ڈونگ اے گیلی سے ڈونگا گلی تک۔ تنگ نظری اور تعصب سے بھرا سفر


کرسچن جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی جے اے پی) مسیحی کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ہے جو ہر سال صحافیوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کرتی ہے۔ امسال سی جے اے پی کی جانب سے پرفضا مقام ”ڈونگا گلی“ میں چار روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پاکستان بھر سے مسیحی کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی، مجھے گزشتہ سال بھی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا تھا جبکہ امسال بھی تربیتی ورکشاپ کا حصہ رہا ہوں۔

روٹین کے مطابق ورکشاپ صبح دس بجے سے شام چار بجے تک جاری رہتی تھی جس کے بعد شرکاء ٹولیوں کی صورت میں سیر و سیاحت کے لئے نکل جاتے تھے، گزشتہ سال بھی ساتھیوں کے ہمراہ مری میں گھومتے ہوئے یہ سوال میرے ذہن میں تھا کہ مری کے مختلف علاقوں کے نام کے ساتھ لفظ گلی کیوں لگتا ہے جسے کھارا گلی، نتھیا گلی اور ڈونگا گلی وغیرہ، امسال بھی یہ سوالات میرے ذہن میں موجود تھے۔ لوئر ٹوپہ سے ڈونگا گلی جاتے ہوئے میں نے ٹیکسی والے سے یہی سوال پوچھا کہ ڈونگا گلی کا نام ڈونگا گلی کیوں ہے، ٹیکسی والا مقامی (مری کا رہائشی) تھا اس نے مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ مری کا سب سے ڈونگہ (گہرائی والا) علاقہ ہے اس لئے اس کا نام ڈونگا گلی ہے مگر جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ نتھیا گلی کا نام نتھیا گلی کیوں ہے اور باقی تمام علاقوں کے ساتھ گلی کیوں لگتا ہے تو اس نے اتنا کہنے میں ہی اکتفا کیا کہ اس بارے میں اسے معلوم نہیں ہے۔ اسے عادت سمجھ لیں یا پھر تجسس میں نے اپنے ساتھیوں سمیت یہاں کے بہت سے مقامی افراد سے اس بارے میں پوچھنے کی کوشش کی مگر تسلی بخش جواب نہیں مل سکا تاہم ورکشاپ کے دوسرے دن میں کسی حد تک ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

ورکشاپ کے دوسرے روز معروف صحافی اعزاز سید جب سیشن لینے کے لئے آئے تو سیشن سے قبل انہیں ڈونگا گلی میں واقع تاریخی سینٹ جانز چرچ کا دورہ کروایا گیا۔ یہاں پر موجود چرچ کے کیئر ٹیکر خاور گل نے بتایا کہ یہ چرچ برٹش آرمی کے اعلی عہدیدار مسٹر ڈونگ اے گیلی Dong A Galli نے تعمیر کروایا تھا اس لئے اس علاقے کا نام بھی ان کے نام پر ہے یعنی اس علاقے کا نام ڈونگ اے گیلی تھا جو بعد تبدیل ہو کر ڈونگا گلی بن گیا یا بنا دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دعوی میرے لئے بہت اہم تھا اس لیے میں نے خاور سے پوچھا کہ آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے تو اس نے ہمیں چرچ کے ساتھ موجود کمرے میں پڑا ایک پرانا صندوق دکھا یا جس پر ”ڈونگ اے گیلی چرچ ریکارڈ 1882“ لکھا ہوا تھا۔ خاور گل نے بتایا کہ اس طرح کا بہت سا ریکارڈ یہاں موجود تھا جو کہ ضائع ہو چکا ہے یا ضائع کر دیا گیا ہے مگر ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ہے کہ اس علاقے کو آباد کرنے والے ”مسٹر ڈونگ اے گیلی“ ہی تھے۔

خاور گل نے ہمیں (مجھے اور موقع پر موجود دیگر صحافیوں کو ) کو یہ بھی بتایا کہ کچھ عرصہ قبل سکھ فیملی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ بھی یہاں آئے تھے جنہوں نے بتاتا تھا کہ وہ میکش پوری ہوٹل کو دیکھنے آئے تھے۔ یہ ہوٹل ان کے نانا میکش پوری نے بنایا تھا اور ہائیکنگ کے لئے مشہور میکش پوری ٹریک بھی انہی کے نام سے منسوب تھا تاہم اب اس ٹریک کا نام بھی تبدیل کر کے مشک پوری ٹریک مشہور کر دیا گیا ہے. خاور گل نے ہمیں بتایا کہ یہاں سے کچھ فاصلے پر وہ واٹر ٹینک موجود ہیں جنہیں برٹش آرمی کے افسر ز نے دو سو سال قبل تعمیر کروایا تھا. ان واٹر ٹینکوں میں پہاڑوں اور چشموں سے آنے والا پانی جمع ہوتا تھا جو بعد ازاں مری اور دیگر علاقوں کو سپلائی کیا جاتا تھا، خاور کے بتانے پر ہم یہ واٹر ٹینک دیکھنے گئے، واٹر ٹینک آج بھی ویسے ہی قائم ہیں مگر افسوس کہ یہاں پرنہ کوئی تختی ہے اور نہ شواہد جن سے پتہ چل سکے کہ یہ عظیم کارنامہ کس کا ہے، یہی حال دیگر جگہوں کا ہے، سرکاری طور پر کسی بھی مقام پر آپ کو ایسی کوئی تختی یا کتبہ دیکھنے کو نہیں ملے گا جس سے پتہ چل سکے کہ یہ کس کا کارنامہ ہے یا اس کا جگہ کا نام کس وجہ سے رکھا گیا تھا۔

اس کی وجہ شاید وہ تنگ نظری ہے جس کی وجہ سے لائلپور کو فیصل آباد بنا دیا گیا اور اس کے بانی جیمز براڈوڈ لائل کے نام کی تمام تختیاں اور کتبے تک ضائع کر دیے گئے تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔ جس صندوق کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اگر اس پر لکھی تحریر (ڈونگ اے گیلی چرچ ریکارڈ 1882 ) کو مد نظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ”مسٹر ڈونگ اے گیلی“ برٹش آرمی کے اعلی عہدیدار تھے جنہوں نے مختلف علاقوں کو آباد کر کے اپنے خاندانی نام پر ان کا نام رکھا جیسے کھارا گیلی، نتھیا گیلی وغیرہ مگر اس گیلی کو بعد میں تبدیل کر کے گلی بنا دیا گیا. اس حوالے سے کچھ دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے مری کا پرفضا مقام نتھیا گلی بھی ہو سکتا ہے اسی خاندان کی کسی خاتون کے نام پر ہو جس کا نام سنتھیا گیلی ہو، مگر اس بعد ازاں اس نام کو تبدیل کر کے نتھیا گلی کر دیا گیا ہو. جو بھی ہوا ہو مگر ایک بات طے ہے کہ مری کے پرفضا مقامات کی کی سیر کرتے ہوئے اگر آپ تاریخی حقائق تلاش کریں گے تو آپ کو تنگ نظری کے بہت سے شواہد ملیں گے اور آپ کو اپنا یہ سفر تنگ نظری اور تعصب سے بھرا معلوم ہو گا۔

Facebook Comments HS