زبان یار من ترکی


میں استنبول کے معروف تاریخی مقام تقسیم چوک پر کافی دیر سے کھڑا خالی ٹیکسی کا منتظر تھا۔ سیاحوں سے اٹے اس علاقے میں خالی ٹیکسی ملنا ناممکن نہیں تو خاصا مشکل تھا۔ شام کے مصروف اوقات میں ایک ٹیکسی خالی ہوتی تو کئی مسافر اس کی جانب لپکتے۔ استنبول کے ٹیکسی ڈائیور یوں تو انگریزی کو زبان غیر سمجھتے ہوئے اس سے ایسے احتراز برتتے ہیں جیسے ہمارے ہاں نوبیاہتا دلھن اپنے دولھا کا نام لینے سے شرماتی ہے لیکن یہی ڈرائیور مسافر سے منزل پوچھ کر ”نو“ کہنے میں دیر نہیں کرتے۔

اس ”نو“ کا سامنا مجھے بھی متعدد بار ہو چکا تھا۔ حالانکہ میرا ہوٹل شہر کے مرکز سے زیادہ دور نہیں تھا اور وہاں سے سواری ملنے کے روشن امکانات تھے مگر ان فربہ اندام اور اسٹیم انجن کی طرح سگریٹ کا دھواں اگلتے ڈرائیوروں کو شاید مسافروں کو ستا کر مزہ آتا تھا۔ میں دن بھر استنبول کے اPونچے نیچے راستوں پر چلنے کی وجہ سے تھکن سے چور تھا اور ہوٹل جانے کے لیے آدھے گھنٹے سے ٹیکسی کی تلاش میں تھا۔ چار پانچ ٹیکسیاں خالی ملیں لیکن الفتیح کا نام سنتے ہی نو کہہ کر ڈرائیور چلتے بنے۔

بالآخر ایک ڈرائیور نے ٹیکسی روکی تو میں نے موقع غنیمت جان کر پسنجر سیٹ والا دروازہ کھولا اور سیٹ پر براجمان ہو کر ڈرائیور سے فتیح جانے کے لیے کہا۔ دراصل فتیح وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا اسی لیے وہ متردد تھے۔ ڈرائیور نے برا سا منہ بنایا اور موبائل پر سو لیرا لکھ کر دکھایا۔ میں نے لکھا میٹر پر چلو یہ بیس لیرا سے زیادہ نہیں بنتے، سو بہت زیادہ ہیں۔ اس نے پڑھا تو اس کا چہرہ مزید بگڑ گیا اور جانے سے انکار کر دیا۔

میں تھکا ہوا تھا اور مزید کھڑے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا لہذا بادل نخواستہ سو لیرا دینے پر رضامند ہو گیا۔ ڈرائیور چل تو دیا مگر تمام راستے بڑبڑاتا رہا۔ وہ ابھی بھی نا خوش تھا۔ ہوٹل کے سامنے سڑک پر اتر کر میں نے کرایہ ادا کیا اور پھر جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل فون غائب تھا۔ مجھے فوراً خیال آیا کہ ٹیکسی میں رہ گیا ہے۔ میں اس کے پیچھے بھاگا مگر ٹیکسی بائیں مڑی اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ میں گاڑی کا نمبر بھی نوٹ نہیں کر سکا۔

میں سخت پریشان ہو گیا۔ موبائل فون کے بغیر میں بے دست و پا تھا۔ میرا ویزہ اور دیگر تمام اہم کاغذات اور معلومات، اگلے ہوٹلوں اور فلائٹوں کی بکنگ سمیت میری رہنمائی اور رابطے کا واحد ذریعہ موبائل فون تھا اس کے بغیر تو میں سفر کرنے قابل نہیں تھا جبکہ ابھی دو ہفتے کا سفر باقی تھا۔ ملائیشیا میں چند دن قیام کرنے کے بعد میں دو روز قبل استنبول پہنچا تھا۔ ترکی میں دو ہفتے کا قیام تھا۔ قیام کیا سفر مسلسل در پیش تھا کیونکہ میں استنبول کے علاوہ دیگر شہروں قونیہ، انتالیہ اور ازمیر بھی جا رہا تھا۔

ان سارے شہروں کے بیچ فضائی سفر اور قیام کی بکنگ ہو چکی تھی سوائے قونیہ اور انتالیہ کے جہاں بس ذریعہ سفر تھی۔ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر بسے رنگا رنگ تہذیبوں کے آمین ملک، ترکی کی سیاحت میرا دیرینہ خواب تھا جو اب جا کر پورا ہوا۔ یوں تو بفضل تعالیٰ میں نے درجنوں ممالک کی سیاحت کی ہے لیکن ترکی کی سیاحت نہایت منفرد، دلچسپ، معلوماتی بلکہ روحانی تسکین کا باعث بنی کیونکہ مجھے شہر دل) (City of Heartsقونیہ جانے کا موقع ملا جہاں عشق کے امام اور اقبالؒ کے مرشد مولانا جلال الدین رومیؒ کی آخری آرام گاہ اور ان سے متعلق اشیا کی زیارت سے ایسی روحانی تسکین ملی جس کا بیان مشکل ہے۔

وہیں تھوڑے فاصلے پر مولانا رومؒ کے پیر و مرشد اور انھیں عشق کی راہ پر لگانے والے مولانا شمس تبریزیؒ کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔ ان کے علاوہ بھی اس خاک پر کئی جید ہستیاں محو آرام ہیں۔ قونیہ میں دو دن کے قیام دوران میرے قلب و ذہن جلوہ انوار سے مہکتے رہے۔ ایسے لگتا کہ اس شہر پر نور کا ہالہ سایہ فگن ہے اور انوار و برکات کی بارش ہو رہی ہے۔ اس کی جھلک لوگوں کے طرز عمل سے بھی عیاں ہوتی ہے جو ترکی کے دیگر شہروں کی نسبت نرم خو اور گداز دل واقع ہوئے ہیں۔

