قراقرم کا برف زار


راکاپوشی سے دیران کی چوٹی تک گلیشیئر کی ایک دیوار سی کھڑی ہے جسے ”آئس وال“ یا ”آئس وال آف راکاپوشی“ بھی کہا جاتا ہے۔ اب اگلے پانچ گھنٹوں تک ہمارا سفر اسی برف زار میں ہو گا۔

یہاں پہنچ کہ جب ہمیں ہوا کے تھپیڑوں نے ستایا تو ہم نے سامان سے اپنے اپنے گرم کپڑے برآمد کر لیے اور سفر شروع کیا۔ سورج کی وجہ سے برف اپنی جگہ جمی ہوئی تھی جو ہمارے لیے اچھی بات تھی لیکن راستے میں آنے والے نالوں کا پاٹ اتنا چوڑا تھا کہ ہمیں کراس کرنے کے لیے کچھ آگے جانا پڑتا اور تنگ پاٹ سے چھلانگ لگانی پڑتی۔ ان نالوں کے پانی کی شدت تو آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ سارا گلیشیئر کا پانی تھا۔

ایسی جگہوں پہ آ کہ ہم خدا سے اور قریب ہو جاتے ہیں شاید اس لیے کہ شہروں کی تیز رفتار اور چکاچوند زندگی ہمیں قدرت کی باریکیوں اور عجائب کی طرف غور کرنے کا موقع کم کم ہی دیتی ہے۔ اس لیے میں اکثر کوشش کرتا ہوں کہ ٹریکنگ کے دوران موسیقی کم سنوں اور ذکر اللہ زیادہ سے زیادہ ہو۔ سو یہاں بھی میری زبان ذکر اور اپنوں کے لیے دعاؤں سے رواں تھی۔

اب تک راکاپوشی ہمارے ساتھ ساتھ تھا لیکن جیسے جیسے راستہ طے ہوتا گیا ہم مناپن گلیشیئر کے ہم سفر بن گئے اور دیران کی چوٹی ہمیں دکھائی دینے لگی۔

جبکہ ہماری ایک جانب ہنزہ کے پہاڑ تھے جو سورج کی روشنی سے چمک رہے تھے۔

تین گھنٹے بعد بھی یہ ٹریک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور اب برف دیکھ دیکھ کہ ایک کوفت سی ہونے لگ گئی تھی۔ اتنے میں دھڑام کی آواز آئی

دیکھا تو مہدی پھسل کہ گرا تھا اور اس کے ہاتھ سے کوکر چھوٹ کہ ایک بڑے نالے میں جا گرا۔

اس سے پہلے کہ ہمارا اکلوتا پکانے کا برتن بہہ کے دور نکل جاتا اور ہم دیران جا کہ ہاتھ ملتے رہ جاتے نعیم نے دوڑ لگائی اور کچھ نیچے جا کہ اسے پکڑ لیا۔

الحمد للہ پڑھ کہ ہم اور احتیاط سے چلنے لگے۔
لیکن کچھ دیر بعد بارش شروع ہو گئی۔

اب مجھے پریشانی ہوئی کہ آگے کا راستہ آسانی سے نہیں کٹنے والا۔ جیکٹ کے نیچے ہاف سلیو شرٹ کی وجہ سے ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی سو میرے ذکر اور دعاؤں میں شدت آ گئی۔ شاید اتنی پڑھائی تو میں نے پچھلے دو تین مہینوں میں نہیں کی ہو گی۔ کرم خدا کا کہ بیس منٹ تک ہونے والی ہلکی بارش یک دم رک گئی اور ہم سب کے قدم تیز ہو گئے تاکہ یہ برف زار جلد از جلد پار کر سکیں۔

اس ٹریک پہ جس چیز کی اہمیت کا سب سے زیادہ اندازہ ہوا وہ پانی تھا۔ حلق میں کانٹے پڑنے پر جب دو گھونٹ ٹھنڈا پانی اندر جاتا تو جس میں ایک بجلی سی دوڑ جاتی۔ سچ کہا کسی نے وہ بے رنگ مائع جو زمین پر صرف آب ہوتا ہے، پہاڑوں پر آب حیات ہوتا ہے۔

The Last Steep:

برف زار سے ایک جانب مڑ کہ پتھریلا ٹریک شروع ہو گیا جس سے آگے برف کی کریوز (گلیشیئر میں پڑی برف کی دراڑٰیں جو اکثر بہت گہری ہوتی ہیں ) ہمارے انتظار میں تھیں۔

کریوز کے بارے میں کافی پڑھ اور سن رکھا تھا سو اس خطرناک جگہ کو تکنیکی طور پہ پار کرنا تھا۔ اکثر کریوز لگتی چھوٹی ہی لیکن پورا پورا بندہ نگل لیتی ہیں۔ دوسرا ان کے کنارے اکثر پھسلن والے ہوتے ہیں اس لیے خود کا سنبھالنا پڑتا ہے۔ کچھ کریوز خود پار کیں کچھ میں پورٹرز نے ہماری مدد کی اور یوں ہم یہ حصہ بھی پار کر گئے۔

سلمان نے بتایا کہ اب صرف دو چڑھائیاں ہیں اور پھر بیس کیمپ آپ کا۔
سلمان چونکہ میدانی علاقے کا بندہ ہے سو مجھے یقین آ گیا کہ واقعی اب دو چڑھائیاں ہوں گی۔
لیکن۔ ۔ ۔
غضب کیا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

