زندگی نام ہے
زندگی نام ہی بڑے خواب دیکھنے اور ان خوابوں کے حصول کے لیے جد و جہد کا ہے۔ ذاتی یا خاندانی خوشحالی و ترقی کا خواب چھوٹے لوگ دیکھتے ہیں، پورے معاشرے اور قومی ترقی و خوشحالی کا خواب بڑے لوگ دیکھتے ہیں۔ جس کا جتنا قد اور ظرف ہو گا، وہ اتنا ہی اپنی زندگی کا مقصد رکھ سکتا ہے۔
بڑے خواب دیکھنے اور ان کے حصول کے لیے کوشش کرنے والوں کی ہمیں کم از کم قدر تو کرنی چاہیے۔ لیکن ہم جیسے لوگ ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں، کہ یہ حقیقت پسند نہیں ہے اور یہ کہ یہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں اپ کم از کم بڑا سوچنے کی کوشش تو کریں، ہو سکتا ہے آپ اسے حاصل بھی کر ہی لیں۔ لیکن اگر آپ سوچیں گے ہی نہیں تو پھر حاصل کیا خاک کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کو بہت طاقتور بنایا ہے، آپ صرف اسے ایک دفعہ پیغام دے دیں کہ میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں، پھر اس کے کیمیکلز خود بخود اس کے حصول کے راستے ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں اور بے شمار آپشن آپ کے سامنے آ جاتی ہیں۔ مگر اس سفر میں سب سے مشکل کام احمقوں کو یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ بھئی آپ میں وہ سب صلاحیتیں ہیں جن کی بدولت آپ بڑے خواب دیکھ اور ان کو حاصل کر سکتے ہو۔
عمران خان کی غلطی بھی یہی ہے کہ اس نے اس قوم کے لیے بڑے خواب دیکھے اور پھر ان کے حصول کے لیے ڈٹ گیا۔ مگر اس کے لیے بھی سب سے بڑا مسئلہ ہمارے جیسے احمقوں کو یہی سمجھانا تھا کہ ہم بھی ایک خوددار قوم بن سکتے ہیں، ہم بھی دنیا میں ایک عزت دار اور انسانی حقوق سے بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔ وہ اس قوم کو یہ نقطہ سمجھاتے سمجھاتے آج جیل کی بند کوٹھڑی تک پہنچ چکا۔ ساری سیاسی جماعتیں اور طاقتور حلقے اس کے خلاف ہو گئے، میڈیا پر اس پہ پابندیاں لگا دی گئیں، اس کی غلطی صرف یہ ہے کہ اس نے عام آدمی کو بڑا خواب دکھایا اور اسے اس کے حقوق حاصل کرنے کے لیے ایک راستہ دیا۔ لیکن وہ جو عام آدمی کے وسائل پر پچھلے 75 سالوں سے قابض ہیں، کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ہونے دیتے؟
میں سمجھتا ہوں آج عمران خان کی زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔ وہ تن تنہا جو کچھ کر سکتا تھا، اس نے کر دیا۔ اب اس قوم کی باری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب اس قوم نے صرف جنازے ہی اٹھانے ہیں یا اپنے حقوق کی خاطر قابض و طاقتور حلقوں کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے۔


