کا عظم نہ ہونا سیاحوں کی جانب سے ناپسندیدہ عنصر کہلایا گیا۔ ”ہم لے کر گاڑی آتے ہیں، واپسی پر گدھا گاڑی لے جاتے ہیں“ (سیاح کے الفاظ)
امریکہ اس وقت دنیا میں سیاحت کے ذریعے سب سے زیادہ آمدن بنانے والا ملک ہے۔ امریکہ کی سیاحت کے ذریعے آمدن تقریب سوا دو کھرب ڈالر بنتی ہے جو کہ امریکہ کی جی ڈی پی کا صرف ایک ( 1۔ 1 ) فیصد حصہ بنتا ہے۔ وہی پاکستان سیاحت سے تقریباً سالانہ پینتیس کروڑ ڈالر کی آمدن بنا پاتا ہے اور یہ پاکستان کی جی ڈی پی کا صرف 0.12 فیصد حصہ بن پاتا ہے۔ امریکہ اس وقت سیاحت سے آمدن بنانے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان ایک سو تیسویں نمبر پر موجود ہے۔
مندرجہ بالا موازنہ تو اعداد و شمار میں پہلے نمبر پر موجود ملک کے ساتھ ہے لیکن اصل میں ہمارا موازنہ اس ملک سے ہونا چاہیے جو قدرتی وسائل کے حساب سے پاکستان کے کچھ قریب ہو۔ سوٹزرلینڈ اور مالدیپ شاید قدرتی وسائل میں پاکستان سے زیادہ تو نہیں لیکن قریب قریب ضرور موجود ہیں۔ سوٹزرلینڈ سیاحت سے سالانہ سترہ ارب ڈالر بناتا ہے جو کہ سوٹزرلینڈ کی جی ڈی پی کا 2.5 فیصد حصہ بن پاتا ہے۔ مالدیپ سیاحت سے سالانہ تقریباً تین ارب ڈالر بنا پاتا ہے جو کہ مالدیپ کی جی ڈی پی کا 59.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ جبکہ پاکستان صرف اور صرف پنتیس کروڑ ڈالر تک محدود رہ پاتا ہے۔
پاکستان کے پاس دنیا میں خوبصورتی اور لینڈ اسکیپ کی مناسبت سے سب سے زیادہ قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان اپنی سیاحت کو مضبوط نہیں بنا پا رہا، آخر اس کی وجوہات کیا ہیں؟
امریکہ کے پاس پاکستان کی مناسبت محدود قدرتی وسائل موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ پاکستان سے کئی گناہ زیادہ آمدن پیدا کرتا ہے اور وہ بھی محض سیاحت سے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو قدرتی وسائل امریکہ کے پاس موجود ہیں ان کو بہترین انداز میں محفوظ کرنے کے بعد ان تک رسائی کو آسان بنانا یقینی بنایا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب امریکہ نے سیاحوں کی دلچسپی بڑھانے کے لئے اور ان کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کئی مصنوعی شاہکار بھی تعمیر کر رکھے ہیں۔
سوٹزرلینڈ نے اپنے قدرتی وسائل کو بہتر انداز میں پیش کرتے ہوئے ان تک سیاحوں کی بآسانی پہنچ کو یقینی بنایا اور سیاحت کو اپنی آمدن کا مضبوط حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ وہیں مالدیپ نے قدرتی حسن کو دیکھنے آنے والے سیاحوں کو سہولیات مہیا کرتے ہوئے اور قدرتی وسائل کو انسانی دماغ کا استعمال کرتے ہوئے مصنوعی شاہکار بنانے میں استعمال کر کے اپنی آدھی سے زیادہ آمدن کا حصہ سیاحت سے حاصل کرنے میں کامیابی پائی۔
پاکستان کا شاید سب سے خوبصورت ضلع مانسہرہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے محروم ہے، بلکہ پورا ہزارہ ڈویژن انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ پاکستان کے اس ضلع میں آنے والے سیاحوں کو سب سے قریب پائے جانے والے اسلام آباد ائیرپورٹ کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جو کہ مانسہرہ سے تقریباً 120 میل دور ہے۔ یہاں کی سڑکیں انتہائی خستہ حال ہیں، جن سڑکوں کا کام آج سے دو سال پہلے شروع ہوا تھا ان کی تکمیل کا کوئی نشان نہیں۔ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شامل جھیل سیف الملوک تک جانے والی سڑک اس قدر ناقص ہے کہ صرف 4 x 4 جیپ کا استعمال کرتے ہوئے ہی آپ اس پر سفر کر سکتے ہیں اور وہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔
گزشتہ دونوں بابو سر ٹاپ پر جانے والے ایک سیاح کو مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر لوٹنے کی کوشش کی، جس میں سیاح بھاگ دوڑ کرتے ہوئے لوٹ مار سے تو بچ گیا لیکن دوسری جانب اس سیاحتی مقام کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے سیاحوں کو بھی خبردار کر گیا۔
چند ہفتے پہلے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن مانسہرہ نے رات گئے مانسہرہ اور گلگت بلتستان کے درمیان سفر پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی وجہ موسم کی خرابی کے باعث ناقص سڑکوں کا لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مزید ناقص ہونے کا خدشہ تھا۔ چائنہ میں دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں شمار ہونے والی ایکسپریس وے بنائی جا رہی ہے، اور جن پہاڑوں میں یہ ایکسپریس وے بن رہا ہے ان کی مماثلت وادی ناران سے گلگت بلتستان کے راستے اور اسی طرح شمالی علاقہ جات میں موجود باقی راستوں اور ان میں موجود پہاڑوں سے ہے۔
سڑک کنارے اور بازاروں میں پڑا کچرا حسین چہرے میں پھینکے گئے تیزاب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں کی مقامی آبادی بہت کم ہے۔ علاقے میں موجود سرکاری مشینری اور وسائل مقامی آبادی کے لئے بھی ناکافی ہے۔ جب موسم بہار سے سالانہ سیاحت کا آغاز ہوتا ہے تو علاقے میں ناقص اقدامات اور سیاحوں کی زیادہ تعداد کے باعث علاقے کی صفائی کو یقینی بنا محال ہو جاتا ہے۔ کسی حد تک مقامی لوگ بھی صفائی کا خاص خیال نہیں رکھتے۔ دکانوں سے کچرا سڑک پر اور گھروں سے فضلہ ندی نالوں کی زینت بناتے ہیں۔
ایک بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان کی سیاحت پاکستان کو سیاہ دور سے نکال سکتی ہے مگر اس کے لیے کئی اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔
مقامی لوگ اپنی معاشی زندگی کو بہتر کرنے کے لئے بذات خود کئی اہم اقدامات کر سکتے ہیں، دنیا میں ایسے کئی ماڈل موجود ہیں۔ بالاکوٹ سے لے کر گلگت بلتستان کی وادیوں تک ہر ایک نظارہ قابل دید ہے بس صرف ان کو قابل دید بنائے رکھنا اور ان تک رسائی ممکن بنانا لازم ہے۔