ایک کہ بعد دوسری چڑھائی سے جب سانس پھول گیا تو کچھ دیر دم لینے کو رکے۔ سلمان سے میں نے پھر پوچھا کہ مجھے بتاؤ واقعی میں کتنا رہ گیا ہے۔ ؟

لیکن سلمان نے پکے راہنماؤں (جو اکثر آپ کو دو تین گھنٹے کے ٹریک کو آدھا گھنٹہ کہہ کر بہکاتے ہیں ) کی طرح مجھے کہا کہ بس عظیم بھائی کچھ ہی آگے ہے، ایک دو چڑھائیاں اور جو پندرہ منٹ کی ہیں۔

لیکن یہ پندرہ منٹ جب آدھا گھنٹہ بن گئے تو میں نے بھی صبر کر لیا۔

چھ سات چڑھائیاں چڑھنے اترنے کے بعد ایک دلدل کو پار کیا تو سامنے ہماری آخری چڑھائی تھی جس کے بعد سلمان کے بقول ہماری منزل تھی۔ ہمارے دونوں پورٹر مہدی اور نعیم کب کے آگے جا چکے تھے اور یہ پہاڑ اتنا زیادہ ڈھلوانی سطح کا تھا کہ سلمان نے پکڑ کہ وجیہہ کو پار کروایا اور مجھے بھی کہیں کہیں اس کی مدد لینی پڑی۔

وجیہہ اتر گیا تھا، میں جب اوپر چڑھ گیا تو کچھ دور بیس کیمپ میں لگا ہوا گلابی خیمہ مجھے نظر آیا۔

یہاں میں نے سلمان کو آگے جانے کا کہا اور خود اس پہاڑ کے اوپر بیٹھ گیا۔ آسمان کو دیکھا اور اوپر بیٹھے تخت نشین کو کچھ آنسوؤں کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ مجھے بارش، گلیشیئر، بڑے پتھروں، برفانی درزوں، دلدل اور ڈھلوانوں سے بچا کر صحیح سلامت یہاں تک لے آیا تھا۔

کچھ دیر بعد میں نیچے اترا اور بیس کیمپ جہاں گھاس کا قالین بچھا تھا وہاں جوتے اتار کہ چلنے لگ گیا۔

دیران بیس کیمپ ؛
خیمے کے قریب پہنچ کہ میں میٹ پہ ڈھے گیا اور دیران کو دیکھنے لگا۔

راکاپوشی کے مشرق میں واقع دیران کی چوٹی 7، 266 میٹر اونچی ہے جو قراقرم کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے۔ اہرام کی شکل کی یہ چوٹی نگر اور وادیٔ بگروٹ میں واقع ہے۔ یہ دنیا کی سات ہزار دو سو میٹر سے بلند 108 چوٹیوں میں 93 نمبر پر ہے جسے سب سے پہلے 1968 میں سر کیا گیا تھا۔ نعیم کے مطابق اسے سر کرنا بہت مشکل ہے کہ برف سے ڈھکے ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر برفشار آتے رہتے ہیں۔ برطانوی، جرمن اور اطالوی ٹیموں کی ناکامی کے بعد اسے ایک آسٹرین ٹیم نے سر کیا تھا جس میں ہانز شیل، رینر گوئیشل اور رڈولف پیشنگرشامل تھے۔

یہاں خیمے لگانے کے بعد نعیم اور مہدی نے فٹافٹ سلنڈر پہ نوڈلز بنا کہ ہمیں پیش کیے اور کھانے کے لیے لکڑیاں ڈھونڈنے چلے گئے جبکہ میں قدرت کے عجائبات کی تصویر کشی میں مشغول ہو گیا۔

دیران بیس کیمپ اصل میں دیران چوٹی کے دامن میں ایک خوبصورت سرسبز میدان ہے جس کے ایک طرف دیران، ایک جانب سرسبز پہاڑ اور ایک سائیڈ پہ گلیشیئر کی دیوار واقع ہے۔ رنگا رنگ پھولوں سے مہکتی اس جگہ پہ دریا نما ایک بڑا نالہ بھی بہہ رہا ہے جو ہماری پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ ہمارے گلابی خیمے کے عقب میں بادلوں سے سورج کی آنکھ مچولی دیکھتے اور خدا کی قدرت کو سراہتے سراہتے وقت کیسے گزرا معلوم نہیں، شام سے پہلے دسترخوان پہ کھانا چن دیا گیا اور میں ”چکن پلاؤ“ سامنے دیکھ کہ جذباتی ہو گیا۔

یہ سب ہمارے پورٹرز کی محنت تھی کہ آبادی سے دور دراز کے اس ویرانے میں ہمیں کھانے پینے کے حوالے سے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ مزیدار سا چکن پلاؤ جی بھر کہ کھایا اور میں نے ”کبرو“ سے بھی شیئر کیا جو اب اکثر میرے آگے پیچھے منڈلا رہا تھا۔

کھانے سے فراغت پا کہ ہم نے کچھ دیر آرام کیا اور پھر رات کو ایک بار دیران کے دامن میں محفل جمائی۔ رات کو اس چوٹی کا نظارہ ہی کچھ اور تھا۔ آسمان پہ بادل تھے لیکن میں نے انہیں لفٹ نہ کروائی۔

رات کو شاید ہم گیارہ بجے خیمے میں سونے چلے گئے کہ کل کچیلی جھیل سے ہو کہ واپس راکاپوشی بیس کیمپ جانا تھا۔

لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
جاری ہے

ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری
Latest posts by ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments