یورپ میں 1830 اور 1848 کی انقلابی بغاوتیں۔
نیپولین کی شکست اور زوال کے بعد یورپ کی روایتی طاقتوں ( برطانیہ، آسٹریا، روس اور پرشیا) کے نمائندوں نے آسٹریا چانسلر اور وزیر خارجہ ”پرنس میترنچ ( Mettrinch)“ کے زیر قیادت 1815 کے ”ویانا کانگریس“ میں یورپ میں امن و استحکام اور انقلاب فرانس کے تحت ابھرے لبرل اور جمہوری تصورات کا تدارک کرنے کے لیے قبل از انقلاب دور کا پرانا سیاسی نظام ( بادشاہتوں ) کی بحالی اور محفوظ کرنے کا فیصلہ کر کے کئی اقدامات کیے۔
فرانس کے بوربن بادشاہ ”لوئیس 18“ کو تخت واپس دیا۔ اسپین کے بھوربن حکمرانوں کو اسپین سمیت ”سسلی“ کی اطالوی بادشاہت واپس دلوائی گئی۔ اسی طرح شمالی اٹلی کے کئی ریاستوں میں ہیسبرگ شاہی خاندان کے شہزادوں کی حکومتیں بحال کر دی گئی بیشتر جرمن ریاستوں کے سابقہ حکمرانوں کو تخت واپس دلائے۔ کانگریس نے نہ صرف سابقہ حکمرانوں کو بحال کیا بلکہ بعض علاقائی ایڈجسٹمنٹ بھی کی جس میں قومیتی پہلو کو نظر انداز کیا گیا۔
پولینڈ کا بڑا حصہ روس کے تسلط میں دیا گیا۔ ”وینس“ اور ”لومبارڈے“ آسٹریا کو دیے گئے۔ رائن لینڈ کو فرانس سے لے کر ”پرشیا“ کو دیا۔ جنوبی نیدر لینڈ (بیلجیم) کو ہالینڈ میں شامل کیا گیا۔ ناروے کو سویڈن کا حصہ بنایا گیا اگرچہ فوری طور یورپ میں پرانی بادشاہتوں کو بحال کرایا گیا مگر انقلاب فرانس کے زیر اثر جو نئے تصورات ”نیپولین“ کے دور سے یورپ میں پھیل گئے تھے اس کا تدارک آسان نہیں تھا۔ ( نیپولین کا مقصد محض ذاتی اقتدار تھا جبکہ انقلابی تصورات کو سیاسی مفاد کے تحت پھیلا گیا) یورپ کے قدامت پرست حکمران فرانسیسی انقلاب کے ورثے سے تشویش میں مبتلا تھے۔
ان کو خدشہ یہ تھا کہ انقلاب کے تصورات (آزادی، مساوات اور بھائی چارے ) ان کے ملکوں میں بھی انقلاب کا پیشہ خیمہ ہو سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر روس کے زار ”الیگزینڈر اول“ ۔ آسٹریا کے ”فرانسس اول“ اور پرشیا کے ”فریڈریک ولیم دوم“ نے باہمی معاہدے سے اتحاد کر لیا جس کو مقدس اتحاد ( Holy Alliance ) کا نام دیا۔
اگرچہ قدامت پرست حکمرانوں کو حکومتوں پر پورا کنٹرول تھا تاہم ”انقلاب فرانس“ کے بعد صورت حال میں بڑی تبدیل آ گئی تھی۔ 1815 کے بعد کا فرانس سیاسی لحاظ سے منقسم تھا۔ قدامت پرست ”لوئیس ہشت دہم“ (بادشاہت) کے حامی تھے۔ لبرل ( معتدل) بادشاہ کا قانون ساز اسمبلی کے ساتھ اختیارات کا اشتراک چاہتے تھے جبکہ نچلے طبقات (مزدور اور کسان) آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے انقلابی تصورات کے داعی تھے۔ اسی طرح دوسرے یورپی ممالک میں نظریاتی اور سماجی افتراق پایا جاتا تھا۔
مغربی یورپ میں صنعتی ترقی کے باعث درمیانے طبقے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا جو انقلاب کے جمہوری تصورات میں دلچسپی رکھتے تھے اور آمرانہ طرز حکومت کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتے تھے۔ یہ طبقہ آزادی اظہار، آزادی رائے، نمائندہ حکومت اور آزاد معیشت کا خواہاں تھا۔ امریکی اور فرانسیسی انقلابات سے ان کو یہ تحریک ملی تھی کہ اسٹیٹس کو ”چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ لبرل نظریات کے علاوہ ایک لہر قوم پرستی کی تھی جو آسٹریا، عثمانیہ اور روسی سلطنتوں کے زیر حکومت نسلی گروہوں میں اٹھی تھی ان سلطنتوں کے حکمران کو خدشہ تھا کہ اس قوم پرستانہ عزائم کو روکا نہ گیا تو ان کی سلطنتیں منتشر ہو سکتی ہیں۔
”ویانا کانگریس“ کے انتظام کے خلاف اگلی دہائیوں میں یورپ کے مختلف ممالک میں شورشیں اور انقلابی بغاوتیں برپا ہوئیں ان کے اہم محرک پرانا مطلق العنان حکومتی ڈھانچے کی تبدیلی، جمہوری اصلاحات اور قوم پرستی تھے
1820 کی دہائی میں اسپین اور یونان میں شورشوں کا آغاز ہوا۔ اسپین میں بغاوت کو بڑی مشکل سے دبا دیا گیا جبکہ یونان کی عثمانی سلطنت کے تسلط سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد جاری رہی ( 1832 میں یونان نے آزادی حاصل کر لی)
1830 میں یورپ کے مختلف ممالک فرانس، پولینڈ، اٹلی کی ریاستوں، پرتگال اور سوئزر لینڈ وغیرہ) میں بغاوتوں اور شورشوں کی بڑی لہر اٹھی۔ جولائی 2031 میں فرانس کے ”چارلس دہم“ کے آمرانہ احکامات کے خلاف بغاوت ہوئی جس کے باعث ”چارلس“ کو تخت سے اتار کر اس کی جگہ معتدل مزاج ”لوئیس فلپ“ کو بٹھایا گیا۔ اس انقلاب میں بالائی درمیانے طبقے کو سیاسی اور سماجی اہمیت مل گئی۔ اس کو ”جولائی انقلاب“ بھی کہا گیا۔ اس کے نتیجے میں ”فلپ“ کی بادشاہت 1848 تک قائم رہی۔
پولش عوام روسی تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ان کی بغاوت لیتھونیا، ”مغربی بلارس“ اور (یوکرین ”کے بائیں ساحل تک پھیل گئی تھی مگر روس نے اس کو نہ صرف کچل دیا بلکہ پولینڈ کو روس میں ضم کر دیا۔ اسی طرح اٹلی اور جرمنی کی بادشاہتوں میں بھی شورشیں اٹھیں مگر ان کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم ناکامی کے باوجود 1830 کی شورشیں کے کچھ اہم نتائج بھی نکلے۔ (ا) ان کے باعث قدامت پسند ردعمل کو کسی حد تک بلاک کیا۔ (ب) بیلجیم میں مطلق العنان بادشاہت کو ختم جبکہ“ اسپین ”میں اس کو کمزور کر دیا۔ (پ ) فرانس اور بیلجیم میں آئینی بادشاہت قائم کر دی۔ (ج) فین لینڈ، جرمنی، سوئزر لینڈ اور برطانیہ میں سیاسی اصلاحات کرانا میں کامیابی حاصل کی (د) یونان اور سربیا کی آزادی کو یقینی بنایا۔ (ر) سماجی لحاظ سے ان شورشوں نے سوئزر لینڈ اور جرمنی میں کسانوں کی آزادی دلانے میں رول ادا کیا اس کے علاوہ بیلجیم وغیرہ میں صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کی۔
1848 میں انقلابات کی دوسری لہر آئی جو زیادہ شدید تھی۔ اس کا آغاز جنوری میں ”پالرمو“ (سسلی) سے ہوا۔ جہاں انقلابی ایک آزاد حکومت قائم کرا گئے۔ اس کے بعد اگلے ماہ فروری 1848 میں خوراک کے فقدان اور وسیع پیمانے کی بے روزگاری کے خلاف فرانس میں عوامی بے چینی نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ ”لوئیس فلپ“ کو تخت چھوڑنا، پڑا، ( فلپ کو جولائی 1830 کے انقلاب میں قدامت پرست بھوربن ”چارلس دہم“ کو ہٹا کر بادشاہ بنا دیا گیا تھا)
فلپ کے بعد جولائی بادشاہت ”کی جگہ اسمبلی نے فرانس کو جمہوریہ قرار دے کر 21 سال سے اوپر تمام بالغ مرد شہریوں کو ووٹ کا حق دیا اور روزگار کے حق کی ضمانت دی۔ 1848 کے فرانس انقلاب نے مغربی شمالی اور وسطی یورپ کے مختلف ممالک میں انقلابوں کو شہ دی۔ بغاوتوں کا سلسلہ، جرمن اور اٹلی ریاستوں اور آسٹریا سلطنت اور دوسرے ممالک تک پھیل گیا تھا۔ روس۔ سپین اور سکینڈیویا ممالک ( سویڈن اور ناروے ) کے سوا یورپ کے اکثر ممالک ان سے کسی نہ کسی لحاظ سے متاثر ہوئے۔ ان کے اہم مراکز فرانس، اٹلی ریاستیں، جرمن کنفیڈریشن۔ ہنگری۔ ڈنمارک اور پولینڈ رہے
مختلف ممالک میں ان کے اسباب مختلف تھے۔ بعض ممالک میں پرانے حکمرانوں سے چھٹکارا پانا کہیں جمہوری اصلاحات اور معاشی حقوق، اور بعض ممالک میں قوم پرستی ان کے بنیادی محرک رہے۔ مارچ 1830 میں آٹلی کی ریاستیں (وینس، پرما، میلان اور سارڈینہ) آسٹریا کے تسلط کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اسی طرح پولینڈ اور ہنگری میں انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں۔ چھوٹی چھوٹی جرمن ریاستوں کی حکومتیں تو ختم ہو گئیں۔ برلن اور وینس کی بغاوتیں اتنی شدید تھیں کہ پرشیا اور آسٹریا جیسی طاقتور سلطنتیں ڈگمگانے لگیں اور ان کے حکمران انقلابیوں کے مطالبات اور ان کے تشکیل کردہ مجوزہ آئین ماننے پر تیار ہو گئے تھے۔
حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ آسٹریا کے قدامت پرست چانسلر اور وزیر خارجہ ”پرنس میترنچ“ کو مستعفی ہونا پڑا۔ مگر اسی دوران انقلابیوں کے مختلف گروہوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر انقلابی شورشوں کو آسٹریا ہنگری اور پرشیا کے حکمران افواج نے ایک سال کے اندر کچل کر ناکام بنا دیا۔ اکتوبر 1849 تک انقلابی سلسلہ ختم ہو گیا اور انقلاب سے پہلے کی حالت بحال کی گئی۔ صرف فرانس میں جمہوریہ برقرار رہی مگر 1852 میں ”نیولین سوم“ نے اس کو آمرانہ بادشاہت میں تبدیل کر دیا۔
اپنے بنیادی مقاصد (مطلق العنان بادشاہتوں کا خاتمہ اور قومی ریاستوں کا قیام) کے حصول میں ناکامی کے باوجود ان انقلابی کاوشوں کے باعث اہم تبدیلیاں عمل میں آئیں آسٹریا اور ہنگری میں زرعی غلامی کا مستقل خاتمہ ہو کر کسانوں کو بعض حقوق مل گئے۔ اسی طرح ڈنمارک میں مطلق العنانیت ختم کردی گئی جبکہ نیدر لینڈ میں نمائندہ جمہوریت قائم ہوئی اس کے علاوہ 1848 کے یہ انقلابی تحریکیں بعد میں یورپ کے ممالک کے سیاسی آزادی کو تیز تر کرنے اور اٹلی اور جرمنی ریاستوں کی وحدت کا باعث بنیں


