دس ہزار جھیلوں کی سرزمین: قسط اول

امریکہ کی ریاست منیسوٹا میں ایک اندازے کے مطابق دس ہزار جھیلیں ہیں اور میرا عارضی قیام آج کل اس جھیلوں کی سرزمین میں ایک پندرہ ہزار نفوس کی آبادی والے شہر میں ہے جہاں میں لوکم ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔ اکثر ان دور دراز علاقوں میں جہاں میڈیکل سٹاف کو مستقل طور پر لانا مشکل ہوتا ہے ہم جیسے لوکم عارضی طور پر آتے جاتے رہتے ہیں اور اس خلا کو پورا کرتے ہیں۔ بڑے شہروں کے مصروف ہسپتالوں میں بھی لوکم کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اس شہر کی خصوصیت یہ ہے کہ نہ صرف یہ اردگرد واقع جھیلوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوا ہے بلکہ یہ عین بر لب جھیل واقع ہے۔ اس شہر کا تذکرہ بعد میں آئے گا پہلے منیسوٹا کے بارے میں کچھ باتیں ہو جائیں۔
کچھ جگہوں سے ہماری روح کا تعلق ایسا پختہ ہوتا ہے کہ ہمیں خود بھی اس کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن تقدیر کسی نہ کسی بہانے ہمیں کھینچ کر بار بار اسی جگہ پھر لے جاتی ہے۔ اس جگہ کی مٹی ہمیں بلاتی ہے۔ شاید یہ دھرتی ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتانا چاہتی ہے۔
امریکہ کی ریاست منیسوٹا سے شاید میرا کوئی ایسا ہی تعلق ہے۔ چھبیس برس پہلے میں یہاں ریذیڈنسی ٹریننگ کے انٹرویو کے سلسلے میں اس کے دنیا کے عظیم دریا مسیسیپی کے کنارے آباد شہر منیپلاس میں آئی تھی۔ اس بل کھاتے دریا میں امریکہ کی بتیس ریاستوں کا پانی گرتا ہے اور بالآخر یہ جاکر خلیج میکسیکو میں گرتا ہے۔ میں نے اپنے تعارفی خط میں یہ لکھا تھا کہ میں نے نیٹیو انڈین فلاسفی کے کورس میں داخلہ لیا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں بسنے والے اصل باشندوں کو انڈین کا یہ لقب کولمبس نے دیا تھا کیونکہ وہ انڈیا دریافت کرنے نکلا تھا۔ لیکن یہ باشندے انڈین کہلانے کی بجائے نیٹیو امریکن کہلوانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
انٹرویو لینے والے پروگرام ڈائریکٹر کو میری یہ کورس والی بات بہت پسند آئی تھی اور وہ اسی کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ انہیں اس موضوع سے کیوں دلچسپی تھی؟ اس سوال کا جواب مجھے اتنے عرصے کے بعد اس چھوٹے سے جھیل والے شہر میں آ کر معلوم ہوا ہے۔ اس کا ذکر بھی بعد میں آئے گا۔
ریذیڈنسی کے لیے البتہ میں نے پہلی ترجیح اپنی ہی ریاست میں دی لیکن منیپلاس میں ہونے والے انٹرویو میں حوصلہ افزائی نے میرا سیروں خون ضرور بڑھایا تھا۔
پچھلے سال میں نے اپنے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل کرتے ہوئے لوکم کے طور پر کام کرنے کی ٹھانی اور کرنا خدا کا کیا ہوا کہ پہلا موقع منیپلاس کے اسی ہسپتال میں ملا جہاں میں برسوں پہلے انٹرویو کے سلسلے میں آئی تھی۔ امریکہ کے دوسرے علاقوں کی طرح یہ علاقہ بھی بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکہ میں صومالیہ سے آنے والے مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد منیسوٹا میں رہتی ہے۔ مجھے اور صومالیہ کی نرس پریکٹیشنر حوا جو حجاب پہنے ہوئے تھی کو ایک ہی آفس دیا گیا۔
حوا کی خود اعتمادی، خلوص اور سچائی میرے لیے ایک حسین تجربہ تھا۔ منتخب کانگریس وویمن الہان عمر کا تعلق بھی منیسوٹا سے ہے جو انسانی حقوق اور بالخصوص اسلاموفوبیا کے لیے بہت دبنگ آواز ہے۔ الہان عمر پاکستان بھی آ چکی ہے۔ منیپلاس کے اس ہسپتال میں سائیکاٹری کے ہر وارڈ میں چند ایک مسلمان ناموں والے سٹاف اور مریضوں کو دیکھنا بھی میرے لیے ایک خوبصورت کلچر شاک تھا۔ مریضوں کے مختلف مذہبی اعتقاد کے احترام کا خاص خیال رکھنا دل انگیز تھا۔
