جامعة الرشید میں گزرے دن کا احوال


کل مولانا حسین احمد محمود کی دعوت ملی تو آج جامعہ حاضر ہو گئے 2007 میں جامعة الرشید میں تعلیمی داخلے کی خواہش لے کر ہم پہنچے مگر جامعہ کی معیار پر پورے نہیں اترے۔ تو داخلے کے لئے ادھر ادھر سے سفارشیں ڈھونڈی، مگر بے سود۔ آج بھی مولانا حسین احمد محمود کا کہنا تھا کہ یہاں کا داخلہ نظام مکمل میرٹ پر ہے اساتذہ کے بچے ٹیسٹ میں رہ جاتے ہیں تعلیمی داخلہ نہیں ملتا۔ جامعہ کی تفصیلی وزٹ کی خواہش تھی البتہ وہاں سے آفیشلی دعوت نہ ہونے کی بنا ہم از خود جاکر گھسنے کی رسک نہیں لے سکتے تھے۔ کل دعوت ملی آج بخوشی حاضر ہو گئے۔ یہ حاضری اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ مولنا حسین احمد محمود صاحب جامعة الرشید میں درسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی رہبری میں تقریباً پورے مدرسے کا تفصیلی وزٹ ہوا سب سے پہلے دارالافتاء پہنچے۔

جامعة الرشید کی ابتداء افتاء سے ہوئی ہے اس کے بعد درس نظامی اور آہستہ آہستہ عصری نظام بھی شامل ہوتا گیا۔ افتاء کے لئے پہلے ان کا مرکز ناظم آباد میں تھا پھر 1996 میں یہاں ایک مسجد اور شعبہ تحفیظ سے کام شروع ہوا آج ماشاءاللہ شجر میوہ دار کا روپ دھار چکا۔ ناظم آباد کا افتاء مرکز اب بھی فعال ہے وہاں سے بھی لوگ رہنمائی لے رہے ہیں۔ آج سب سے پہلے دارالافتاء میں مفتی عبداللہ ولی صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی جامعة الرشید کے نظام اور افتاء پر تفصیلی بریفنگ دی کہ ہم کیسے اس نظام کو چلاتے ہیں اور فتوے کس طرح جاری کرتے ہیں! اس پر مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ اس دارالافتاء میں مفتیان کرام بیٹھتے ہیں۔ جو جامعہ کی ایک کمیٹی پانچ کبار مفتیان کرام پر مشتمل ہے جس کے سربراہ شیخ الحدیث مفتی محمد صاحب ہے ان کے زیر نگرانی کام کر رہے ہیں۔ کوئی سوال آتا ہے تو وہ ہمیں حوالہ کیا جاتا ہے پھر ہم ان کو مختلف حوالہ جات کے ساتھ ان کے جوابات ڈھونڈ کر عربی عبارت اور اردو ترجمہ کے ساتھ نوشتہ کرتے ہیں۔ پھر وہ فتوی کمیٹی کے حوالہ کیا جاتا ہے اگر اس میں غلطی ہوتی ہے تو مختصر نوٹ کے ساتھ تصحیح کے لئے واپس کر دیا جاتا ہے اگر درست ہوتا ہے تو جامعہ کے دستخط کے ساتھ اپروول دی جاتی ہے مطلب ایک فتوی نکلنے کے لئے کئی جگہوں سے نکل کر پھر سائل کو دیا جاتا ہے۔

جامعة الرشید نے اپنے دارالافتاء میں کام کرنے والوں کے لیے مختلف شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی عائد کر رکھا ہے، تقریباً دس سال تک جس بندے نے افتاء کا کام نہ کیا ہو اس کو اپنے نام کے ساتھ مفتی کا لاحقہ لگانے کی بالکل اجازت نہیں۔ پھر یہاں سے نکل کر جامعة الرشید کے زیر انتظام البیرونی ایجوکیشنل سسٹم، الغزالی یونیورسٹی اور جامعة الرشید کے میڈیا ہاؤس (JTR) گئے۔ البیرونی ایجوکیشنل سسٹم اور الغزالی یونیورسٹی میں عصری تعلیم دی جا رہی تھیں۔ وہاں کے سٹوڈنٹس بھی ماشاءاللہ نورانی ماحول، سفید پگڑیاں سر پہ سجائے عصری علوم حاصل کر رہے تھے جامعة الرشید کی دینی اور عصری علوم کے اس امتزاج کا میں پہلے بھی گرویدہ تھا مگر آج قریب سے دیکھنے پر دوبارہ دل میں از سر نو اسباق شروع کرنے کی خواہش نے انگڑائی لینی شروع کی مگر نامراد! اس وقت جامعة الرشید میں درس نظامی کے ساتھ ساتھ 25 کے قریب اور شعبہ جات ہیں۔ جس میں کلیة الفنون، کلیة الشریعہ سر فہرست ہے۔

حضرت استاد صاحب مزید بھی ایڈ کرنا چاہتے ہیں مگر جگہ کی کمی کے باعث فی الحال یہ قدم اٹھانا نہیں چاہتے۔ باری تعالٰی اس جامعہ کو سدا بہار قائم و دائم رکھیں۔ اس جیسی جامعات وقت کی ضرورت ہے اللہ کریم سے دعا ہے باقیوں کو بھی یہ قدم اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں، تاکہ قوم کے بچے بیک وقت دینی اور عصری علوم سے بہرہ ور ہو۔ آمین ثم آمین

تفصیلی وزٹ کرانے اور اپنا قیمتی وقت ہمارے ساتھ صرف کرنے پر مولانا حسین احمد محمود کا خصوصی طور پر شکرگزار ہوں۔

Facebook Comments HS