اس شہر میں مجھے جتنا سکون ملا اتنا صرف حرمین شریفین میں ہی ملا تھا۔ قونیہ میں قیام اور مولانا روم کی قبر پرنور کی زیارت میرے اس طویل سفر کا حاصل تھی۔ خدا کرے یہ انوار و تجلیات سدا میرے خانہ دل میں روشن رہیں۔ ترکی میں دیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے کیونکہ یہاں بازنطینی، رومن اور عثمانی تین عظیم سلطنتوں کی نشانیاں جا بجا نظر آتی ہیں۔ جیسے مسجد آیا صوفیہ، جسے 1500 سال پہلے بازنطینی عہد میں گرجا گھر کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، 900 سال بعد سلطنت عثمانیہ کی فوج نے استنبول پر قبضہ کیا اور اسے مسجد میں بدل دیا گیا۔

100 سال قبل خلافت عثمانیہ ختم ہوئی تو اسے عجائب گھر بنا دیا گیا تھا کیونکہ یہ فاتحین کی شرط تھی۔ معاہدے کے مطابق سو برس یہ عجائب گھر بنا رہا۔ 2020 میں جونہی سو برس پورے ہوئے یہ عظیم الشان عمارت پھر مسجد میں بدل گئی۔ آج یہ مسجد کی حیثیت سے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ میں نے اندر سے یہ عمارت دیکھی تو تو اس کی بناوٹ و سجاوٹ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ہزاروں برس قدیم یہ عمارت اب بھی اتنی پائیدار اور شان دار ہے کہ اسے دیکھ کر نظریں خیرہ ہوتی ہیں۔

ترکی کی عثمانیہ سلطنت جس نے تقریباً سات سو برس تک تین بر اعظموں پر حکومت کی اس کے مختلف سلاطین کی بنائی مساجد اور دیگر تاریخی عمارتیں قابل دید اور فن تعمیر کے نادر نمونے ہیں۔ استنبول کی سلطان احمد مسجد (نیلی مسجد) اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی بناوٹ و سجاوٹ لاجواب ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے اس میں نماز جمعہ ادا کرنے اور اندرونی و بیرونی تعمیر و تزئین دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ جمعہ والے دن یہ غیر مسلموں کے لیے بند کر دی جاتی ہے تاکہ نمازی تسلی سے نماز جمعہ ادا کر سکیں۔

عثمانی سلاطین کے محلات میں عجائب گھر بنا دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا عجائب گھر ٹوپ کاپی پیلس ہے۔ سمندر کے کنارے بنا یہ عجائب گھر نہ صرف باہر سے دلکش ہے بلکہ اس کے اندر موجود یوں تو بے شمار نادر اشیا موجود ہیں مگر پیغمبر اسلام ﷺ کا موئے مبارک، ان کے نعلین، ان کی شمشیر، بی بی فاطمہ ؓ کا لباس اور خلفائے راشدینؓ اور دیگر اہم صحابہ کرام ؓکے زیر استعمال اشیا کی نمائش اس عجائب گھر کو دنیا کا انتہائی مقدس اور منفرد ترین عجائب گھر بنا دیتی ہیں۔

استنبول اور ترکی کے دیگر شہروں میں بے شمار عجائب گھر ہیں جس میں ترکش اور اسلامی آرٹ کے نادر و نایاب نمونے موجود ہیں۔ ٹوپ کاپی پیلس کے علاوہ میں نے چند مزید عجائب گھر دیکھے ان میں سے ٹرکش اینڈ اسلامک آرٹ میوزیم بھی شامل ہے۔ اس ایک عجائب گھر میں خلافت عثمانیہ کی تاریخ مع اس کی نشانیوں کے دیکھی جا سکتی ہے۔ مختلف ادوار کے عثمانی سلاطین او ران کے خاندان کی بود و باش سمٹ کر اس عجائب گھر میں نمایاں ہو گئی ہے۔

یہ عجائب گھر بھی عثمانی خلیفہ سلطان عبدل مجید کے محل میں بنایا گیا ہے جو بذات خود اندرونی اور بیرونی حسن و تزئین سے مرصع ہے۔ لہذا عجائب گھر کے جس کمرے یا ہال میں جائیں اس میں رکھی نوادرات کے علاوہ در و دیوار اور بام و در کی ساخت اور سجاوٹ بھی سیاحوں کی توجہ جذب کر لیتی ہے۔ اس کے ساتھ متذکرہ سلطان کی مستعمل اشیا سے اس دو رکی تہذیب و تمدن اور رہن سہن عیاں ہوتی ہے۔ خصوصاً انتہائی بلند چھتوں پر جو فنکارانہ نقش و نگار بنے ہیں انسان انھیں دیکھتا رہ جائے۔ اس دن استنبول یونیورسٹی میں اردو کے استاد محمد راشد بھی میرے ہمراہ تھے۔ ان کے ذریعے مجھے اس عجائب گھر، اس کی تاریخ اور جدید ترکی کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہوئیں۔ اس کے ساتھ وہ تمام دن ڈراتے رہے کہ اپنی جیب اور اپنے بیگ کا خیال رکھیے کیونکہ یہاں اچکے بہت ہیں۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS