استاد – ہمارے ناصح


ایشیائی شاعری کی دنیا میں واعظ ’شیخ‘ زاہد کے علاوہ ناصح سے بڑھ کر گالیاں شاید ہی کسی نے کھائی ہوں۔ بڑے سے بڑے شاعر نے بھی ان حضرات کی دل کھول کر ہجو اڑائی۔ حضرت امیر مینائی فرماتے ہیں

باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے
آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے

راقم اکثر یہ سوچتا تھا کہ شاعروں نے نصیحت کرنے والے کو برا کہا اور ان پے اتنا طنز کیوں کیا۔ بہاولپور یونیورسٹی کے روح فرسا واقعہ نے یہ ثابت کر دیا کے شعرا نے صحیح کیا۔

ہمارے ناصح ’ہمارے تعلیمی اداروں کے اساتذہ ہیں۔ جو گل انہوں نے کھلائے ہیں اس کی ہم ان سے بھولے میں بھی توقع نہیں کر سکتے۔ اسکولز میں درندوں کی طرح بچوں کو مار پیٹ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بچیوں کے ساتھ یہ کربناک سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو استاد بننے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ درندے ہیں اور استاد کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ بقول خمار بارہ بنکوی :

یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ

دیہی علاقوں میں آج بھی استاد کا لفظ نائی، حمامی اور باورچی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالات حاضرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان دو طبقوں میں یعنی پڑھانے والے اور دیگ پکانے والے میں کوئی فرق نہیں۔ تعلیم انسان کو اچھے اور برے میں فرق پہچاننے کی صلاحیت دیتی ہے‘ دوسرے انسانوں کا احترام کرنا سکھاتی ہے۔ پھر چاہے وہ دینی تعلیم ہو یا دنیاوی۔

کون لوگ استاد کہلانے کے حقدار تھے؟ اس کا اندازہ آپ کو مندرجہ ذیل واقعہ سے ہو جائے گا۔

مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ”مسلمانوں کے عروج و زوال کا دنیا پر اثر“ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک عالم کو ایک انگریز نے بریلی کالج میں پڑھانے کے عوض اڑھائی سو روپے ماہوار کی پیشکش کی جو کہ ایک نواب کی طرف سے ان کو ملنے والے وظیفہ سے پچیس گنا زیادہ تھی۔ لیکن انہوں نے صرف اس لیے معذرت کر لی کہ کہ یہاں طالب علم مجھ سے (مفت) سبق لیتے ہیں، ان کو چھوڑ کر میں کالج میں تعلیم دینے کے عوض پیسہ لے کر اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟

اسی کتاب میں درج ہے کہ کس طرح اپنے استاذ کی موت کی خبر سن کر ایک شاگرد نے رو رو کر اپنی آنکھیں خراب کر لیں۔

کچھ اساتذہ تو شاگردوں کی رہائش اور کھانے پینے تک کا بندوبست بھی خود کیا کرتے تھے۔

استاذ و شاگرد کے درمیان تعلق ایسا ہو تو شاگرد اپنی کامیابی کا کریڈٹ ضرور استاد کو دے سکتا ہے۔ لیکن ہمارے اساتذہ کا حال یہ ہے کہ جو اعلیٰ اخلاق کے سبق ہمیں دیتے پھرتے ہیں میں نے ہمیشہ ان کو اپنی بات کے خلاف جاتے دیکھا ہے۔ آج کا استاذ صرف ایک ادارہ کا ملازم ہے، جس نے یہ پیشہ صرف پیسہ بنانے کے لئے اختیار کیا ہے۔ پیچھے سے آرڈر آتا ہے کہ بچوں کی اتنی پرسنٹیج آنی چاہیے، اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے چکر میں بچوں کو ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی ہے۔ ہمارا نظام تعلیم بدلنے کی ضرورت ہے، آج ہمارے سسٹم نے صرف گریڈ میں الجھا دیا ہے۔ اس روش نے ہمارے بچے کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔

جو نظام تعلیم ہمیں جاہل رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے یہی لوگ اس کے آلہ کار ہیں، جن کا کام ہے ایک نسل کی ذہنی غلامی اور جہالت دوسری کو منتقل کرنا۔ ہمیشہ اساتذہ کے حقوق کی رٹ لگائی جاتی ہے۔ ہم نے کبھی طلباء کے حقوق ان کے منہ سے نہیں سنے کہ ان کی بھی کوئی عزت نفس ہوتی ہے۔ آپ ان پر تشدد نہیں کر سکتے۔ الٹا یہ سکھایا جاتا ہے ہم جو مرضی کریں چپ چاپ سہو۔ تعلیم و طب، یہ دو ایسے پیشے ہیں کہ ان کو خصوصیت کے ساتھ صرف وہی اختیار کرے جس کے اندر خدمت کا جذبہ ہو۔

واقعات ہمیں صحابہ کے سناتے ہیں، کام سارے الٹ کرتے ہیں اور عزت تابعین والی چاہتے ہیں۔ سی جی پی اے میں اپنے منظور نظر طالب علموں کو ترجیح دینے والوں کا الگ حساب کتاب ہو گا۔ جب آپ سفارش سے بھرتی ہوئے، بچوں کو نقل کرنے پر نہیں روکا، اسکول کالج میں پڑھا کر اکیڈمی کا بزنس بھی چمکایا کہ جو اسکول میں پڑھائیں گے وہی اکیڈمی میں، ہزاروں روپے فیس اور امتحان کے دنوں میں تیاری کروانے کی الگ فیس۔ جب آپ پیزا کھاتے ہیں تو آپ ہوٹل کے شکر گزار نہیں ہوتے کہ آپ بل ادا کرتے ہیں۔ ایسی کارکردگی والے اساتذہ بھی صرف ”بل“ پر قناعت کریں۔

تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!
دفع مرض کے واسطے پل پیش کیجیے
تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پیش کیجیے
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ ”بل پیش کیجیے!“

ایسے رویوں کی وجہ سے کسی استاد کے لئے میرے دل یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ یہ کوئی بہت بڑی قابل احترام شخصیت ہے جو سامنے کھڑی ہے۔ لیکن میں سب کی بات نہیں کر رہا، اچھے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔

A good teacher is like a candle—it consumes itself to light the way for others. ”
–Mustafa Kemal Atatürkا

Facebook Comments HS