ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا


جب سے خادم پاکستان اقتدار میں آئے ہیں۔ وہ دل پہ پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کر رہے ہیں۔ اور بڑے میاں لندن میں بیٹھ کر دل پہ پتھر رکھ کر ان مشکل فیصلوں کو قبولیت بخش رہے ہیں۔ دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کرنا خادم پاکستان کا معمول بن چکا ہے۔ خادم پاکستان کے دل پر پتھر رکھ کر فیصلوں نے پاکستانی عوام کو پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لہذا اب خادم پاکستان کو دل پر پتھر رکھ کر مشکل فیصلے کرنے کی بجائے پیٹ پر پتھر باندھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

کیونکہ دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرنا خود خادم پاکستان کی صحت کے لئے مضر ہے۔ جب خادم پاکستان پیٹ پر پتھر باندھ کر فیصلہ کریں گے، تو اس سے دو فائدے حاصل ہوں گے۔ خادم پاکستان کے دل پر پتھروں کا بوجھ کم ہو گا اور دوسرا پیٹ پر پتھر باندھ کر فیصلہ کرنے سے عوام کے مشکلات اور مسائل ان کو نظر آئیں گے۔ جب حکمران دل پر پتھر رکھنے کے بجائے پیٹ پر پتھر باندھ کر فیصلہ کریں گے تو ملک اور قوم کا زیادہ تر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اور مشکل فیصلوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس وقت ملک کے زیادہ تر مسائل موجودہ حکمرانوں کے دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اب خادم پاکستان ملک کے غریب عوام کے حالات زار پر رحم فرما کر اپنے مشیروں، وزیروں اور ارکان اسمبلی کو دل پر پتھر رکھنے کے بجائے پیٹ پر پتھر باندھنے کا حکم صادر فرمائیں۔ اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ تو جلد ہی ملک اور قوم کی قسمت بدل جائے گی۔ اور ملک کو قرضوں سے نجات مل جائے گی۔ کیونکہ یہ بدقسمت ملک ان بدعنوان سیاست دانوں، حکمرانوں، مشیروں اور وزیروں کے دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرنے کی وجہ سے قرضوں میں ڈوپ چکا ہے اور عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔

خادم پاکستان ملک کے 24 کروڑ عوام کے راہنما ہیں۔ جب آپ پیٹ پر پتھر باندھ دیں گے تو پوری قوم آپ کی پیروی کرتے ہوئے پیٹ پر پتھر باندھنا شروع کریں گے۔ تو عوام کو کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مہنگائی میں خود بخود کمی آئے گی۔ عوام آپ کو دعائیں دے گی، ملک ترقی کرے گا اور رہتی دنیا تک آپ کا نام روشن رہے گا۔ موجودہ تجربہ کار وزیر خزانے کے دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرنے سے سے ان کا دل بھی پتھر جیسا سخت ہو گیا ہے۔

اس وجہ سے مہنگائی سے بدحال عوام کی چیخ و پکار کی آوازیں ان کو سنائی نہیں دے رہی ہیں اور منہگائی ان کو نظر نہیں آ رہی ہے۔ یہ سب کچھ دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اب خادم پاکستان کو وزیر خزانہ کے پیٹ پر بھاری پتھر باندھنا چاہیے۔ تاکہ وزیر خزانہ کا دل غریب عوام کے لئے نرم ہو جائے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے بدحال عوام کی چیخ و پکار ان کو سنائی دے سکے۔ اس سے غریب عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا اور خادم پاکستان کی بھی نیک نامی ہو گی۔

Facebook Comments HS