پہاڑوں کی انگڑائیاں (3)


مال روڈ پر ہاتھ سے کھینچنے والی گاڑی بھی دیکھی۔ کچھ لوگ روزی کی خاطر لوگوں کو اس میں بٹھا کر ہاتھ سے دھکا لگا رہے تھے۔ دو خواتین آ منے سامنے بیٹھی تھیں۔ ایک بزرگ شخص دھکیل رہا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ بھی ہوا اور یہ مناسب نہ لگا کہ ہم اس طرح بیٹھیں اور کوئی بزرگ اپنے ہاتھوں سے دھکیل کر سیر کرائے۔ لیکن ان لوگوں کی روزی کا ذریعہ بھی یہی تھا۔ اس علاقے میں مقامی خواتین بہت کم نظر آئیں۔ زیادہ تر دوسرے علاقوں سے سیاحت کی غرض سے آئی ہوئی فیشن ایبل خواتین نظر آئیں۔ میں حیران تھی یہ کلچر دیکھ کر جو اسلامی اور پاکستانی کسی صورت نہیں کہا جا سکتا۔ یورپین زیادہ لگ رہا تھا۔ میرا یہ سب دیکھ کر دل کھول رہا تھا۔ کہاں چلا گیا ہمارا کلچر اور تہذیب جو پاکستان کی پہچان ہونی چاہیے۔ کھلی زلفیں مختلف رنگوں میں رنگی، جین شرٹ پہنے جوان لڑکیاں جن کے پاس دوپٹے نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ”او خدا! یہ کیسی دھند ہے جس میں پاکستان کی تہذیب اور ثقافت کھو گئی ہے یہ دھند غیروں کی عطا کردہ ہے جسے ہم نے دل و جان سے اپنا لیا ہے۔ اس دھند کی دبیز تہیں ہٹتے ہٹتے بھی صدیاں درکار ہیں“ یہی خیالات لیے واپسی کا رخ کیا۔ اب جب چئیر لفٹ پر بیٹھی تو گھبراہٹ کم تھی۔ راستے کا سفر بہت ہی سہانا تھا۔ موبائل نکال کر خوبصورتی کو قید کرنے کی کوشش کی۔ اب زیادہ لطف اندوز ہوئے۔ ہواؤں کے دوش پر اڑتے ہوئے پرندوں کی مانند آ زاد فضاؤں سے گزر رہے تھے۔
سب تھکے ہارے ہاسٹل واپس آ گئے۔ چہروں پر ایک مسرت جھلک رہی تھی۔ تھکن دور کرنے کے لیے رات کو زیادہ تر لوگوں نے پینا ڈول ٹیبلیٹ کھائی تھیں۔ اگلی صبح چار بجے وہسل کی آواز آئی، اٹھ جائیں نماز ادا کر لیں۔ نماز کے بعد ورزش، پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ اس کے بعد ہم میڈم شکیلہ سے پوچھ کر نتھیا گلی اور ایوبیہ کی طرف سیر کے لیے روانہ ہوئے۔ مری سے نکل کر باڑیاں آخری علاقہ تھا۔ اس کے بعد KPK کا علاقہ شروع ہوا۔ ہمارے ہاسٹل سے یہ کافی دور تھا۔ نتھیا گلی میں دو پارک تھے۔ ایک چھوٹا اور دوسرا بڑا تھا۔ پارک کے راستے بھی اونچے نیچے تھے۔ کبھی بلندی پر چڑھنا پڑتا کبھی پستی میں اترنا پڑتا تھا۔ وہاں ایک درخت دیکھا جس پر سرخ رنگ کا پیلوں جیسا پھل لگا تھا۔ میں نے وہ توڑ کر وہاں موجود ایک لڑکے سے پوچھا یہ کون سا درخت ہے؟
”باجی اس کے نام کا تو پتہ نہیں لیکن یہ زہریلا پھل ہے ایک آ دمی نے کھایا تھا تو وہ مر گیا تھا۔“ اس نے کہا۔ میں نے فوراً وہ پھینک دیا اور بازار کی طرف سیڑھیاں اتر گئے۔ دوسری جگہوں کی نسبت یہاں مہنگائی کچھ زیادہ تھی۔ کچھ اشیاء خریدیں اور واپس پارک جانے کی ہمت کہاں تھی۔ ڈرائیور کو بازار کی طرف ہی بلایا اور ایوبیہ کی طرف چل پڑے۔ بھوک سے برا حال تھا سب کا۔ ہوٹل سے کھانا کھایا اور ایوبیہ کے بازار کی طرف چل پڑے۔ بہت تھکن تھی لیکن گھر والوں کے لیے اور دوست احباب کے لیے کچھ خریداری بھی ضروری تھی۔ ہم سٹالرز والی دکان پر پہنچے۔ مجھے تو خریداری کم ہی آتی ہے۔ ہماری مس پروین چونکہ ہر سال آتی ہے اس لیے اسے کچھ قیمتوں کا اندازہ ہے۔ وہ ابھی قیمت طے کر رہی تھی کہ مس نبیلہ نے ایک سو بڑھا کر قیمت بتا دی۔ ہمیں کچھ عجیب سا لگا۔ مس پروین نے مس نبیلہ سے کہا تم یہ بتاؤ ہماری طرف کی ہو یا دکان دار کی طرف کی؟ قیمت طے ہوئی اور سب نے اپنی پسند کی اشیا خریدیں۔ واپسی پر بندر پوائنٹ اور کشمیر ویو پر رکے۔ بندروں کی تصاویر بنائی گئیں۔ ہماری ایک طالبہ کا دوپٹہ بندر نے کھینچ لیا وہ چیخیں مارتی دور ہٹ گئی۔
کشمیر ویو پر بھی کچھ دیر تک قدرت کے حسن سے لطف اندوز ہوئے تصاویر بنائی گئیں۔ ہاسٹل واپسی پر ٹیچرز کا ارادہ تھا سکاؤٹ ہاسٹل کا بھی وزٹ کیا جائے۔ جب اس راستے پر گئے تو وہاں تو بالکل دل دہل گئے۔ یک دم گاڑی بہت بلندی پر ہوتی اور یک دم بہت پستی میں چلی جاتی۔ ایسا لگتا تھا گاڑی کسی لمحے بھی ڈگمگا سکتی ہے اور ہماری زندگی کا آ خری دن ہو سکتا ہے۔ سب کی سانسیں خشک تھیں لیکن میں داد دیتی ہوں اس ڈرائیور کو جس کو مکمل مہارت تھی اس نے حفاظت سے گاڑی ایک ڈھلوان پر روک دی۔ باہر نکل کر ارد گرد کے مناظر دیکھے ہر نظارہ دوسرے سے حسین تر تھا۔ تین خواتین سلم اور سمارٹ، ہاتھوں میں مٹکے لیے پانی لینے کے لیے بلندی کی طرف جا رہی تھیں۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا یہ خواتین روزانہ ایسے ہی پانی لے کر جاتی ہیں۔ وہ کہنے لگا جی ہاں ”یہ خواتین تو بہت مضبوط ہیں“ ہاں یہ عادی ہیں۔ انسان جیسے ماحول میں رہتا ہے وہ وہاں کا عادی بھی ہو جاتا ہے۔ سیاحوں کے لیے جتنا علاقہ پر کشش ہے اتنا ہی زندگی گزارنا مشکل ہے۔ سکاؤٹس کی الوداعی تقریب چل رہی تھی۔ کچھ طالب علم اپنے برتن خود ہی دھو کر رکھ رہے تھے۔ سکاوٹس کے زیادہ تر خیمے لگے تھے۔ جہاں وہ رات دن گزار رہے تھے۔ یہ طالب علموں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کا اچھا موقع تھا۔
اگلے دن حسب معمول فارغ ہونے کے بعد مال روڈ بازار جانا تھا۔ تاکہ اگر کسی کی خریداری رہ گئی ہے تو مکمل ہو جائے۔ یہ بازار بھی کہیں سے اونچی دکانیں اور کہیں سے نیچی دکانوں پر مشتمل تھا۔ ہم سب نے اپنی پسند کی اشیا خریدیں۔ بازار کے ناہموار راستوں پر چلتے چلتے قدم تھک چکے تھے۔ رات ساڑھے آٹھ بجے ہاسٹل واپس آئے۔ سوچا 65 سیڑھیاں چڑھ کر کھانا کھانے سے بہتر ہے ہماری طالبات ہمارے لیے نیچے ہی کھانا لے آئیں۔
طالبات تو ہم سے بھی زیادہ تھک چکی تھیں۔ وہ ہمارا کھانا تو لائی ہی تھیں، اپنا بھی ساتھ ہی لے آئیں۔ سب بیڈ پر بیٹھ کر ابھی کچھ کھانا باقی تھا کہ میڈم عاطفہ اور فرزانہ تک شکایت پہنچ گئی۔ وہ دونوں آ کر ایسے ہمارے سروں پر کھڑی تھیں جیسے ہم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہو۔ اور ہم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ میڈم فرزانہ بولی۔ ”سب کھانا اوپر میس روم میں جا کر کھائیں گے“ میڈم شکیلہ بھی آ گئیں، مس پروین جاتے جاتے آپ نے مجھے شرمندہ کروایا۔ کیوں کھانا یہاں لائی ہیں؟
ہم نے یک زبان ہو کر کہا ”اوپر جانے کی ہمت نہیں تھی۔ اب تو کھانا ختم ہو چکا۔ آئندہ خیال رکھیں گے۔“
ان کے جانے کے بعد ہمیں بھی کچھ شرمندگی ہوئی کہ قوانین کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

Facebook Comments HS