ایک طرف ایک مریض کی خواہش پر اس کے پسندیدہ قاری کی تلاوت کی ٹریک حاصل کی جا رہی تھی تو دوسری طرف ایک پیگن مریضہ کی فرمائش پر اس کی مذہبی مطابقت کے گیت حاصل کیے جا رہے تھے۔ مذہب کی آزادی کی یہ خوبصورت مثال ہے۔ ایک دیوار پر لگے ہوئے افریقہ کے نقشے نے پہلی دفعہ میرے دل میں اس براعظم میں جانے کی خواہش پیدا کی۔ اور اپنی میڈیکل کالج کے زمانے کی پیاری دوست نیلم یاد آئی جو کینیا سے ایم بی بی ایس کرنے لاہور آئی تھی اور ہمیں اکثر کینیا آنے کی دعوت دیتی رہتی ہے۔ نیلم کے آبا و اجداد پاکستان بننے سے بہت پہلے پنجاب سے جا کر افریقہ میں آباد ہوئے تھے۔
کچھ اور ایسے ہی پنجابی افریقی لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا اور حیرت انگیز طور پر ان کی اگلی نسلوں کو اب بھی پنجابی کی شد بد ہے۔
منیپلاس میں جب بھی کام کے سلسلے میں آنا ہوا تو ہوٹل کے سامنے واقع شہر کے بارے میں ایک میوزیم میں جانے کا کافی دفعہ اتفاق ہوا جس میں جا کر یہ یاد دہانی ہوئی کہ سال 2020 میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں موت کا واقعہ اسی شہر میں ہوا تھا۔ اس واقعے نے پورے امریکہ میں مظاہروں کا شعلہ بھڑکا دیا اور ”بلیک لایوز میٹر“ کی تحریک شروع ہوئی۔
ہوٹل کے بالکل ساتھ ہی گھتری تھیٹر میں کئی سٹیج ڈرامے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں سے سب سے یادگار ڈرامہ تھامس جیفرسن اور اس کی غلام ملازمہ سیلی کے بارے میں تھا۔ تھامس جیفرسن کی جوان بیوی مارتھا نے بستر مرگ پر اس سے یہ وعدہ لیا کہ اس کی موت کے بعد وہ دوبارہ کبھی شادی نہیں کرے گا۔ وہ اپنے بچوں کو سوتیلی ماں کی ان بدسلوکیوں سے بچانا چاہتی تھی جن کا وہ کبھی خود شکار ہوئی تھی۔ انتالیس سالہ تھامس جیفرسن اگر یہ وعدہ نہ کرتا تو شاید تاریخ میں اس کے اور سیلی کے تعلقات کا سیکنڈل نہ بنتا جس پر بحث آج بھی جاری ہے۔
ان دونوں کے اکٹھے شادی کے بغیر بہت سے بچے پیدا ہوئے۔ سیلی اور اس کے بچے تھامس جیفرسن کی زندگی میں غلام ہی رہے۔ تھامس جیفرسن کی موت کے بعد اس کی وصیت کے مطابق ان سب بچوں کو غلامی سے آزاد کر دیا گیا لیکن سیلی کی آزادی کا اس وصیت میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ سیلی کو بالآخر تھامس جیفرسن کی اپنی مرحومہ بیوی کے بطن سے ہوئی بیٹی نے آزاد کیا۔ سیلی اس کے بعد تھامس جیفرسن کے مشہور و معروف گھر ”مونٹی چیلو“ جو اب بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے سے چلی گئی اور اپنی زندگی میں دوبارہ وہاں قدم نہیں رکھا۔
گھتری تھیٹر میں دیکھا گیا یہ سٹیج ڈرامہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ تاریخ اسی کا نام ہے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتی ہے۔ تھامس جیفرسن بھی خطا کا پتلا اپنے زمانے کا انسان تھا جو اپنے نظریات میں تو انقلابی تھا اور یہ کہہ بلکہ امریکہ کے اعلان آزادی میں لکھ ڈالا کہ سب انسان برابر ہیں مگر اپنی زندگی میں اس پر عمل نہ کر سکا۔ اسی ڈرامے میں اس کے اپنے الفاظ میں مجھے یہ ڈائیلاگ بہت پسند آیا ”تھامس جیفرسن بننا بہت مشکل کام ہے“ ۔
گھتری تھیٹر میں ہر شو سے پہلے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جس جگہ یہ تھیٹر موجود ہے یہ زمین کبھی نیٹیو امریکن ڈکوٹا قبیلے کی تھی۔ اگرچہ اب ڈکوٹا قبیلے کو یہ زمین واپس تو نہیں کی جا سکتی لیکن شاید اس کا ذکر کر کے تاریخی زخموں پر پھاہا رکھے جانے کی ایک کوشش تو کی جا سکتی ہے۔ کاش اسلام آباد کے ہر سیکٹر کی تاریخ میں یہ لکھا جاتا کہ یہاں پہلے کون سا گاؤں آباد تھا۔ اسی طرح ملک بھر میں گاؤں کے گاؤں شہری آبادیوں میں تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ مجھے ان سب نئی بستیوں میں اداسی محسوس ہوتی ہے۔ گھتری تھیٹر کی طرح کی اداسی۔ شاید پہلی اجڑنے والی بستیوں کو محبت سے الوداع کرنے سے یہ اداسی کم ہو جائے۔
منیپلاس میں اپنے کام کے دوران ایک ویک اینڈ پر نوے میل کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے شہر روچسٹر میں واقع میو کلینک کا بھی چکر لگایا جو باہر سے بظاہر ایک سادہ سا ہسپتال نظر آتا ہے لیکن نہ صرف یہ امریکہ کا نمبر ایک ہسپتال ہے بلکہ یہاں دنیا بھر سے وہ مریض آتے ہیں جن کے مرض کی تشخیص نہیں ہو پاتی اور یہاں کے مایہ ناز طبیب سر جوڑ کر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میو کلینک 1864 میں وجود میں آیا۔ ان دنوں شہر میں آنے والے طوفان (ٹورنیڈو) نے تباہی مچائی تھی جس میں ڈاکٹر میو نے زخمیوں کے علاج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس قدرتی آفت کے بعد شہر میں ایک ہسپتال کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چند کیتھولک سسٹرز اور ڈاکٹر میو نے اس عظیم کام کا بیڑہ اٹھایا اور یوں میو کلینک وجود میں آیا۔ بعد میں ڈاکٹر میو کے دونوں ڈاکٹر بیٹے بھی اس مشن کا حصہ بن گئے۔ ان کے ایک بیٹے کا گھر اب میوزیم ہے جو کورونا کی وجہ سے بند تھا اور اس سال ستمبر میں سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا جائے گا۔ اس گھر کے در و دیوار نے دنیا کے عظیم معالجوں کی ملاقاتیں دیکھی ہیں۔ ڈاکٹر میو کے اس سرجن بیٹے کو معدے کے کینسر کی سرجری اور علاج میں خصوصی مہارت اور دلچسپی تھی اور بالآخر وہ خود بھی اسی مرض کے ہاتھوں جاں بحق ہوا۔
منیپلاس نے ہی باب ڈلن جیسا عظیم گلوکار پیدا کیا جسے اپنے انسانی ہمدردی میں ڈوبے گیت لکھنے پر لٹریچر کا نوبل پرائز دیا گیا۔ ایک اور نامی گرامی پاپ سنگر جو پہلے ”پرنس“ اور بعد میں ”آرٹسٹ“ کے نام سے مشہور ہوا بھی اسی شہر کا رہنے والا تھا۔ ہمیں منیپلاس یونیورسٹی کے احاطے میں واقع انڈین سنیک ریسٹورنٹ کے دوسے بھی ہمیشہ یاد رہیں گے۔
تو بات ہو رہی تھی جھیل کے کنارے واقع اس شہر کی جہاں میرا قیام ہے۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ اس شہر کے اردگرد جھیلوں کے کنارے واقع تین نیٹیو امریکن ریزرویشنز ہیں اور ہمارے اکثر مریض وہاں سے علاج کی غرض سے اس ہسپتال میں آتے ہیں۔ ان کے کلچر سے آگہی کے لیے ایک کتابچہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کتابچے نے چھبیس برس پہلے اس کلاس کی یادیں تازہ کر دیں جس میں قرعہ اندازی کے بعد میں نے ایک انعام جیتا تھا جسے ”ڈریم کیچر“ کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خواب گاہ میں اسے رکھنے سے ڈراونے خواب نہیں آتے۔ اس کلاس میں نیٹیو امریکن انسٹرکٹر نے جو چند پتے کی باتیں بتائی تھیں انہوں نے اس وقت میری بہت رہنمائی کی اور وہ ڈریم کیچر بہت سالوں تک میری بچیوں کے کمرے کی زینت رہا۔
زندگی واقعی آگہی کا نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ ہم اکثر اگلے سبق کے لیے اسی مقام پر آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے برسوں پہلے گزر ہوا تھا۔ یہ اگلا سبق دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے کیونکہ دونوں اسباق کے درمیان سالوں کا فاصلہ ہمیں زندگی کے بارے میں بہت کچھ سکھا چکا ہوتا ہے۔
باقی آئندہ

