شادی: مشاہدات و تجربات کا گورکھ دھندہ
شادی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بولنے کے لیے ہر شخص کے پاس گھنٹوں سیر حاصل بحث کا مواد موجود ہے، خواہ اس نے شادی کی ہے یا نہیں؛ اس سے غرض نہیں۔ شادی ایک عمومی موضوع ہے جسے مذہب اور سیاست کے بعد تیسری پوزیشن حاصل ہے۔ برصغیر میں صدیوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوتی رہی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز تسلسل سے جاری ہے۔ جہاں دو لوگ بیٹھ گئے۔ ہلکی پھلکی جگالی کے بعد بات گھوم پھر کر مرد عورت کی ذات تک آتی ہے۔ ان کے باہمی تعلق سے متصل شادی کا موضوع ایسا چھڑتا ہے کہ پھر فریقین کے دلائل و براہین کسی خاطر میں نہیں لائے جاتے۔ کنواروں اور بیاہتوں کے درمیان اسی موضوع کو برسوں میں نے تسلسل سے زیر بحث دیکھا ہے۔ نت نئے نکتے تراشے جاتے ہیں۔ نئے نئے فلسفے گھڑے جاتے ہیں۔ چٹکلوں، لطیفوں سے ہڈ بیتی قصوں کی طولانی کا سلسلہ کسی صورت تھمتا نہیں۔ اس موضوع پر جو کچھ سنا اور جو تجربے سے گزرا۔ اس کا مختصر تحلیلی جائزہ نکات کی صورت پیش خدمت ہے۔ یہ ایک ناقابل تحدید موضوع ہے جس پر جتنا بھی لکھا، بولا، سنا اور کہا جائے کم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
٭۔ شادی مکمل ہی اس وقت ہوتی ہے جب میاں بیوی اپنا علاحدہ گھر بنا لیتے ہیں۔ میاں اپنے نام کی نیم پلیٹ لگا لیتا ہے اور بیوی گیٹ کی چابیاں سنبھال لیتی ہے۔
٭۔ شادی کے لے لیے اچھے اور برے دن ایک جتنی مصیبت ثابت ہوتے ہیں : اچھے دنوں میں میاں بگڑ جاتا ہے اور برے دنوں میں بیوی۔
٭۔ شادی نہ تو سماجی مسائل کا شکار ہوتی ہے، نہ معاشی، مذہبی اور سیاسی۔ شادی جہاں بھی خراب ہو گی، نفسیاتی مسائل میں الجھ کر خراب ہوگی اور نفسیاتی مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں؛ جب ہماری تعلیم ہمارے مسائل حل کرنے میں مدد نہ کر رہی ہو، اور ہم منفی طرز فکر اپناتے جا رہے ہوں۔
٭۔ ہماری شادی نے ویسا ہی ہونا ہے؛ جیسی ہماری زندگیاں ہیں۔ آپ ایک جھوٹی اور منافقانہ زندگی گزارتے ہوئے، پسی ہوئی اور مظلوم ذہنیت کے ساتھ زندہ رہتے ہوئے، سچی اور صحتمند شادی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔
٭۔ زیادہ تو شادیوں کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں کہ وہ بری شادیاں تھیں۔ دراصل ان شادیوں میں مبتلا انسان ایک سے اکتا چکے تھے، یا ایک دوسرے سے اکتا چکا تھا، وہ اسے بدل کر اس کی جگہ کوئی دوسرا لانا چاہتا تھا۔ اگر انسان کو چوائس مل جائے تو وہ اسے ضرور استعمال کرتا ہے۔ اگر آپ کو سرجری کرانے، سر کے بال لگوانے کی چوائس مل گئی ہے، تو آپ کبھی نہ کبھی اس چوائس کو استعمال ضرور کرنا چاہتے ہیں۔ ماں باپ کوئی نہیں بدلتا، بچے کوئی نہیں بدلتا، بہن بھائی کوئی نہیں بدلتا، لیکن اپنا پارٹنر بدلنے کی خواہش ہر کسی کو ہوتی ہے؛ کسی نہ کسی صورت میں؛ کیونکہ وہاں بدل لینے کی اجازت، یا طاقت ملی ہوئی اور موجود نظر آتی ہے۔ شادی کامیاب وہ ہوتی ہے جس میں پارٹنر بدلنے کی اجازت (خواہش) نہیں ہوتی (پیش نہیں آتی)
٭۔ شادی شدہ مرد جو اپنی بیوی کی برائیاں کرتے نہیں تھکتا؛ دراصل اول درجے کا دھوکے باز ہوتا ہے۔ یہ صبح اپنی بیوی کے ہاتھ کا ناشتہ کھا کر، اسی کے ہاتھ کے دھلے اور استری کیے ہوئے کپڑے پہن کر، اسی کی گفٹ کی ہوئی پرفیوم لگا کر، اسی کو دوستوں کو حلقہ احباب میں ذلیل کرتا ہے اور سر شام پھر اسی کے آستانے پر اسی کے رحم و کرم پر گھر کی چار دیواری میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ عورت اس پر بھروسا کرتی ہے اور سارا دن اس کے آنے کا انتظار کرتی ہے اور اس کے بچوں اور عزیز و اقارب کی سخت سستی کو برداشت کرتی ہے۔ میں اسے اول درجے کا دھوکا باز ہی کہوں گا۔
