سیاسی ادل بدل کے ہاتھوں معاشی قتل
پاکستان کی سیاست پچھلے کئی سالوں سے جمہوری اقدار کی بجائے ادل بدل کے گرد گھوم رہی ہے۔ بظاہر انتخابات بھی ہوئے اور عوامی نمائندوں کے ذریعے سے حکومتیں بھی بنتی رہیں مگر جمہوریت کی اصل روح رواں جمہور نہیں، جمود رہا ہے جس نے ہماری معیشت کو بھی جمود کا شکار کر دیا ہے۔ اور اب آسیب زدہ جمہوریت ہی بے سدھ نہیں پڑی بلکہ روح بھی بدحال دکھائی دے رہی ہے جن کو معاشی تقویت کے بغیر کھڑا کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا آئین جس پائیدار سیاسی نظام کی یقین دہانیاں کرواتا ہے ان کے پیچھے کارفرما اصل طاقت کا مزاج آج تک کسی کو سمجھ ہی نہیں آیا اور اس کا انحصار کبھی بھی کوئی پائیدار پالیسی نہیں رہی بلکہ شخصیات کی سوچ کے مرہون منت رہا ہے۔ جس کا علاج ڈھونڈنے میں اب تک کی تمام سیاسی و جمہوری کوششیں ناکام رہی ہیں۔ کبھی پانامہ سے اقامہ نکال کر سیاست کے اندازے بدل دیے جاتے ہیں تو کبھی آر ٹی ایس کو بٹھا کر جمہوریت کے پیمانے بدل دیے جاتے ہیں۔
عدالتیں عدل کی بجائے بدل پر زیادہ یقین رکھتی ہوئی نظر آتی ہیں اس کی وجہ بھی اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی مگر اس کا سہرا تو بہرحال ان کے سر ہی ہے جو اس برات کے دلہا بنے ہوئے ہیں اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ ان کو اپنے انصاف پر ابھی بھی اتنا ہی گھمنڈ ہے جتنا سیاستدانوں کو اپنی جمہوریت پر۔ سیاستدانوں، قاضیوں، صحافیوں اور اس ملک کے مہربانوں کی کرم فرمائیاں دیکھ کر اب تو دو قومی نظریہ بھی شرمسار دکھائی دینے لگا ہے۔
میثاق جمہوریت بھی اب تو مایوسیوں اور مجبوریوں کا شکار مجبوراً اًیک میثاق معیشت کا روپ دھارتا جا رہا ہے جس کا اب مقصد صرف اور صرف معیشت کو بہتر کرنا ہے اور اس کے خد و خال کا اندازہ شہباز شریف کی سوچ و عمل اور ان کو ملنے والی اندرونی و بیرونی پذیرائی اور اس پر ان کے اعتماد سے لگایا جاسکتا ہے۔ اب اس اعتماد کے پیچھے اصل طاقت پچھلے ڈیڑھ سال سے ان کا تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیتیں اور سخت محنت بھی ہے اور ان کاوہ مزاج بھی جو ہر ایک کو اس کے حصے کی محنت پر حوصلہ افزائی بھی دیتا ہے۔ اب اس کی مستقبل بارے کیا حکمت عملی ہے یا اس سے اس ملک و قوم کو کیا فائدہ حاصل ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر پچھلے سالوں کی سیاست کا معیار دیکھ کر تو لگتا ہے کہ اب ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لئے بس یہی آخری حل رہ گیا تھا۔
چلیں جہاں اتنے زیادہ جمہوریت کے تجربات سے گزرے ایک نئی جہت بھی آزما دیکھتے ہیں ویسے بھی کسی کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں۔ ہمیں جمہوریت کی کوئی بھی شکل آج تک راس نہیں آئی اور جمہوریت بھی عالمی سطح پر اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کی لونڈی بن چکی ہے جس کی تعریف بھی دولت اور طاقت کی مرہون منت ہے اور وہی اس جیت میں بازی لے گئے ہیں جنہوں نے معیشت کی دوڑ میں سبقت حاصل کی ہے۔ آج کی جدید جمہوریت کو کشمیر میں ظلم نظر نہیں لیکن فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے حقوق نظر آتے ہیں کیونکہ ہندوستان اس وقت دنیا کی پانچویں معیشت ہے اور پاکستان کی معاشی کشتی ڈوبتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ چین کی جمہوریت کے تمام مغربی اور شمالی امریکہ کے جمہوریت پسند ملک نقاد رہے ہیں مگر اب ان کی معیشت جب دنیا میں تیسرا درجہ حاصل کر چکی تو کسی کے پاس بھی ان کی جمہوریت کی تعریف کے سوا کوئی چارہ دیکھنے کو نظر نہیں آ رہا۔ چین ویٹو پاور بھی ہے اور دنیا میں امن کی سیاست کا ایک نمونہ بھی۔
ہمیں بھی اپنی حقیقی اقدار سے ہم آہنگ کوئی جمہوریت کی جہت کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس کے اندر ہماری جمہوریت کو درپیش سب سے بڑے چیلنج طاقت کی روح رواں کی شخصیت کی سوچ کے اثرات کو مستقل طور سیاست میں آئینی شرکت دار بنا نے کی ضرورت ہے تاکہ شخصیت کے بدلنے سے ملکی پالیسیاں بھی بدلنی نہ پڑ جائیں اور جہاں ملکی پالیسیوں کی فیصلہ سازی کی شرکت داری کو بہتر بنانا ہے وہاں طاقت کے منبع کو بھی کسی آئینی شرکت داری کے تابع لایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ملک کو افسر شاہی کی محدود سوچوں سے آزاد کروانے کی بھی اشد ضرورت ہے اور معیشت کی بہتری کے روڈ میپ کی طرف بڑھنے سے پہلے بدعنوانی کو بھی ضرب عضب کی طرز کی کسی حکمت عملی سے ختم کرنے کے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ معیشت کو سرکاری راہ زنی سے محفوظ راہ دے کر ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دولت ملکی خزانے کی بجائے ماضی کی طرح اہم شخصیات کی جیبوں میں جاتی رہے۔
مختصراً یہ کہ ہمیں معیشت کی قاتل جمہوریت یا سیاست نہیں چاہیے جو ہمیں 9 مئی سے دوچار کرے بلکہ وہ جمہوریت چاہیے جو سلامتی اور امن کی ضامن ہو اور جمہور سے نسبت رکھتی ہو۔ عوام اب روایتی جمہوریت کی حمایت کرتے کرتے تھک چکے ہیں جو کبھی ہائبرڈ ہوجاتی ہے تو کبھی چمگادڑ بن جاتی ہے۔ کبھی ڈنڈے کے آگے لگ کر دوڑ پڑتی ہے تو کبھی مال کے پیچھے دوڑتی دوڑتی سرحد پار جا بیٹھتی ہے۔ اب جمہوریت بھی چاہیے تو کوئی غیرت مند چاہیے جس کو اپنی بھی عزت کا خیال ہو اور عوام کا بھی فکر ہو۔
عوام کو اب وہ نظام چاہیے جس سے ان کو روزگار ملے، بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے روزی ملے اور اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور سر کو ڈھانپنے کے لئے کوئی چھت ملے۔ اور اس کے لئے کوئی خواب نہیں، اناج چاہیے۔ کوئی نظریہ نہیں، مسیحا چاہیے۔ کوئی آزادی نہیں، میلادی چاہیے۔ اب مصلحت کی تھپکیاں نہیں، شفقت کی جپھیاں چاہیں۔
اب جمہوری یا سیاسی نہیں معاشی اتحاد چاہیے۔ جس میں سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے والی سیاست چاہیے، امیری اور غریبی کے فرق مٹانے والی آمریت چاہیے، سب میں ایک جیسا بانٹنے والی حکومت چاہیے اور سب کی انگلی پکڑ کر چلنے والی وکالت چاہیے، سب کو ایک آنکھ سے دیکھنے والی عدالت چاہیے۔ ہر خاص و عام کی آواز بننے والی صحافت چاہیے۔ سیاسی ادل بدل کے ہاتھوں معاشی قتل کا اب کوئی نعم البدل چاہیے۔


