آبناۓ ہرمز کی صورت حال


آبنائے ہرمز بحریہ عرب میں ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے جو مشرق وسطیٰ اور ایران کی آبی سرحدوں کے عین درمیان ایک تنگ اور دشوار گزار راستہ ہے۔ اس سے دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی تیل اور دیگر اجناس کی ترسیل کی جاتی ہے۔ یہاں امریکی دلچسپی بھی نمایاں ہے۔ ایران اس علاقے میں اپنی عملداری قائم کرنے کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ اپنی پائیدار دوستی نبھانے کے لیے ہمہ وقت برسر پیکار دکھائی دیتا ہے۔

کئی مرتبہ بحری جہازوں کی آمد و رفت میں ایرانی مداخلت کے وجہ سے وہ سیخ پا رہتا ہے۔ گویا سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔ ایک تازہ ترین بیانیے کے مطابق امریکی بحری بیڑے کو ایک مرتبہ پھر سے اس خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جین آسٹن نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اس حکم نامے کے مطابق یو ایس ایس باٹان جو 26 وین بحری یونٹ کا حصہ ہے یہاں مستقل تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس بحری بیڑے میں تین ایسے بحری جہاز ہوں گے جن میں نفری 2500 بحری ملازمین کی ہو گی۔

امریکی بحری جہاز میسا واردہ اور تیسرا جہاز کارٹر ہال بھی اس بحری بیڑے کا حصہ ہوں گے ۔ یہ دستہ اپنے مستقر، جو ورجینیا میں واقع ہے، سے اس ماہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق یہاں ہماری عمل داری زیادہ بہتر ہو گی اور امریکی دھاک بیٹھے گی۔ حالیہ دنوں میں ایک فیصلے کے مطابق امریکی لڑاکا جہاز

تھامس ہڈنر اور کئی ہوائی جہاز جیسے ایف 35 اور ایف 16 بھجوائے جا رہے ہیں جو اس علاقے میں اپنی عمل داری کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوں گے۔ واضح رہے کہ یہاں پہلے سے ہی ائے 10 A ہوائی بحری و فضائی افواج کا ایک گروپ موجود ہے جو ایرانی حمل و نقل پہ گہری نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔ ایران پہ الزام ہے کہ اس ماہ اس کی بحری افواج نے بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت میں خلل ڈالا تھا اور ایک جہاز پر تو باقاعدہ فائرنگ بھی کی گئی تھی۔

یہ جہاز اب ان راستوں میں اپنی اپنی منازل کی جانب رواں کمرشل جہازوں کو ہوائی تحفظ فراہم کریں گے اور نگرانی کا نظام بہتر کیا جائے گا۔ جنرل ایرک کوریلا جو امریکی مرکزی کمانڈ کے سربراہ کے طور فرائض سر انجام دے رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ہماری جستجو ہے کہ اس علاقے یعنی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت بلا مداخلت اور کسی خوف و خطر سے ماورا اپنا سفر پایۂ تکمیل تک پہنچائیں اور کسی بھی ایرانی خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

اس تنگ سے گزرگاہ کی اپنی ہی ایک مخصوص تاریخ رہی ہے۔ بحری راستوں پر حکمرانی کی خاطر یہ خطہ صدیوں میں جنگ و جدل کا موجب رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک یہاں شہنشاہ ہرمز کے نام سے ایک سلطنت قائم رہی پھر پندرہویں صدی میں یہاں پرتگالی حکمرانی لگ بھگ 115 سال تک قائم رہی۔ اس کے بعد اس کے کئی حصے بخرے ہوئے یا کیے گئے بہرحال اب عرب اور ایرانی اختلافات کا ابھی خاص پہلو اس پانی کے اندر وابستہ ہے۔ چونکہ دنیا ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے اس لئے ہر کوئی اپنا حصہ بقدر جثہ لینے کے لئے ہمہ وقت محو جستجو ہے۔ آنے والے ماہ و سال میں واضح ہو گا کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ امریکی موجودگی سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام پہ پیش رفت پہ کڑی نگاہ رکھنے کا ایک نسبتاً آسان ذریعہ میسر ہو گا اور عرب دوستوں کی دلداری بھی ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS