دوسری ہجرت


بھانجے سے پوچھا بیٹا مستقبل کا کیا مالی ٹارگٹ رکھا ہے؟
بولا کروڑ پتی بننا ہے۔
میں نے کہا بہت تھوڑا ہے۔
کہنے لگا کروڑ پتی ہونا بھی کم ہے کیا؟
میں نے عرض کیا سمجھاتا ہوں۔

جب ہم نے آنکھ کھولی تو گاؤں میں ہر طرف (آج کی تعریف کے لحاظ سے ) غربت کا دور دورہ تھا۔ کرنسی نوٹ کی موجودگی ہی غنیمت تھی ورنہ زیادہ تر بارٹر سسٹم چلتا تھا جیسے گندم دے کر چینی لے لی۔ والد صاحب چونکہ سرکاری ملازم تھے لہٰذا ہمارے گھر تنخواہ کی صورت کرنسی نوٹ آتے تھے۔

ایک دفعہ نانا جی کو ایک ہزار روپیہ کی ضرورت پڑی تو مجھے یاد ہے کہ وہ اتنی بڑی رقم بن گئی تھی کہ وہ جیب میں ڈالنا ممکن نہ رہی۔ وہ روپے والی سو نوٹوں کی دس گڈیاں ایک مومی لفافے میں ڈال کر سائیکل کے ہینڈل کے ساتھ لٹکا کر لے گئے تھے اور یہ کہ ماموں کی بارات پر پانچ، دس اور پچیس پیسے والے سکے مٹھیاں بھر بھر کر نچھاور کیے گئے تھے جو کہ ایک غیر معمولی رقم سمجھی گئی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب ڈیزل پانچ روپے میں لٹر مل جاتا تھا اور ہم چار آنے ( چونی) کے چار کینو خرید کھاتے تھے جو اس وقت ہماری سکول کی ماہانہ فیس کے برابر ہوتی تھی۔

ایسے ماحول میں ہم نے بھی من میں نجانے کب عہد کر لیا تھا کہ ہم بڑے ہو کر لکھ پتی بنیں گے مگر عشروں کی محنت کے بعد جب تک ہم اپنے ٹارگٹ کو حاصل کرتے ہوئے لکھ پتی بنے تو لکھ کا ککھ نہ رہا تھا۔ آج اس لاکھ جس کا خواب سجایا تھا اس کی ویلیو ایک سنہری انگوٹھی کے برابر بھی نہیں رہی اور مزید یہ کہ شاید چند سالوں تک حکومت ایک لاکھ روپے کا سکہ جاری کر کے ہمارے عمر بھر کے ٹارگٹ کو ٹکوں میں تول دے اور فقیر بھی ہمیں کہتا پھرے کہ بابو جی معاف کرو ہم سکہ نہیں لیتے۔

اس کی ہنسی روکے نہیں رک رہی تھی۔ بمشکل ضبط کر کے بولا۔
ماموں جی آپ ہی کچھ ٹارگٹ تجویز کریں۔
میں نے اپنے تجربات کا نچوڑ نکالتے ہوئے کہا کہ بیٹا دھیان سے سنو۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹارگٹ جو بھی رکھو ڈالرز میں رکھو اور اس معاملے میں روپے کو بھول جاؤ۔ روپوں کے ٹارگٹ پر عمر بھر کی محنت صرف کر کے جب ٹارگٹ حاصل کرتے ہو تو اس کی ویلیو چند ٹکوں برابر نہ پا کر آپ اپنا سارا اعتماد کھو دیتے ہو۔
دوسرا یہ کہ اپنا ٹارگٹ چھوٹا رکھو اور اس کو طویل المدتی کے بجائے قلیل مدتی رکھو جیسے کہ اگلے دو سالوں میں میں نے یہ ٹارگٹ حاصل کرنا ہے۔ وہ حاصل ہو جائے تو تجزیہ کر کے اگلا ٹارگٹ مقرر کرو۔

تیسرا اور سب سے اہم سوال ہے کہ ٹارگٹ حاصل کیسے کرنا ہے۔ اس کے لئے آپ کو درست حکمت عملی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سکلز یا صلاحیت بڑھانی ہو گی۔ جوں جوں آپ کی صلاحیت بڑھتی جائے گی آپ کا ٹارگٹ آسان ہوتا جائے گا۔ متعلقہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تجربہ کار لوگوں سے اور مارکیٹ سے مسلسل انٹرایکشن اور ذاتی تجربہ آپ کی صلاحیت کو بڑھائے گا۔

”تو ڈالر کہاں سے آئیں گے“ اس کا سوال فطری تھا۔

بیٹا سادہ سی بات ہے پاکستان میں رہ کر ڈالر کمانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور تو وہ ہے فری لانسنگ۔ کوئی ایک پسندیدہ فیلڈ کا انتخاب کریں اور اس پر اپنی توانائیاں لگا دیں۔ یہاں بیٹھ کر وہاں سے ڈالر کمائیں۔

لیکن یہ تو مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ کوئی آسان رستہ بتائیں۔
آسان رستہ تو وہی ہے جو ہم بروقت نہیں اپنا سکے تھے اور آج اس پر افسوس کرتے ہیں۔
”وہ کون سا رستہ ہے جناب؟“ اس نے استفسار کیا

وہ رستہ یہی ہے کہ اس ملک کو بروقت چھوڑ کر کسی اور ملک شفٹ ہو جائیں۔ بدقسمتی سے اس وقت وطن عزیز اور نوجوان نسل دونوں کی خوشحالی اور بقاء اسی ”دوسری ہجرت“ سے منسوب ہے۔

Facebook Comments HS