٭۔ شادی کو جدید ترین سوشل کانسپٹ کے طور پر عورت نے بہت پہلے قبول کر لیا تھا۔ شاید اس لیے کہ شادی کے زیادہ تر فوائد عورت کے حصے میں آتے تھے لیکن مرد نے اسے آج تک دل سے قبول نہیں کیا؛ وہ آج بھی سمجھتا ہے، شادی اس کی مردانہ صلاحیتوں کو مقید یا آرگنائز کرنے کی تدبیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور وہ ایسا ہونے نہیں دے گا۔
٭۔ شادی ہمیشہ اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا مندی سے کریں۔ ماں باپ نہ ہوں تو تایا چچا، خالہ پھپھو کسی اور بڑے بزرگ کی مرضی اور مشاورت سے کریں۔ شادی کبھی اپنی مرضی سے نہ کریں اور جہاں کالی محبت ہو وہاں تو بالکل نہ کریں۔
٭۔ پہلی بات تو یہ کہ شادی ہونی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ مناسب عمر میں ہونی چاہیے اور تیسری بات یہ کہ جہاں ماں باپ کہتے ہوں وہاں ہونی چاہیے۔
٭۔ انسان شادی سے پہلے سمجھتا ہے؛ شاید آئیڈیل ہی سب کچھ ہے۔ شاید زندگی کی خوشیوں کے لیے پسند کی شادی ہی سب کچھ ہے۔ اسے تو شادی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ زندگی کی خوشیوں کے لیے اچھے سیاسی اور معاشی حالات سب سے ضروری ہیں۔
٭۔ شادی میں صحیح اور غلط اس طرح نہیں چلتے جس طرح ڈاکٹری اور عدالت میں چلتے ہیں۔ وہاں تو صحیح اور غلط زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتے ہیں لیکن شادی میں ایسا نہیں ہے۔ شادی میں شادی اہم ہے، تعلق اہم ہے، صحیح اور غلط اہم نہیں ہے۔ اگر شادی ہی نہ رہی تو صحیح اور غلط کا فائدہ؟ نقصان تو دونوں کا ایک جیسا ایک جتنا ہوتا ہے۔
٭۔ شادی کی کوئی کہانی شادی سے بڑی نہیں ہوتی؛ شادی سے دلچسپ نہیں ہوتی۔ کہانی تو ختم ہوجاتی ہے؛ پندرہ منٹ، آدھ گھنٹے، ایک دن میں لیکن شادی چلتی رہتی ہے۔ شادی میں ہر لمحہ ایک کہانی ہے۔ کبھی ایک جیسی لیکن نئی اور کبھی نئی لیکن مختلف۔ آپ نے کبھی فلم کے اختتام پر سوچا، اس اینڈ کے بعد ہیرو اور ہیروئن کیسے زندگی گزاریں گے۔ فلم تو ایک واقعے پر بنی ہے اور شادی کئی واقعات پر بنی ہے۔
٭۔ شادی کے بعد جس احساس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؛ وہ شادی شدہ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ میاں بیوی کی مہینے پندرہ دن بعد اکٹھے گھر سے باہر جانے والی سرگرمیاں یہ احساس بہت زیادہ اچھی طرح پیدا کر دیتی ہیں۔
٭۔ بہت سے لوگوں کی شادیاں صرف اس لیے ٹوٹنے سے بچ جاتی ہیں کہ زندگی کے دوسرے کرائسز (مسائل) انھیں اتنا موقع ہی نہیں دیتے۔
٭۔ شادی کا ایک برا وقت وہ ہے جو قدرتی طور پر؛ بیرونی عوامل کے پیش نظر آتا ہی نہیں ہے اور دوسرا وہ ہے جو ہم ہر روز، ہر ہفتے میں ایک دو دن، مہینے میں دو چار دفعہ؛ خود لے آتے ہیں :ایک دوسرے پر اپنے احسانات ثابت کرتے ہوئے؛ ایک دوسرے کے دل میں اپنی محبت اور احساس پیدا کرتے ہوئے اور ایک دوسرے سے اپنی تعریف سننے کے حربے استعمال کرتے ہوئے۔
٭۔ شادی تو باہمی احساس کا رشتہ ہے؛ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا حساس ہو؛ ایک دوسرے کا احترام ہول ایک دوسرے سے محبت ہول ایک دوسرے کی عزت کا لحاظ ہو، ایک دوسرے کے جذبات کا خیال ہو۔ یہ سب ہے تو شادی ہے؛ ورنہ جو مرضی نام دے لیں (کیا فرق پڑتا ہے )
