بزدل شخص سیاست کے نام پر دھبہ
سیاست کے رنگ نرالے ہیں کبھی پروٹوکول، ٹھاٹھ باٹھ، ٹی وی سکرینوں پر قبضہ، خادموں کی قطار اور کبھی پولیس کے چھاپے، نیب اور ایف آئی اے چکر، کبھی عدالتوں کی پیشیاں، کبھی جیل کی کوٹھری اور کبھی جیل میں ملاقات اور جمعرات کا انتظاریہ ہماری سیاست کی تلخ حقیقت جس سے کوئی سیاستدان بھاگ نہیں سکتا جو بھاگے وہ سیاستدان ہی نہیں۔ یہ سب کچھ ذوالفقار بھٹو کی قسمت میں بھی تھا، پھر بینظیر بھٹو نے بھی بھگتا اور نواز شریف اور شہباز شریف تو پچھلے پچیس سالوں سے یہی بھگت رہے ہیں اب یہ کیسے ہو سکتا ہے عمران خان مفت میں جان چھوڑا کر پتلی گلی سے نکل جاتے۔
ایسے نہیں کہا جاتا آج کے حکمران کل کے قیدی یا مقتول ہوتے ہیں۔ ذوالفقار بھٹو جیل گئے ان کو آخری دن تک یقین نہیں تھا مجھے پھانسی دے دی جائے گی۔ بینظیر بھٹو پاکستان آئی ان کو بھی یقین نہیں تھا مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ نواز شریف مشرف دور میں جیل گئے ان کو بھی یقین نہیں تھا مجھے دس سالہ جلاوطنی کاٹنی پڑے گی، آصف زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی۔ پاکستان جیسے ملک میں عوام پر حکمرانی کرنا کانٹوں کی سیج سے بھی خطرناک ہے۔
ہمارے حکمرانوں کو چاہیے جیلوں کو زیادہ سے زیادہ جدید بنائیں ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی پہلی ترجیحی رکھیں کیونکہ شاید کل کو اسی جیل میں جانا پڑے تو ان سہولیات سے مستفید تو ہو سکیں۔ مشہور سیاسی ڈائیلاگ ہے کہ جیل سیاستدان کا دوسرا گھر ہوتا ہے لیکن تحریک انصاف نے جیل کو سیاست کے لئے باعث ندامت بنا دیا دیا۔ تین، تین دن کی جیلیں کاٹنے کے بعد اپنی جماعت سے اعلان لاتعلقی کا برملا اظہار کرتے نظر آئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے چھین کر لیں گے آزادی جیسے نعرے لگائے اور جیل بھرو تحریک چلائی۔
امریکہ غلامی نامنظور کا بیانیہ بناتے بناتے امریکہ سے دوستی کا اعلان انہوں نے کیا۔ جیل بھرو تحریک والے دوسرے دن ہی عدالتوں میں ضمانتیں کروانے یہ کہتے ہوئے پہنچ گئے کہ ہم نے تو علامتی گرفتاریاں دیں لیکن وہ سچ مچ ہمیں پکڑ کر جیلوں میں لے گئے۔ جیل بھرو تحریک برصغیر میں گاندھی اور نہرو نے بھی چلائی جیلوں میں بھی گئے لیکن ضمانتیں نہیں کروائی، ”سینئر صحافی اقبال بخاری بتاتے ہیں ایوب دور میں لاہور کے مال روڈ پر وکیلوں نے انوکھا احتجاج کیا، لاہور میں دفعہ 144 لگی تھی جس کے تحت چار سے زائد لوگ ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے تھے، مال روڈ پر چار، چار وکیل فاصلے کھڑے ہوئے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کردی پولیس دور سے ان کو دیکھ رہی تھی لیکن گرفتار کرنے کے لئے قریب نہیں آ رہی تھی کیونکہ وکیل چار، چار کھڑے ہو کر احتجاج کر رہے تھے“ ۔
شیخ رشید جو ہر دوسرے دن جھاڑو پھرنے لگا ہے، عید سے پہلے قربانی ہو گی جیسی پیشگوئیاں کرتے تھے ہم نے ان کو بھی پولیس والوں کے گلے لگ کے روتے دیکھا۔ عمران خان جو روز کہتے تھے کسی کو چھوڑوں گا نہیں ہم نے ان کو بھی نیب کی ایک رات کی قید سے نکلنے کے بعد روتے اور چیئر مین نیب کو گالیاں دیتے دیکھا۔ شہباز گل جو رندا پھیرنے اور سب پھڑے جان گے کا اعلان کرتے تھے ہم نے ان کو بھی ویل چیئر پر روتے دیکھا۔ اعظم سواتی جو آرمی چیف کو گالیاں دیتے تھے ہم نے ان کو بھی دھاڑیں مار کے روتے دیکھا، فواد چوہدری جو چھین کر آزادی لینے کا نعرہ لگاتے تھے ہم نے ان کو بھی پولیس کے خوف سے دوڑیں لگاتے دیکھا۔
عمران دور میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک لبیک کے سو سے زائد لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا جبکہ کارکنوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ ان میں سب سے زیادہ کارکن تحریک لبیک کے شامل تھے۔ نواز شریف، آصف زرداری، مولانا خادم رضوی، سعد رضوی سمیت مرکزی لیڈرشپ جیلوں میں رہی۔ یہ لوگوں چھ ماہ سے دو ، دو سال جیلوں میں رہے لیکن کسی ایک شخص نے بھی باہر نکل کر اپنی جماعت سے اعلان لاتعلقی نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی پوری سیاست خوابوں، خیالی پلاؤ اور دعووں پر مشتمل تھی اس لیے جیل برداشت ہوئی اور نہ عدالتی پیشیاں برداشت ہوئی۔
اس کی دو بڑی وجوہات ہیں، نمبر ون تحریک انصاف میں شامل ہونے والے زیادہ لوگ باقی جماعتوں کے مسترد شدہ لوگ تھے جو صرف اقتدار کو انجوائے کرنے والے لوگ تھے۔ دوسری وجہ یہ لوگ ممی ڈیڈی کلاس تھے جنہوں نے کبھی سختیاں برداشت نہیں کی تھیں۔ اس لیے کپتان کے کچھ کھلاڑی بھاگ گئے، کچھ چھوڑ گئے اور کچھ روپوش ہو گئے۔ سیاست دلیروں کا شعبہ ہے بزدل لوگ تو سیاست کے نام پر دھبہ ہوتے ہیں۔


