تکثیریت پسندی ضروری ہے!
سیاسی و معاشی اور حکومتی زوال پذیری پر تو وقتاً فوقتاً بات ہوتی رہتی ہے لیکن معاشرتی زوال پذیری کو ڈسکس کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جس بات کرنے کی بہر حال ضرورت ہوتی ہے۔
کبھی ہم نے سوچا بھی ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہم ترقی کر رہے ہیں یا واپس تنزلی ہماری مقدر بنے گی؟ کبھی برداشت، مقبولیت، اپنائیت اس معاشرے کی خوبصورتی ہوتی تھی مگر آج عدم برداشت، انتہا پسندی، احساس برتری کی ہوا کہاں سے چلی؟
تین ماہ پہلے مردان میں ایک مولوی نے اپنے ہی فرقے کے مولوی پر توہین رسالت کا الزام لگا کر مجمعے کے ہاتھوں مروا دیا۔ تحقیق کرنے کے بعد جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا تو موصوف نے چندہ اکٹھا کر کے پینتالیس لاکھ روپے ملزم و مقتول کے ورثاء کو دے کر معافی مانگ لی۔
اس واقعے کے بعد اب تربت میں ایسا ہی دلخراش واقعہ رونما ہوا۔ ایک پرائیویٹ سکول کے استاد بیس سالہ عبدالرؤف پر توہین مذہب کا الزام لگا کر جب انہوں نے انکار کیا کہ میں توہین مذہب و رسالت کا مرتکب نہیں ہوں تو اسے جرگے میں اپنا ایمان ثابت کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ کل صبح وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جرگے میں شرکت کرنے کے لئے جا رہے تھے تو اسے راستے میں گولیوں سے چھلنی کر کے قتل کر دیا۔
جس معاشرے میں آپ کے ایمان کا فیصلہ ایک جرگہ یا ایک مخصوص طبقہ کرے گی وہ معاشرہ پستی کے اس کھائی میں گرے گا جس کا آپ تصور نہیں کر سکیں گے۔
تکثیریت، تنوع اس معاشرے کی خوبصورتی تھی۔ یہاں سالوں سے ہندو، عیسائی، سکھ اور پارسی بخوشی اپنی زندگی گزارتے تھے لیکن اب حالت اتنی گمبھیر ہو چکی ہے کہ ایک مسلمان جو ببانگ دہل یہ دعوی کرتا ہے کہ ”میں مسلمان ہوں“ اسے خوامخواہ کافر قرار دے کر مارا جاتا ہے۔
توہین مذہب، توہین رسالت، توہین صحابہ، شعائر اسلام کی توہین وغیرہم کے جھوٹے الزامات ایسے ہتھیار ہیں جسے شدت پسند مولوی ریاستی اداروں کی سربراہی میں خود سے مختلف آراء رکھنے والوں کا قلع قمع کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اسلام خطرے میں نہیں ہے بلکہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور آئے آئی کی آمد سے ”ان“ کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ جب ”وہ“ خطرے میں ہوں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ وہ سماج کو خود تباہ کرے گا۔ کبھی اسلام سے تلوار بنا کر لوگوں کے سر بدن سے الگ کر دیتے ہیں کبھی اسلام سے ڈھال بنا کر اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اب عنقریب تربت کے چوکوں اور ور سڑکوں کے نام تبدیل ہو کر ہر دیوار پر تشدد آمیز جملے لکھ کر ”وہ“ خود کو غازی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ کوئی ان کے خلاف بولنے کی جرات بھی نہیں کر سکے گا۔ جو بولے گا اسے آسانی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