٭۔ ہمارے ہاں گھریلو مسائل اور ناچاقیوں کا حل، شادی سے پہلے میل ملاقات، محبت اور محبت کی شادی بتایا جاتا ہے۔ ہر کوئی چار و ناچار اس کی وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ یورپ جہاں سے بہتا ہوا یہ تصور ادھر آ پہنچا ہے؛ اس طرح کی شادی کا تجربہ کر چکا ہے اور بڑی تفصیل سے کر چکا ہے۔ نہ تو گھریلو مسائل حل ہوئے ہیں اور نہ ان کے یہاں طلاق کی شرح نیچی آئی ہے۔
٭۔ شادی کے اوائل دنوں میں بندہ اپنی بیوی کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے؛ اکثر وقت بھی نکل آتا ہے لیکن پیسے نہیں ہوتے؛ درمیانی عمر میں پیسے بھی ہوتے ہیں اور جی بھی چاہتا ہے لیکن وقت نہیں نکلتا۔ آخری عمر میں پیسے بھی ہوتے ہیں؛ وقت بھی ہوتا ہے لیکن جی ہی نہیں چاہتا۔ عجیب بے ترتیبی کا شکار رہتی ہے شادی۔
٭۔ شادی کے شروع شروع میں میری بیوی کہتی ہے: تم قہقہہ بہت اچھا لگاتے ہو، اور میں نے ہر بات پر، ہر جگہ قہقہہ لگانا شروع کر دیا۔ ایک دن وہ بولی: تم آرام سے نہیں ہنس سکتے؛ ضروری ہے گلا پھاڑ کر قہقہہ ہی لگانا ہے۔ بات صرف یہ تھی کہ میں اپنی تعریف کو مینج نہیں کر سکا تھا۔
٭۔ ہر شادی میں ایسے دن آتے ہیں جب انسان تنگ آ جاتے ہیں؛ جب برداشت ختم ہو جاتی ہے اور ان کا دل چاہتا ہے آج؛ اسی وقت اپنی شادی ختم کر لیں اور کچھ کر بھی لیتے ہیں؛ لیکن زیادہ تر خوش قسمت کسی مصلحت کے تحت اپنا ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں اور اگلے ہی دن حالات بہتر ہوئے دیکھ کر شکر کرتے ہیں کہ کل کوئی فیصلہ نہیں کر لیا تھا۔
٭۔ شادی خراب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم شادی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ ہم زیادہ تر رسیونگ اینڈ (لینے کی طرف) پر کھڑے ہوتے ہیں دینے والے ہاتھ کی بجائے؛ لینے والا ہاتھ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭۔ اچھے معاشروں کی اچھی شادیاں اور برے معاشروں کی بری۔ پاک معاشروں کی پاک شادیاں اور گندے معاشروں کی گندی۔ شادی معاشرے کا اثر لیتی ہے اور معاشرے پر اثر بھی ڈالتی ہے۔ ایک ایسے فوارے کی طرح؛ جو فوارہ بھی ہے اور ویسٹ پانی کا گٹر بھی۔ پانی بھی نکل رہا ہے اور بہہ کر نیچے گٹروں میں بھی جا رہا ہے۔ یہ بات کہنا مشکل ہے کہ شادی کو بہتر بنایا جائے؛ تب معاشرہ بہتر ہو گا کہ معاشرے کو بہتر بنایا جائے تو شادی بہتر ہوگی۔ میں تو کہتا ہوں شادی کو بہتر بنایا جائے تو معاشرہ بہتر ہو جائے گا، لیکن کیونکہ اس کام میں ذمہ داری میرے سر پر آتی ہے؛ اس لیے بہت سے لوگ کہیں گے : نہیں؛ پہلے معاشرہ بہتر بنایا جائے؛ پھر شادی بہتر ہو جائے گی۔ یہاں بھی ہماری چوائس، اپنی اپنی فطرت کے مطابق ہوگی؛ جب لوگوں کو گندے معاشرے سے فائدہ ہو رہا ہے؛ چاہے مالی نہ سہی، چاہے ذہنی اور جذباتی ہی سہی؛ وہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کیوں کرے گا؛ وہ اپنی شادی کو بہتر بنانے کی کوشش کیوں کرے گا۔
٭۔ شادی کا سب سے بدقسمت دور وہ ہوتا ہے؛ جب ہم بغیر کسی وجہ کے دوسرے کو ناپسند کرنے لگتے ہیں اور علاحدہ ہونے کا بہانہ ڈھونڈنے لگے ہیں؛ بہانے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں دوسرا کوئی ایسا کام کرے؛ (تاکہ اس کو بہانہ بنا کر) ہم مستقل اس سے علاحدہ ہو جائیں۔


