دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دستوری بالادستی لازم ہے
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کا سر کچلنے اور ہر قیمت پر ملک میں امن و مان بحال کر کے معاشی احیا کا مقصد حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں قلعہ بالا حصار کے دورہ کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ملک کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لئے ڈٹے رہنے کے عزم کا اظہار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی سیاست میں عسکری اداروں کے عمل دخل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سب سے اہم سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ پاک فوج ملک کے جن عوام کی بہبود و حفاظت کے لئے پرعزم ہونے کا اعلان کر رہی ہے، ان کے سیاسی حقوق کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام اور بے یقینی کا خاتمہ کیسے ہو گا۔ ضمنی طور سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کی وجہ سے فوج اور عوام میں فاصلہ بڑھتا رہا تو فوج ملکی دفاع کا بنیادی فرض کیسے ادا کر پائے گی۔ موجودہ آرمی چیف کے علاوہ ماضی میں فوج کی کمان کرنے والے اکثر جنرل یہ اعتراف کرتے رہے ہیں کہ فوج عوام کی مکمل اعانت و حمایت کے ساتھ ہی محاذ پر کامیاب ہوتی ہے۔ اس لئے پاک فوج کو دفاع کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ ضرور جاننا چاہیے کہ کہیں عوام کے ساتھ اس کا رشتہ کمزور تو نہیں ہو رہا۔ اس رشتے میں کسی وجہ سے دراڑیں پڑ رہی ہیں تو اسے وقتی ارتعاش یا بدگمانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس تفاوت کی وجوہات جاننے کی کوشش ہونی چاہیے۔
اس وقت ملک میں یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ پاک فوج سرحدوں پر دشمن کا سامنا کرنے کی بجائے خود اپنے ہی لوگوں کے خلاف محاذ آرا رہتی ہے۔ سرحدوں پر تو جنگ کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ بلکہ حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ مسائل جنگ سے حل نہیں ہو سکتے۔ اس بیان کا منطقی نتیجہ تو یہ سامنے آنا چاہیے کہ کم از کم پاکستان کی طرف سے ایسے اقدامات دیکھنے میں آئیں جن سے واضح ہو کہ اب ہم جنگ کی بجائے امن کے ایک نئے اور بامعنی دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ وزیر اعظم کا بیان ایک روٹین کی کارروائی تھا۔ اس بیان میں بھی اگرچہ جنگ نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن درحقیقت ملک کے جوہری اثاثوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جنگ کی صورت میں پورا خطہ تباہ ہو سکتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت اور اس کے مضمرات پوری دنیا پر عیاں ہیں، اس لئے سیاسی بیان بازی میں جوہری ہتھیاروں کا حوالہ ناجائز اور ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے بیانات سے اشتعال میں اضافہ ہوتا ہے اور امن کا راستہ دشوار ہو جاتا ہے۔
وزیر اعظم کے اس بیان کے باوصف پاکستان میں دفاعی اخراجات میں اضافہ سے بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ ملک طویل المدت امن کا خواہش مند ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ تنازع کی موجودہ صورت حال میں پاکستان اپنی فوجی صلاحیت میں ڈرامائی کمی نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود متعدد ایسے اقدامات ممکن ہیں جن سے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ دنیا کو یہ اشارے دیے جا سکیں کہ پاکستان جنگ کی بجائے امن پر یقین رکھتا ہے اور بات چیت کے ذریعے ہی باہمی تنازعات حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے اندر اور تمام عالمی فورمز پر بھارت دشمنی کا پرچم بلند کرنے کا طرز عمل ترک کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی طالب علموں کو ہندوؤں سے دشمنی کا سبق پڑھانے کی بجائے برصغیر کی مشترکہ روایات اور تاریخی اثاثے کا حوالہ دے کر باہم دوستی کے رویے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے قیام کو 75 سال ہو چکے ہیں، اس لئے یہ بحث قطعی غیر ضروری ہے کہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم غلط تھی یا مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کی طرف ایک قدم۔ کیوں کہ اس خطے میں جو ممالک وجود میں آچکے ہیں، انہیں ختم کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی اس بنیاد پر عدم تحفظ کا احساس ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر امن کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو وہ یک طرفہ طور پر بھی کئی ایسے اقدامات کر سکتا ہے جن سے اعتماد میں اضافہ ہو اور خطے میں جنگ کی بجائے امن و امان کی باتیں ہونے لگیں۔
علاقائی امن پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کے علاوہ پاک فوج نے ملک میں معاشی ترقی کے متعدد منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے لئے سول و فوجی قیادت پر مشتمل ایک کونسل قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی سے قطع نظر معاشی منصوبے جاری رہیں گے اور آنے والی حکومت بہرصورت ان منصوبوں اور معاہدوں کا احترام کرے گی جن کا تعلق ملک میں معاشی ترقی سے ہو۔ ان اقدامات کا مقصد ملک کو موجودہ مالی بحران سے نکال کر قومی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ پاکستان اپنے قرضے بھی ادا کر سکے اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کر کے عوام کو سہولت بھی فراہم کی جا سکے۔
یہ اعلیٰ مقاصد ہیں لیکن ملکی دفاع کی طرح ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اعتماد سازی بے حد ضروری ہے۔ عوام کو اس بات کا اعتبار ہونا چاہیے کہ ملک کے فیصلے ان کے منتخب لیڈروں کے ایما پر ہی کیے جائیں گے یعنی عوام کو بالادست اور فیصلہ کن عنصر مانا جائے گا۔ یہ مقصد کسی ایک آرمی چیف کی توصیف اور قصیدہ گوئی سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ملک میں آئینی جمہوری عمل کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔ البتہ معروضی حالات میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک پارٹی کو کمزور کرنے اور ایک لیڈر کو کسی بھی قیمت پر اقتدار سے محروم کرنے کے لئے انتخابات ملتوی کرنے کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ پہلے اسمبلی کی آئینی مدت کا عذر تراش کر کر انتخابات کو ٹالا جاتا رہا حالانکہ پارلیمانی نظام میں جب کوئی ملک کسی بڑے بحران کا سامنا کرتا ہے تو اس سے نکلنے کے لئے انتخابات کے ذریعے عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں انتخابات کو ٹالنے کے حیلے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ نے آج اپنی اردو ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی حکمران جماعتیں اور پاک فوج موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک ایسی نگران حکومت قائم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہیں جو دو سال کی مدت تک اقتدار میں رہے گی۔ اس میں موجودہ حکمران جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف سے علیحدہ ہو کر بننے والی پارٹیوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے پہلے ہی نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب انہیں ملکی معاملات اور عالمی معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے وسیع اختیار حاصل ہو گا۔ رپورٹ کہا گیا ہے کہ ان اختیارات کے ساتھ طویل المدت نگران حکومت ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا کام احسن طریقے سے سرانجام دے سکے گی۔
آئینی تقاضوں کے برعکس طویل المدت نگران حکومت قائم کرنے کی باتوں کے علاوہ تحریک انصاف کے خلاف کیے گئے اقدامات اور ایک غیر شفاف عدالتی عمل کے نتیجہ میں عمران خان کو قید کی سزا دے کر جیل منتقل کرنے کے طریقہ کار سے بھی موجودہ حکومتی بندوبست کے ارادوں پر شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ عمران خان کو سزا دے کر سیاسی منظر سے دور کرنے کے عمل کو پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا پرانا اور آزمودہ طریقہ کہا جا رہا ہے۔ ملک میں متعدد مواقع پر فوج نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے سیاسی لیڈروں کو معتوب ٹھہرا کر غیر فعال کرنے کا اقدام کیا ہے۔ عمران خان کے خلاف ہونے والی کارروائی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہوتا کہ پاک فوج اس تاثر کو ختم کرنے کا اہتمام کرتی اور سیاسی فیصلہ سازی میں شرکت کی خبریں عام نہ ہوتیں۔ پارلیمنٹ نے حال ہی میں اسٹبلشمنٹ اور ایجنسیوں کو طاقت ور بنانے کے لئے متعدد قوانین منظور کیے ہیں۔ اس کے علاوہ آرمی چیف معاشی احیا کے نام پر تمام اہم فیصلوں میں شریک ہیں۔
ایسے میں جب ایک مقبول سیاسی لیڈر کو سزا دے کر سیاسی منظر سے دور کیا جائے گا اور انتخابات میں ٹال مٹول سے کام لیا جائے گا تو اس کا الزام سیاسی لیڈروں کی بجائے فوج پر ہی عائد ہو گا۔ پھر آرمی چیف خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے دہشت گردی کے خاتمہ اور ملکی عوام کی بہبود کی خواہش کا اظہار کرتے رہیں، عملی طور سے ان مقاصد کا حصول مشکل ہوتا جائے گا۔ کیوں کہ عوام میں مایوسی عام ہوگی۔ وہ اس بات پر نالاں ہوں گے کہ انہیں ووٹ کے ذریعے امور مملکت پر اثر انداز ہونے اور اپنے نمائندوں کے ذریعے اہم سیاسی و معاشی فیصلے کرنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتہ کے دوران فوج کے نزدیک سمجھے جانے والے ایک صحافی و اینکر نے ایک ٹویٹ میں جنرل عاصم منیر کو خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ’تحریک انصاف کا سفر رک جانے کے بعد پاکستانی عوام زرداری یا نواز شریف کی حکومت نہیں چاہتے۔ وہ اپنی غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے آرمی چیف مارشل لا لگائے بغیر ایک دیانت دار، پروفیشنل غیر سیاسی حکومت کی قیادت کریں تاکہ ملک کی تقدیر بدلی جا سکے‘۔ ملکی حکومت یا پاک فوج کی طرف سے اس ٹویٹ پر کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک جانا پہچانا اینکر جب ملکی فوجی سربراہ کو آئین کے برعکس اقدام کا مشورہ دیتا ہے اور قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ یا متعلقہ اتھارٹی اس کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی، تو اس سے یہی تاثر قوی ہوتا ہے کہ مشکل حالات کا عذر بنا کر ایک بار پھر نئی آمریت مسلط کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور اپنے غیر سرکاری ’ترجمانوں‘ کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنے کی جا رہی ہے۔
یہ ملک اپنی مختصر تاریخ میں آئین سے کھلواڑ اور عوام کے حقوق کچلنے کے لئے متعدد افسوسناک تجربے کرچکا ہے۔ ان تجربوں کے نتیجہ میں نہ ترقی ہو سکی اور نہ عوام کی حالت میں تبدیلی رونما ہوئی۔ بلکہ پاکستان اس وقت اپنے معاشی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ اب بھی اسی غیر جمہوری اور آئین سے انحراف کے راستے پر چل کر کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا خواب دیکھنے والے آرمی چیف سب سے پہلے ہمہ قسم غیر آئینی طریقوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کریں تاکہ کسی حد تک فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور اسے عوام کا بھروسا حاصل ہو سکے۔


