چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا


(گزشتہ سے پیوستہ)
عمران حکومت میں پاک چین راہدری سمجھوتہ کے تحت جاری منصوبوں پر سست روی سے کام جاری تھا۔ چینی حکومت بھی اس طرز عمل پر ناخوش تھی۔ اس دوران عمران خان کی حکومت چین کے ساتھ آن لان نئے معاشی معاہدے کر کے معاشی انقلاب کا پراپیگنڈہ کرنا چاہتی تھی لیکن چین صدر شی جن پھنگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے ساتھ اقتصادی ترقی کے بڑے معاہدہ کرنا چاہتا تھا جن کا بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی تاثر ابھرتا۔ عمران خان کی حکومت اپنی آئینی مدت ختم کیے بغیر ہی ختم ہو گئی اس کی جگہ لینے والی 16 ماہ کی شہباز شریف کی حکومت سی پیک کی 10 ویں سالگرہ پر نائب چینی وزیراعظم ہی لی فینگ کو پاکستان کا دورہ کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ شہباز شریف حکومت نے اپنے اختتام سے دو ہفتے قبل چین کے ساتھ 6 معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

ہی لی فینگ جو سی پیک سے متعلق امور دیکھتے ہیں، کے تین روزہ دورے کے موقع پر وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کو سربراہ مملکت کے شایان شان سجا کر چین سے اپنی لازوال دوستی کا اعادہ کیا گیا البتہ باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعہ کے پیش نظر سی پیک تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے پر گرینڈ کلچرل شو منسوخ کر دیا گیا چینی نائب وزیر اعظم کو ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بقول صدر شی جن پھنگ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ اینی شیٹو کا اہم ترین منصوبہ اور دوستی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

چین دنیا کی سب سے بڑی آبادی (ایک ارب 40 کروڑ) کا ملک ہے۔ اب چینی صدر اکتوبر نومبر 2023 ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت کی دعوت پر دورہ پاکستان کے دوران اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ قبل ازیں سی پیک منصوبہ 4 نکات پر مشتمل تھا۔ اب اس میں زراعت اور سماجی ترقی کے شعبے شامل کر دیے گئے ہیں۔ چین پاکستان کا دفاعی پارٹنر تو ہے۔ ہی سی پیک کے منصوبہ کے تحت چین نے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا اقتصادی پروگرام بنایا ہے جو ہمارے اپنوں اور پرایوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا

چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری 50 ارب ڈالر کو پہنچنے والی ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دے گی۔ چین سورج مکھی کی کاشت میں پاکستانی کاشتکاروں کی امداد کرر ہا ہے تاکہ پاکستان خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے۔ پتوکی، خانیوال اور ملتان میں مرچ کی پیداوار بڑھانے کے لئے چین نے اعلیٰ قسم کا مرچ کا بیج دیا ہے جسے خشک کر کے محفوظ بنانے کی ٹیکنالوجی بھی دی ہے۔ اس طرح مرچ کا ڈرائی پاؤڈر برآمد کیا جا سکے گا۔ بلوچستان میں کسانوں کو اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے مفت مشنری فراہم کی گئی ہے۔

موجودہ حکومت کا ایک ہی کارنامہ جس پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ اس نے چین کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے اور پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے نکال کر جا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کب تک چینی ڈپازٹ کو رول اوور کراتے رہیں گے۔ ہمیں اپنی زرعی و صنعتی پیداوار میں اضافہ کر کے درآمدات و برآمدات کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا۔ سر دست ڈیفالٹ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن ہمیں ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے دوستوں کو مدد کے لئے پکارنے کا طرز عمل ہمیشہ کے لئے ترک کرنا ہو گا۔

اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کا پرو گرام ملنے سے حکومت قومی خزانے میں 14 ارب ڈالر سے زائد رقم چھوڑ کر جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کر بجلی کی قیمت فی یونٹ 50 روپے تک پہنچا دی گئی ہے لیکن خطر ناک حد تک ہمارا گردشی قرضہ 2500 بلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ نواز شریف حکومت میں پاکستان دنیا کی 20 ویں بڑی معیشت بننے جا رہا تھا۔ اب 42 ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے۔ پاکستان کے ڈیفالٹ سے بچانے میں چین کا کا اس لحاظ سے کلیدی کردار ہے کہ اس نے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ اس حقیقی دوست کا کردار ادا کیا اگر چین ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی رقم رول اوور نہ کرتا تو آئی ایم ایف پاکستان کو کبھی پروگرام نہ دیتا سعودی عرب اور متحدہ امارات نے آئی ایم ایف کے پروگرام پر معاہدہ ہونے کے بعد رقم فراہم کی پاکستان آئی ایم کے شکنجے میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔

حکومت نے جہاں جولائی میں بجلی کے نرخوں میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ اضافہ کیا ہے۔ وہاں جاتے جاتے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں فی لیٹر 20 روپے اضافہ کا غیر مقبول فیصلہ کر دیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ میں خاطر خواہ کمی کی ہے لیکن درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن پاکستان کی معیشت کو سنبھلنے نہیں دے پا رہا۔

چین کے نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے دوران سی پیک کے دوسرے مرحلے میں دونوں ممالک نے جن 6 معاہدوں و مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، ان میں سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی، ماہرین و کارکنوں کا تبادلہ، قراقرم ہائی وے پراجیکٹ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نئے ماڈل اور نئے ماحول کے تحت آگے بڑھنے اور سپیشل اکنامک زون بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پھنگ کے مشترکہ ترقی و خوشحالی کے حوالے سے نظریے اور تصور کے ساتھ کھڑا رہنے کا اعلان کیا ہے۔

اس وقت چین سی پیک کے تحت پاکستان میں بجلی، سڑکوں کے انفرا سٹرکچر، پن بجلی اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں 25 ارب ڈالر کی سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جب کہ اتنی ہی رقم چین کے سرمایہ کاروں نے جاری منصوبوں کے لئے فراہم کی ہے۔ چین کے سابق وزیر اعظم چو این لائی نے آج سے نصف صدی قبل "پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے” کا تاریخی گیت گایا تھا۔ آج وہی گیت نائب وزیر اعظم چین ہی لی فنگ کی زبان پر تھا۔ (ختم شد) ۔

Facebook Comments HS