احسن رمضان نے ملک پر احسان کیا، پولیس والے پر نہیں
4 اگست کو ٹویٹر پر آئی جی پنجاب سے لے کر پولیس کے ہرآفیشل پیج پر شہداء پولیس کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اس حوالے سے مختلف تقریبات کی تصویری جھلکیاں بھی پوسٹ کی گئی، بلاشبہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت پانے والے پولیس اہلکار محمکہ پولیس کے ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہیں، ان کی شہادت سے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اس موقع پر محکمہ پولیس کا یتیم بچوں اور بیوہ کے سر پر ہاتھ رکھنا نہایت ہی اچھا اقدام ہے، موجودہ آئی جی پنجاب شہداء کے ورثاء کو بہت وقت دے رہے ہیں اور ان کا حوصلہ بن رہے ہیں
شام کو ٹویٹرپر ایک اور ویڈیو دیکھی کہ کم عمری میں ورلڈ اور ایشیئن سنوکر چیمپئن بننے والے نوجوان احسن رمضان معروف کرکٹر اور نگراں وزیر کھیل پنجاب وہاب ریاض کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رو رہا تھا، معاملہ یوں ہے کہ دو روز قبل لاہور پولیس کے جوانوں نے رات دس بجے کے بعد سنوکر کلب کھولنے پر عالمی چیمپئن احسن رمضان کو حراست میں لے لیا، احسن رمضان دہائی دیتے رہے کہ وہ ورلڈ چیمپئن شپ کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اس وقت بھی ورلڈ چیمپئن ہیں، پولیس کانسٹیبل جن کی اکثریت جاہل، گنوار اور بدتمیز ہوتی ہے نے جواب دیا، ”چیمپئن بن گئے ہو تو ہمارے سر پر احسان کیا ہے“ اور ساتھ گالیاں بھی دیدیں جو کہ پنجاب پولیس کا ٹریڈ مارک ہے
پولیس اہلکاروں نے یہاں بس نہیں کی، احسن رمضان سے بدتمیزی کرتے رہے اور اسے حوالات میں بند کر دیا، احسن نے پولیس کو اپنی ورلڈ چیمپئن کی بیلٹ بھی دکھائی مگر ظالم پولیس کو حیا نہ آئی، پھر احسن نے ایک دوست کو فون کیا تو اس نے پولیس سے جان چھڑوائی جس کے بعد احسن رمضان کی حوالات میں بند ہونے کی تصویر وائرل ہو گئی جس پر پولیس پر تھو تھو ہونے لگی، حسب روایت حکومتی عہدیداران ”نرگولی“ کی طرح ایکٹو ہو گئے اور انکوائری کا حکم دے دیا
معاملے کی سنگینی کے باعث مشیر کھیل پنجاب وہاب ریاض احسن رمضان کی دلجوئی کے لئے اس کے گھر گئے اور ان سے اظہار ہمدردی کیا تو ورلڈ چیمپئن وہاب ریاض کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، احسن رمضان کا پھوٹ پھوٹ کر رونا بنتا ہے کیونکہ وہ قومی ہیرو ہے، یہ وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے عام شہری بھی پولیس کے ہاتھوں بے عزت ہونے سے بچنے کے لئے اپنے معاملات پولیس تک لے کر ہی نہیں جاتے اور نقصان برداشت کرلیتے ہیں، میں نے کئی لوگ دیکھے ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی ڈکیتوں کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کراتے، ان کا خیال ہوتا ہے کہ پہلے ڈاکوؤں نے لوٹا ہے اب پولیس لوٹے گی
احسن رمضان نے ورلڈ چیمپئن بننے کے لئے کیا کیا صعوبتیں برداشت کی ان کا شاید ہماری عوام کو علم ہی نہیں، ہمارے عوام صرف کرکٹرز کو ہی ملک کا ہیرو سمجھتے ہیں، وہاب ریاض اور احسن رمضان کی ملاقات کی ویڈیو دیکھ کر دل میں خیال آیا ہے مشیر کھیل جب کرکٹ کھیلنے گراؤنڈ میں اترتے ہیں تو ان کے گھر سے لے کر ہوٹل اور ہوٹل سے لے کر سٹیڈیم تک ان کو سکیورٹی ملک کے سربراہ کے برابر دی جاتی ہے جبکہ سنوکر کا عالمی چیمپئن پولیس کے ہاتھوں رسوا ہوتا ہے اور جب وہ بتاتا ہے کہ وہ سنوکر کا عالمی چیمپئن ہے تو پولیس کہتی ہے ”ساڈے سر احسان کیتا ای چیمپئن بن کے“ ، چل اگے لگ ”۔
احسن رمضان غریب گھر کا بچہ ہے، والدین فوت ہو گئے تھے، وسائل نہ ہونے کے باوجود سنوکر اس کا شوق تھا اور یہ شوق جنون بنا کر سنوکر کا ورلڈ اور ایشیئن چیمپئن بننے پر ہی سر سے اترا، چند ماہ قبل ای لائبریری میں ایک تقریب میں احسن رمضان نے اپنی کہانی سنائی تو لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، کامیابی کی کیا قیمت ہے وہ احسن رمضان ہی جانتا ہے، پولیس کانسٹیبل کیا جانے جس نے دن کا آغاز کسی دکان سے پانی کی بوتل، کوک، کسی ہوٹل سے مفت کی روٹی کھا کر کیا ہو اور راہ چلتے کوئی شکار ہتھے چڑھ جائے تو دیہاڑی لگا کر مست ہو کر سو جانا ہے کہ اج دیہاڑی ٹھیک لگ گئی اے۔ اس لئے کانسٹیبل نے اپنی بضاعت کے مطابق درست کہا کہ تم نے چیمپئن کر قوم پر احسان کیا ہے پولیس والے پر نہیں
سنوکر کا عالمی چیمپئن بننے کا جنون احسن رمضان کے سر پر سوار رہا، سنوکر چیمپئن بننے کا جنون اتنا تھا کہ ہر وقت سنوکر کھیلتا رہتا تھا، گھر بھی نہیں جاتا تھا تھک کر سنوکر کلب میں ہی سو جاتا، صبح اٹھتے ہی پھر سنوکر کھلینا شروع کردیتا، احسن نے محنت جاری رکھی اور اپنے کھیل کو بہتر سے بہتر بناتا رہا، اللہ محنت کا صلہ ہمیشہ دیتا ہے، لگن سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے، پھر اللہ کے نیک بندے عمران نوشاہی جو سنوکر فیڈریشن کے سیکرٹری بھی ہیں کی نظر احسن رمضان جیسے ہیرے پر پڑی تو انہوں نے ایک جوہری کی طرح اس ہیرے کو اٹھا لیا، انہوں نے 8 سال کی عمر میں احسن رمضان کو تربیت دینا شروع کی احسن کو نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ پریکٹس کے لئے بھی تمام سہولیات فراہم کیں اور احسن کو ورلڈ چیمپئن بنا کر چھوڑا۔
احسن کی کہانی بہت مختصر لکھی ہے، جب احسن کراچی کھیلنے کے لئے گیا تو اس کی جیب میں ایک پیسہ نہیں تھا، وہ کیسے کراچی پہنچا یہ درد ناک کہانی ہے، اس کی کہانی سن کر دل مزید افسردہ ہو جائے گا، احسن رمضان نے میڈیا کو روتے ہوئے بتایا کہ جس خواب کو حقیقت بنانے کے لئے میں نے ہرمشکل برداشت کی اور ورلڈ چیمپئن بنا میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پولیس قومی ہیرو کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی، سی سی پی او کہنا ہے کہ رات دس بجے کے بعد تمام کاروباری سرگرمیاں بند کرنیکا حکم ہے، واہ سی سی پی او صاحب، کتنے بھولے ہیں آپ، لگتا ہے آپ سارا دن کام کر کے رات آٹھ بجے سو جاتے ہیں۔
سی سی پی او صاحب کبھی میرے ساتھ رات دو بجے باہر نکلیں جب صحافی اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا رہے ہوتے ہیں، پورے شہر کے ڈھابے، تھڑے اور کھوکھے کھلے ہوتے ہیں، پولیس والے کہیں سے کیش اور کہیں سے چائے، بوتل، سگریٹ لے کر آنکھیں بند کر کے چلے جاتے ہیں، ہرروز ایسے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں، احسن رمضان تو پریکٹس کر رہا تھا سنوکر کلب تو نہیں چلا رہا تھا، جب اس نے تعارف کرا دیا تھا تو کیا ورلڈ چیمپئن کا احترام لازم نہیں تھا، وارننگ بھی دی جا سکتی ہے، ملک میں کوئی جنگ تو لگی نہیں تھی کہ لائٹس آن تھیں، اس لئے دشمن کے حملے کا خطرہ ہے، یہی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ میں لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں ان میں سے بڑی تعداد پولیس اور ٹریفک وارڈن سے شاکی تھی
پولیس کے بڑے افسران کو حکمرانوں کے پروٹوکول سے فرصت نہیں ملتی، اگر وقت مل بھی جائے تو اے سی کے کمرے سے باہر نہیں نکلتے، عوام ان کے کمروں کے باہر گھنٹوں گرمی میں انتظار کرتے ہیں مگر صاحب دیدار کرانا ہی پسند نہیں کرتے، یہی وجہ سے کہ پولیس کے چھوٹے ملازمین اس اولاد کی طرح بگڑ چکے ہیں جن کے والدین کے پاس ان کی تربیت کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا، احسن رمضان کو جو ذہنی اذیت دی گئی ہے اس سے کیسے توقع کی جا سکتی کہ احسن رمضان ایک بار پھر ورلڈ چیمپئن بن کر ملک نام روشن کرے گا تو پھر پولیس والا ان سے ایک بار پھر کہے گا، دوبارہ چیمپئن بن کر ہمارے سر پر احسان کیا ہے۔



