عجیب بندر تماشہ اور عجیب مداری


ہم نوع انسان صدیوں سے بندر تماشا دیکھتے آ رہے ہیں اور کچھ نہ کچھ حد تک اس بندر تماشے سے لطف اندوز بھی ہوتے آ رہے ہیں۔ اس بندر تماشے میں مداری بندر کو نچوا کر اپنے پیٹ کی بھوک ختم کرتا ہے۔ سارے تماشائی لطف اندوز ہوتے ہیں اور بندر بچارے کو زندہ رہنے کے لئے جو خوراک چاہیے وہ مل جاتی ہے۔ خیر یہ بندر تماشا تو صدیوں سے چلتا آ رہا ہے۔ اس طرح کا بندر تماشا لیکن عجیب تماشا مملکت خدا میں سات دہائیوں سے جاری ہے۔

یہ بندر تماشا اس لیے عجیب ہے کہ اس بندر تماشے میں مداری منظر سے غائب ہوتا ہے۔ بس ڈگڈگی بجنے کی آواز تماشائیوں تک پہنچ رہی ہوتی ہے اور اس ڈگڈگی کی آواز سے بندر جوش کے مارے کرتب دکھا رہی ہوتا ہے اور تماشائی لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ مداری دیکھے بغیر۔ اچھا یہ بندر تماشا اس لیے بھی عجیب ہے کہ اس تماشے کی کمائی سے مداری ارب پتی کھرب پتی بن جاتے ہیں اور باہر ملک جزیرے خرید لیتے ہیں اور ساتھ ساتھ بندر بھی مزے کرتے ہیں اور خوب پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے لیکن بندروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مداری کچھ عرصے بعد ایک بندر کو باہر نکال پھینکتا ہے اور بندر پر الزام عائد کرتا ہے کہ نکل جا تو بد چلن ہے اور فرمانبردار نہیں ہے اور اس کی جگہ ایک اور بندر لے آتا ہے اور اس طرح اپنی کمائی جاری رکھتا ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد اس نیک با ادب بندر کو بھی باہر نکال پھینکتا ہے۔ یہ کہہ کر یہ بندر تو پہلے بندر سے بھی زیادہ بد چلن ہے اور نافرمانبردار ہے اور وہی پہلے والی بندر واپس لے آتا ہے اور اس طرح بندر تماشا جاری رکھتا ہے اور اس کی کمائی اربوں کھربوں سے بڑھتی رہتی ہے۔ یہ بندر تماشا اس لیے بھی عجیب ہے کہ اس بندر تماشے میں سب سے زیادہ نقصان تماشائیوں کا ہوتا ہے۔ نہ بندر کو کچھ ہوتا ہے نہ مداری کو۔

یہ بندر تماشا اپنی نوعیت میں اس لیے بھی عجیب ہے کہ اس میں آدھے تماشائیوں کو مداری نظر آ رہا ہوتا ہے اور وہ مداری کی کمائی کے خلاف بولتے بھی ہیں اور ساتھ ساتھ نکالے جانے والے بندر کی صاف گوئی کی گواہی بھی دیتے ہیں لیکن آدھے تماشائیوں کو نہ تو مداری نظر آتا ہے نہ مداری کی چال اور نکالے گئے بندر کو بد چلن ہی کہتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد جب دوسرے بندر کو مداری کی طرف سے الزام لگا کر نکالا جاتا ہے تو وہ آدھے تماشائی جنہیں پہلے مداری نظر نہیں آ رہا ہوتا اب کی بار بار انہیں مداری بھی نظر آنے لگتا ہے۔ مداری کی چال بھی اور بندر کی پاک دامنی بھی اور وہ آدھے تماشائی جنہیں پہلے مداری نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اب کی بار نہ تو انہیں مداری نظر آتا ہے۔ نہ مداری کی چال، یوں یہ عجیب بندر تماشا جاری رہتا ہے اور مداری کی کمائی بھی اور تماشائی صرف تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔

آخر میں عرض کرتا چلوں یہاں بندر سے مراد پاکستانی سیاستدان نہیں اور تماشائیوں سے مراد پاکستانی عوام نہیں بلکہ میرا اشارہ تو اس بندر تماشے کی طرف ہے جو سات دہائیوں سے وطن عزیز میں جاری ہے۔

 

Facebook Comments HS