وزیراعظم کا دورہ چترال: گندم سبسڈی، توقعات اور خدشات
وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چترال کی توقعات نے علاقے کے لوگوں میں دلچسپی اور توقعات کو جنم دیا ہے۔ 9 اگست 2023 کو طے شدہ یہ دورہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے مقامی لوگوں کو درپیش متعدد مسائل بشمول تعلیم، گندم کی سبسڈی اور سیلاب سے متعلق امدادی سرگرمیوں کو حل کرنے کی توقع ہے۔ آج کا میرا یہ کالم متوقع دورے کا ایک تجزیاتی جائزہ فراہم کرتا ہے، جس میں چترال یونیورسٹی میں طلباء کو لیپ ٹاپ کی مجوزہ تقسیم، گندم کی سبسڈی کی بحالی اور بریپ گاؤں میں ایک ماڈل رہائشی کالونی کے آغاز کے ساتھ ساتھ خطے کی ترقی پر ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چترال کی ایک اہم خصوصیت یونیورسٹی آف چترال کے طلباء میں لیپ ٹاپ کی منصوبہ بندی سے تقسیم ہے۔ یہ اقدام خطے کے تعلیمی منظرنامے پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل دور میں تعلیمی ترقی اور مہارت کی نشوونما کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری ہے۔ طلباء کو لیپ ٹاپ کی فراہمی انہیں تحقیق، سیکھنے اور رابطے کے وسائل سے با اختیار بنا سکتی ہے، جس سے چترال جیسے دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ لیپ ٹاپ کی تقسیم کا پروگرام اچھی طرح سے منصوبہ بند اور ٹارگٹ ہو، مستحق اور ضرورت مند طلباء تک پہنچ سکے۔ مزید برآں، تعلیمی عمل میں ان تکنیکی آلات کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری تربیت اور مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ لیپ ٹاپ کو برقرار رکھنے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے ایک پائیدار نقطہ نظر پر بھی غور کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی طویل مدتی افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چترال اپر سے تعلق رکھنے والے طالبات اور طالب علموں نے مطالبہ کیا ہے کہ چترال یونیورسٹی کے کیمپس بالائی چترال میں بھی قائم کیے جائیں۔ تاکہ ان کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے چترال لوئر جانا نہ پڑے۔
چترال کا دیرینہ مسئلہ گلگت بلتستان کی طرز پر گندم کی سبسڈی ہے، وزیر اعظم اپنے دورہ چترال کے موقع پر چترال کے لیے گلگت بلتستان کی طرز پر سبسڈی کا اعلان کر کے چترال کے عوام کا دیرینہ حل کر کے چترالی عوام کا دل جیت کر چترال سے واپس آئیں، اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ گندم سبسڈی کی وجہ سے چترال میں پاکستان مسلم لیگ کے ووٹ بینک میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور حالیہ الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ چترال سے کلین سویپ کرے گی۔
چترال کا بریپ گاؤں برفانی جھیل کے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے اور متعدد خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے کا مقصد ایک ماڈل رہائشی کالونی کا آغاز کرنا ہے، جس کی مبینہ طور پر قطر ائر ویز کے چیف ایگزیکٹیو افسر نے مدد کی ہے، تاکہ متاثرہ افراد کو پناہ اور بحالی فراہم کی جا سکے۔
ایک ماڈل رہائشی کالونی کا قیام آفات کے بعد بحالی اور تعمیر نو کی جانب ایک امید افزا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہو گا، بشمول موثر پروجیکٹ مینجمنٹ، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور فیصلہ سازی کے عمل میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور مشاورت کو یقینی بنانا۔ مستقبل کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پائیدار تعمیراتی طریقوں اور آفات سے بچنے والے ڈیزائن پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ چترال کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ چکدرہ سے چترال تک موٹروے کو توسیع دیا جائے، چترال سے سی پیک روٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور چترال میں جاری دیگر نامکمل سڑکوں کی تعمیر و مرمت کو جلد یقینی بنایا جائے تا کہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوں جو ان کا بنیادی حق بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔
تعلیمی اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی امور پر توجہ دینے کے علاوہ وزیراعظم لوئر چترال کے شاہی پولو گراؤنڈ میں پولو میچ میں بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ ایسی ثقافتی سرگرمیاں سیاحت، مقامی روایات اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پولو، خطے کا ایک روایتی کھیل ہونے کے ناتے، ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے، جس سے چترال کی سیاحت کی صنعت اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔
میں اس کالم کی وساطت سے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان سے چترالی عوام خصوصاً نوجوان نسل کی طرف سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ چترال کے کاغ لشٹ کے مقام پر ایک اسٹیڈیم بنانے کا بھی وزیر اعظم صاحب اپنے دورہ چترال کے موقع پر اعلان کرے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ چترال میں مقامی کھیلوں کو فروغ ملے گا اور ساتھ ساتھ مسلم لیگ نون کے ووٹ بینک میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا چترال کا متوقع دورہ تعلیم، سیلاب سے نجات اور ثقافتی فروغ جیسے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چترال یونیورسٹی میں لیپ ٹاپ کی تقسیم کا اقدام طلباء کے تعلیمی مواقع اور مہارت کی نشوونما پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ بالائی چترال بریپ گاؤں میں ایک ماڈل رہائشی کالونی کا آغاز آفت کے بعد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ آخر میں، چترال کے شاہی پولو گراؤنڈ میں وزیراعظم پاکستان کا پولو میچ میں شرکت ثقافتی ورثے کے تحفظ اور معاشی خوشحالی کے لیے اس سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت کے بارے میں بھی وزیر اعظم روشنی ڈالیں گے۔
تاہم، ان اقدامات کی کامیابی اور دیرپا فوائد حاصل کرنے کے لیے، مناسب منصوبہ بندی، تمام تحصیل سے نمائندگان اور کمیونٹی کی شمولیت، اور پائیدار طریقوں کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ یہ دورہ حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے چترال کے چیلنجز سے نمٹنے اور اس کی ترقی اور مسائل کے حل کے امکانات یقینی بنانے کے لیے موثر طریقے سے وزیر اعظم پاکستان کو سپاس نامہ پیش کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔


