پاکستان میں تنگ پٹڑی کی تاریخ: نیرو/ میٹر گیج ٹریکس کی کہانی

  (آخری حصہ) میٹر گیج؛ ریلوے ٹریک کا یہ گیج تنگ گیج کی ہی ایک قسم ہے جس میں دو پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ صرف 1 میٹر ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں یہ ٹریک انتہائی کم ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ اور اسپین جیسے ملک سیاحتی مقاصد کے لیے انہیں اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ویتنام، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں میٹر گیج ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف دو میٹر گیج لائنیں ہیں جو صوبہ

Read more

پاکستان بھر میں بچھائے گئے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی

4) ماڑی انڈس۔ لکی مروت برانچ لائن ؛ 92 کلومیٹر لمبی یہ ٹرانس انڈس ریلوے لائن ویسے تو ضلع میانوالی کے داؤد خیل جنکشن سے پختونخوا کے ضلع لکی مروت تک جاتی تھی لیکن چونکہ داؤد خیل جنکشن سے ماڑی انڈس تک کا ٹریک براڈ گیج ہے سو ہم آگے کے ٹریک کا ذکر کریں گے۔ ماڑی سے چھوٹی ریل کالا باغ کا پل پار کر کے کالاباغ اسٹیشن پہنچتی تھی۔ اِس پُل کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جب

Read more

ملک بھر میں بچھائے گئے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی

1850 میں جب تاجِ برطانیہ نے سر ہنری بارٹلے فریئر کو سندھ کا چیف کمشنر بنا کے بھیجا، تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اس خطے کے لیے تبدیلی کا پروانہ بھی لے کر آیا۔ اس کے ہوتے ہوئے نہ صرف کراچی کی بندرگاہ بنائی گئی بلکہ جہازوں کے لنگر انداز ہونے کو جیٹیاں بھی تعمیر کی گئیں۔ سندھی زبان کو فروغ دیا گیا اور سندھ میں ڈاک کا مضبوط نظام بھی نافذ کیا گیا۔ بندرگاہ بنی تو اسے ملک کے

Read more

ریاست بہاول پور کا پہلا اور سب سے بڑا نجی کتب خانہ

آج کتابوں کے عالمی دن پر ہم ذکر کریں گے ریاست بہاول پور کے سب سے بڑے اور قدیمی نجی کتب خانے کا جو صادق آباد کے ایک دیہات میں واقع ہے۔ یہ مبارک اردو لائبریری ہے جس کی بنیاد مبارک شاہ جیلانی مرحوم نے 1926 میں صادق آباد کے علاقے پیر دا گوٹھ میں رکھی تھی۔ پیر دا گوٹھ، صادق آباد کے علاقے سنجر پور کے نواح میں واقع ایک بستی ہے جسے اب محمد آباد کہا جاتا ہے۔

Read more

خان پور چاچڑاں شریف ریلوے لائن

خان پور جنکشن سے شروع ہو کر چاچڑاں شریف تک جانے والی اس ریلوے لائن کی کل لمبائی پاکستان ریلویز کے مطابق 33 کلومیٹر تھی جسے جولائی 1911 میں کھولا گیا تھا۔ اس ٹریک پر 1908 میں کام شروع کر دیا گیا تھا۔ اس ریلوے ٹریک کو بچھانے کا مقصد دراصل مرکزی ریلوے لائن کو دریائے سندھ کے اُس پار لے جا کر گوادر سے منسلک کرنا تھا۔ یعنی یہ لائن لاہور و ملتان کو بذریعہ خانپور، چاچڑاں، راجن پور،

Read more

خان پور سے چاچڑاں جانے والی دربار لائن کی بربادی کا قصہ

1991 کی بات ہے جب پاکستان ریلویز نے ٹرانسپورٹ مافیا اور مختلف سیاسی و سازشی عناصر کی بدولت بہاولپور ریجن کا ایک خوبصورت اور بہترین جنکشن ختم کر کے اسے بے آسرا کر دیا۔ یہ بات ہے خان پور جنکشن کی جو رونق، سہولیات اور مسافر بردار ریلوں کے حوالے سے پوری ریاست بہاولپور کا سب سے بڑا جنکشن ہوا کرتا تھا۔ لاہور اور کراچی کے تقریباً وسط اور ریاست بہاولپور کے جنوب مغرب میں واقع خان پور شہر، کبھی

Read more

مقبرہ بی بی مائی صاحبہ

سابقہ ریاست بہاولپور کے تاریخی شہر خان پور میں تاریخی ورثے کے نام پہ ایک خوبصورت مقبرہ واقع ہے جو شہر کے سب سے قدیم قبرستان جٹکی بستی کے جنوبی سِرے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مقبرے کو ہم گمنام مقبرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ گمنام اس لیے کہ یہاں کون دفن ہے یہ تو ہم جانتے ہیں لیکن ان کے نام کیا ہیں اس حوالے سے تاریخ بھی خاموش ہے۔ یہ مقبرہ جِسے لوگ مقبرہ بی بی مَائی

Read more

سلمان رشید، کچھ باتیں کچھ یادیں

جمعہ، 11 اکتوبر 2024 شام پاچ بجے لاہور گزشتہ سفرِ لاہور اس وقت خاص بن گیا جب میرے پسندیدہ ترین تحقیقی مصنف سلمان رشید صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ سلمان رشید اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے تحقیقی سفرنامہ نگار ہیں جن کے قدموں کے نشانوں سے وطن عزیز کا شاید ہی کوئی گوشہ محفوظ ہو گا۔ آپ دس سے زائد انگریزی کتب کے مصنفین ہیں جن میں آپ کے کئی بہترین اخباری مضامین شامل ہیں۔ یہ کتابیں

Read more

خان پور کا تاریخی و ثقافتی ورثہ

خان پور، آبادی کے لحاظ سے ضلع رحیم یار خان کی دوسری بڑی اور پنجاب کی پانچویں بڑی تحصیل ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان میں خان پور نام کے دس علاقے ہیں، یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کے پاکستان کے شہروں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام خان پور ہے۔ خان پور کو خان پور کٹورہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ اس شہر کی طبعی ساخت

Read more

گنگا رام پاور ہاؤس

محسنِ پنجاب سر گنگا رام نے عوام کی بھلائی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ ان کے مفادِ عامہ کے منصوبے صرف لاہور تک محدود نہیں ہیں بلکہ لاہور شہر سے باہر بھی اس وقت کے متحدہ پنجاب میں ان کے بہت سے منصوبے تھے جن میں سے کچھ اب بھی چل رہے ہیں۔ ان میں سے ایک گنگا رام پاور ہاؤس (موجودہ نام رینالہ خورد ہائیڈرو پاور پلانٹ) ہے۔ رینالہ شہر میں واقع یہ منصوبہ 1922 میں لوئر باری

Read more

ٹرین ٹو کوئٹہ۔ ایک مسافر کی داستان 6

زیرو پوائنٹ؛ خرواری بابا جاتے ہوئے راستے میں ایک پرفضا مقام آتا ہے جسے زیرو پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے آپ نہ صرف وادیٔ زیارت کا خوبصورت نظارہ کر سکتے ہیں بلکہ ٹھنڈی ہوا کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔ وادی کا سب سے اونچا پہاڑ ”خلافت“ بھی یہاں سے نظر آتا ہے۔ یہاں کئی فیملیز پکنک کے لیے آتی ہیں۔ زیرو پوائنٹ کی خاص بات وہ درخت ہے جس کو دیکھیں تو اللہ لکھا ہوا نظر آتا

Read more

5: ٹرین ٹو کوئٹہ، ایک مسافر کی داستان۔

شام کے چھ بجے کوئٹہ اترتے ہی ہم نے اپنے چمن کے ہم سفر ساتھیوں کو الوداع کہا اور تصاویر اتروائیں۔ میرا ارادہ اس بار ٹرین سے چمن جانے کا تھا لیکن راستے میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے چمن میں دھرنا اور ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے ٹرین بھی بند ہے۔ یہی بات بعد میں بھی کنفرم ہو گئی۔ اصل میں تو ٹرین کا سفر کرنا مقصود تھا جب وہ ہی

Read more

( 4 )ٹرین ٹو کوئٹہ۔ ایک مسافر کی داستان

پہروکُنری؛ مشکاف کے بعد پانچ سرنگوں سے گزر کے پہروکنری کا نام نظر آتا ہے۔ کتنا پیارا اور منفرد نام ہے۔ بلکہ آگے آنے والا ہر اسٹیشن اپنے آپ میں منفرد اور دلچسپ نام رکھتا ہے چاہے وہ پنیر ہو، دوزان یا پھر سپیزند۔ کہتے ہیں کہ پہرو ندی کے شمال میں واقع اس گاؤں کا نام ایک عورت کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ پہروکنری ہمیں تو بڑا بھایا لیکن شاید ٹرین کی اس سے نہیں بنتی۔ یہ اسٹیشن

Read more

(3)ٹرین ٹو کوئٹہ: ایک مسافر کی داستان

آئیے، اب ہم ایک کے بعد دوسرے اسٹیشن پر چلتے ہیں اور ان کی تاریخ کنگھالتے ہیں۔ ڈیرہ اللہ یار؛ جیکب آباد اسٹیشن پہ جیسے ہی ریل کی سیٹی بجی میرا جوش و خروش بڑھ گیا۔ اگلا اسٹیشن ڈیرہ اللہ یار تھا جہاں میں محمود بھائی کو لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد مل رہا تھا۔ اللہ اللہ کر کے ڈیرہ اللہ یار آیا اور ہمیں یار کا دیدار نصیب ہوا۔ جیکب آباد کے پاس واقع بلوچستان کا چھوٹا سا ضلع

Read more

ٹرین ٹو کوئٹہ (2)

کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے ہم پر سو سال حکومت کی، اس عرصے میں چار نسلیں پروان چڑھ جاتی ہیں۔ جہاں انگریز نے یہاں کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہیں وہ اس خطے کو بہت کچھ دے کر بھی گیا۔ بلوچستان میں کہیں بھی ریل کا سفر کر کے دیکھ لیں آپ خود سمجھ جائیں گے کہ یہاں ریلوے ٹریک بچھانا کتنا مشکل ہے اور یہ کام گورے 1887 میں مکمل کر گئے۔ اس راستے

Read more

ٹرین ٹو کوئٹہ : ایک مسافر کی داستان

رات کے قریباً ساڑھے تین بجے ہوں گے، جعفر ایکسپریس بلوچستان میں داخل ہو چکی تھی۔ یہ کچھی بولان کا کوئی ویرانہ تھا جہاں اچانک ٹرین نے بریک لگائی۔ آخری سے پہلے ڈبے کے ٹھنڈے کمپارٹمنٹ میں سوتے ہوئے مجھے لگا کہ کوئی اسٹیشن ہو گا۔ اچانک کہیں سے مختلف آوازوں کا شور بلند ہوا جو آہستہ آہستہ قریب آتا محسوس ہوا۔ یہ تو بلوچستان کا خطرناک علاقہ ہے، یہ سوچ کہ میں اٹھ بیٹھا۔ ہمت کی اور دروازے سے

Read more

ہومسٹیڈ سے حسرت موہانی تک

ڈاکٹر ہومسٹیڈ، 1868 سے 1884 کے دوران حیدرآباد شہر کے مشہور سرجن ہوا کرتے تھے جنہوں نے اس خطے میں پھیلنے والی ہیضے کی موذی وبا میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔ چونکہ انگریز پڑھنے لکھنے والی قوم ہے سو ان کی یاد میں گوروں نے 1905 میں پڑھنے لکھنے سے شغف رکھنے والی ہندوستانی عوام کے لیے یہ عمارت تعمیر کروائی جسے ”ہومسٹیڈ فری ریڈرز ہال“ کہا جاتا تھا۔ پھر دو تاجر بھائیوں وسیامل اور ہیرا نند نے یہاں ایک

Read more

آخری اسٹیشن

ہندوستان کے شمال مغربی حصوں میں چلنے والے ریل کے نظام کو ”شمال مغربی ریلوے“ کا نام دیا گیا تھا جو قیام پاکستان کے بعد 1961 تک مستعمل رہا۔ 1961 سے مئی 1974 تک یہ ”مغربی پاکستان ریلوے“ کہلاتا رہا اور بالآخر پاکستان ریلوے بنا جو اب تک چلتا آ رہا ہے۔ ایک دور تھا جب اس ریلوے نیٹ ورک کو ملک کے ذرائع نقل و حمل میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت حاصل تھی، کروڑوں لوگ صرف ٹرین

Read more

آخری اسٹیشن (2)

26 نومبر 2023 مسافر گاڑی سے اترا اور لمحے بھر کو آنکھ اٹھائی تو سامنے گندم کی ”پرالی“ سے اٹی خنک زمین پر ایک تخت بچھا تھا جس کے ماتھے پہ لکھا تھا؛ تخت محل سطح سمندر سے بلندی 499 فٹ تعمیر شدہ 1897 آہ۔ بخت کے تخت سے یک لخت اتارا گیا تخت محل۔ کسی سہاگن کی اجڑی مانگ جیسا تخت محل مجھے اپنی جانب شدت سے کھینچ رہا تھا۔ اس خالی عمارت میں بلا کی کشش تھی جس

Read more

آخری اسٹیشن بہاول پور تا امروکہ تک پھیلی بربادی کی ایک داستان

18 اپریل 1992 بغداد اسٹیشن سطح سمندر سے بلندی 393 فٹ سمہ سٹہ جنکشن سے بہاول نگر، امروکہ آنے جانے کے لیے ٹرینوں کی واحد گزرگاہ پر 1835 میں بغداد الجدید کا اسٹیشن تعمیر ہوا تو نہ صرف بہاول پور کے مضافات میں بسنے والوں کو سہولت میسر آئی بلکہ ریاست کے نواب کو عراق سے باہر اپنا ایک اور بغداد بسانے کا موقع بھی مل گیا۔ اس اسٹیشن سے کئی لوگوں کا روزگار بھی چمک اٹھا تھا جن میں

Read more

ملتانی کاشی گری

بہت پہلے فارسی کے ایک مشہور شعر میں ملتان کو گرد، گدا، گرما اور گورستان کا شہر گردانا گیا تھا۔ لیکن اس ملتان اور آج کے ملتان میں بہت فرق ہے۔ آج کا ملتان پنجاب کا چوتھا بڑا شہر ہے جو دنیا بھر میں کئی حوالوں سے مشہور ہے جن میں ملتان کی سرزمین پر آرام فرما رہے اولیا و صوفیا، ملتانی سوہن حلوہ، آم کے باغات، ملتانی کاشی گری اور ظروف سازی، چمڑے کے دیدہ زیب کھسے، کمنگری، اونٹ

Read more

حیدر آباد کا مکھی ہاؤس میوزیم

حیدر آباد جیسے شہر میں مجھے بہت سے مقبرے اور سندھی ثقافت سے مزین عجائب گھر تو ملیں گے ہی لیکن ساتھ میں ایک منفرد طرز تعمیر کا حامل ایسا گھر بھی دیکھنے کو ملے گا یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔ اگرچہ میں اپنے دوست جناب اکرم چھیپا صاحب کی تصاویر دیکھ چکا تھا لیکن اس جگہ کو خود جا کے دیکھنے کی خواہش تھی۔

بقیہ سندھ کی طرح حیدرآباد میں بھی ایک بڑا کاروباری طبقہ ہندو تھا جنہوں نے نہ صرف اس شہر کی تجارت بلکہ ثقافت اور طرز تعمیر پر بھی گہرا اثر ڈالا۔

عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ہندو سیٹھوں اور تاجروں نے دل کھول کے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنے مکان یا مندر بنوائے جو اس دور میں تعمیراتی شاہکار سمجھے جاتے تھے۔ پھر تقسیم کے بعد یہ سب ہم جیسے بے ذوق لوگوں کی جھولی میں آن گرے۔ حیدر آباد کا مکھی ہاؤس بھی انہی شاہکاروں میں سے ایک ہے۔

Read more

ملوٹ مندر

سطح مرتفع پوٹھوہار میں جا بجا مختلف قلعوں اور مندروں کے آثار/کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ تو بہتر حالت میں ہیں جبکہ کچھ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ملوٹ کا قلعہ اور مندر بھی ہے۔ ملوٹ، چکوال شہر سے چالیس کلومیٹر جنوب میں تحصیل کلرکہار کا ایک قصبہ ہے جس کی خوبصورت پہاڑیوں پہ ایک قدیم مندر اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وجہ تسمیہ و سن تعمیر ؛ خوبصورت طرز تعمیر کے

Read more

دامانی کے دامن میں- مناپن کا اوشو تھنگ اور راکاپوشی

صبح ہمارا استقبال پھر سے بارش نے کیا۔ یہ بارش دیران سے میرے تعاقب میں تھی۔ میں نے ساڑھے آٹھ تک اوشو تھنگ پہنچنا تھا لیکن ہوٹل سمیت سارا مناپن خالی لگ رہا تھا۔ ایک تو شدید بارش اوپر سے آج یہاں عید غدیر تھی، بڑی کوشش کے بعد ایک ٹیکسی ہاتھ آئی جس نے مجھے ہوٹل سے کچھ نیچے اوشو تھنگ چھوڑا۔ یہاں آ کہ سیدھا کچن کا رخ کیا، اسرار بھائی سے ملا اور ناشتے کا آرڈر دے

Read more

دُمانی کے دامن میں – پانچواں حصہ

اصلی ہیرو ؛ اس تمام ایڈونچر کے اصلی ہیرو ہمارے پورٹر بھائی نعیم اور مہدی تھے۔ جنہوں نے کئی کلو سامان لاد کر نہ صرف ہمیں بحفاظت پہنچایا بلکہ کئی جگہوں پہ ہمارے لیے راستہ بنایا اور انتظار کیا۔ کسی بھی بڑے ٹریک پہ آپ کے پورٹرز آپ کا اصلی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ خوش اور ٹھیک ہوں گے تو آپ خوش رہیں گے۔ سو ان کا خیال رکھیں، ٹریک کے دوران ہمیشہ ان کے مشوروں پہ عمل کریں اور

Read more

دامانی کے دامن میں (4)

دیران کی دشواری ؛ رات کا ایک بجا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ میں سمجھا یہ ابھی رک جائے گی لیکن مسلسل بارش نے مجھے الرٹ کر دیا۔ سلمان اور وجیہہ شاید نیند کی وادیوں میں تھے لیکن میں جاگ رہا تھا۔ کچھ دیر میں میری بھی آنکھ لگ گئی۔ رات کے کسی پہر پاؤں میں گیلا پن محسوس ہوا تو اٹھ بیٹھا، کیا دیکھتا ہوں کہ تین گھنٹوں کی مسلسل بارش سے کچھ پانی اندر آ گیا ہے

Read more

قراقرم کا برف زار

راکاپوشی سے دیران کی چوٹی تک گلیشیئر کی ایک دیوار سی کھڑی ہے جسے ”آئس وال“ یا ”آئس وال آف راکاپوشی“ بھی کہا جاتا ہے۔ اب اگلے پانچ گھنٹوں تک ہمارا سفر اسی برف زار میں ہو گا۔ یہاں پہنچ کہ جب ہمیں ہوا کے تھپیڑوں نے ستایا تو ہم نے سامان سے اپنے اپنے گرم کپڑے برآمد کر لیے اور سفر شروع کیا۔ سورج کی وجہ سے برف اپنی جگہ جمی ہوئی تھی جو ہمارے لیے اچھی بات تھی

Read more

دمانی کے دامن میں (2)

ہپاکن سے تغافری ”تغافری“، راکاپوشی بیس کیمپ کا مقامی نام ہے جسے سن کے مجھے کوہ قاف کے کسی پہاڑی درے کا گمان ہوا۔ دور دراز کے علاقوں میں مقامی نام بھی کتنے منفرد، پیارے اور یادگار ہوتے ہیں ناں۔ ہپاکن سے تغافری کا ٹریک لگ بھگ دو سوا دو گھنٹوں کا ہے جس میں پہلے ایک شدید چڑھائی ہے، پھر کچھ ہموار و پتھریلا میدان ہے اور آخر میں درمیانے درجے کی ایک اور چڑھائی ہے۔ پورا ٹریک درختوں

Read more

دُمانی کے دامن میں

چند سال پہلے کی بات ہے۔ جب پنجاب کے ایک کونے میں صحرائی علاقے کے ایک شخص کی پہاڑوں سے محبت نے جوش مارا تو اس نے اپنے ملک میں موجود اپنی پسندیدہ پہاڑی چوٹیوں کو قریب سے دیکھنے کی ٹھانی کیونکہ انہیں سر کرنا شاید اس کے بس میں نہ تھا۔ قاتل حسینہ عرف مرشد یعنی ”نانگا پربت“ اس لسٹ میں پہلے استھان پہ براجمان تھے سو کسی تیرتھ یاترہ کی طرح کڑی تپسیا کے بعد اس تک پہنچا

Read more

ریاست بہاول پور کا شاہ جہاں، نواب صبح صادق خان عباسیؒ

جس خطے میں ریاست بہاولپور موجود تھی یہ علاقہ تاریخ کے آغاز سے ہی انسانی آمدورفت کا اہم راستہ رہا ہے۔ ریاست بہاول پور اس عظیم جغرافیائی و ثقافتی خطے کا اہم حصہ ہے جسے ہم وادی سندھ کی تہذیب کہتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں دفن تاریخ کے کئی قیمتی خزانے دریافت کر کہ اس خطے کے ہڑپہ و موہنجوداڑو سے ثقافتی و تہذیبی روابط کا کھوج لگایا ہے۔ آج اس خطے کا بیشتر حصہ صحرا پر مشتمل

Read more

وادیٔ سرن اور منڈہ گچھہ: پختونخوا کی ایک خوبصورت وادی کا تذکرہ

چترال کا ٹور کب سے لٹکا ہوا ہے سوچا اس بار عید پہ چلا جاؤں مگر شومئی قسمت کہ عید ڈیوٹی اور دیگر کچھ وجوہات کی بنا پہ نہ جا سکا۔ ڈیوٹی کو ایک ساتھی ڈاکٹر سے کروا کہ سکون کی سانس لی اور بچے کھچے تین چار دن کے لیے ایبٹ آباد اور ساتھ ٹھنڈیانی جانے کا سوچا۔ ایک دوست تاثیر ترین کو جب بتایا تو جناب نے ان الفاظ میں عزت افزائی فرمائی ”ٹھنڈیانی تو بچے جاتے ہیں

Read more

بلوچستان کا تاج محل۔ مقبرہ موتی گہرام

یوں تو مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بلوچستان کا نام سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، شرپسند کارروائیوں اور سرداروں کی بدولت آتا ہی رہتا ہے لیکن اب سوشل میڈیا کی وساطت سے شاذ و نادر یہاں کی سیاحت اور خوبصورت جگہوں کو بھی عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے خوبصورت پہاڑی سلسلوں، نیلگوں چشموں، ندی نالوں، سیب و چیری کے باغات اور برف زاروں سے تو آپ سب واقف ہوں گے لیکن یہ دھرتی تاریخ کا ایک

Read more

مرقد حضرت رحمان بابا اور پشاور کے دیگر مقامات

پشتو کے مشہور شاعر رحمان بابا پشاور کے ہزار خوانی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں جو ایک اندازے کے مطابق چارسدہ قبرستان کے بعد خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا قبرستان ہے۔ یہ کنشک سٹوپا کے پاس ہی واقع ہے۔ عبدالرحمان جنہیں عقیدت سے پشتون رحمان بابا کے نام سے یاد کرتے ہیں، پشتونوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صوفی شاعر ہیں۔ رحمان بابا 1650 (کچھ جگہ یہ 1632 بھی درج ہے ) کو پشاور کے علاقے بہادر کلے

Read more

پشاور – تاریخ اور حال پارٹ2 

یادگار چوک ؛ یہ چوک مسجد مہابت خان کے پاس ہی واقع ہے جہاں 1892 میں جنرل ہیسٹنگ کی یاد میں ایک یادگار بنائی گئی تھی جسے ہیسٹنگ میموریل کہا جاتا ہے۔ 1930 میں قصہ خوانی بازاز کے خونریز سانحے کے بعد یہ یادگار ان شہدا کے نام کر دی گئی۔ موجودہ دور میں یہ جگہ مذہبی و سیاسی اجتماعات کے لیے بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ کننگھم ٹاور ؛ پشاور کی کئی تاریخی عمارتیں اس کے ماضی کی شان و

Read more

پشاور – تاریخ اور حال

درہ خیبر کے مشرقی سَرے پر واقع برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک پشاور، وسط و جنوبی ایشیاء کی اہم اور قدیم ترین درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک پشاور، وسط و جنوبی ایشیاء کی اہم اور قدیم ترین گزرگاہوں پر آج بھی شان سے قائم و دائم ہے۔ موجودہ دور کا پشاور شہر کسی نسلی و ثقافتی عجائب گھر سے کم نہیں ہے جہاں اس وقت کئی مختلف زبانوں،

Read more

ریاست بہاولپور کی عظمت کا امین، دربار محل

دربار محل بہاولپور کے دربار کمپلیکس میں واقع ہے۔ اس کمپلیکس میں نواب آف بہاولپور کے تین محلوں (دربار، نشاط او فرخ) سمیت ایک بارہ دری، مسجد اور وسیع و عریض سرسبز لان واقع ہیں۔ تاریخ ؛ اس محل کی تعمیر ”نواب بہاول خان عباسی پنجم“ نے 1904 میں شروع کروائی تھی جو 1907 تک جاری رہی۔ اسی سال آپ کی وفات کے بعد اس محل کو منحوس خیال کرتے ہوئے اس کا بچا کھچا کام روک دیا گیا۔ اس

Read more

سادھو بیلا، پاکستان میں ہندوؤں کا اہم تیرتھ استھان

سکھر صوبہ سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ یوں تو اس شہر میں بہت سے تاریخی و مذہبی مقامات ہیں لیکن سندھو کے سینے میں ایک جزیرے پر ایستادہ سفید سنگ مرمر سے بنا سادھو بیلا، ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے۔ سکھر کے مقام پر سندھو میں کئی جزیرے ہیں جن میں سب سے بڑا اور مشہور بکھر ہے۔ اسی جزیرے کے جنوب میں سادھ بیلو جزیرہ ہے جس پر سادھو بیلا

Read more

سفر بلوچستان: مولا، جھل مگسی و بولان: تیسری قسط

کھانے سے فارغ ہو کہ سلیم بھائی کے ساتھ واپسی کے سفر پہ روانہ ہوئے جہاں راستے میں مختلف مقبروں کا دورہ بھی کرنا تھا۔ سب سے پہلے ہم ”میرالتاز خان“ کے مقبرے پر رکے جو بارشوں کے باعث کافی حد تک تباہ ہو چکا تھا۔ خان آف قلات میر التاز خان قمبرانی کا یہ مقبرہ لگ بھگ ساڑھے تین سو سال پرانا ہے جسے روایتی انداز میں تعمیر کیا گیا تھا۔ دو منزلہ مقبرے کے چاروں اطراف محرابیں ہیں

Read more

سفر بلوچستان: مولا، جھل مگسی و بولان – حصہ دوم

مولا، جھل مگسی و بولان اس جگہ کی وجہ شہرت یہاں کھجور کے درختوں کے بیچ واقع وہ خوبصورت تالاب ہے جس کے زمردی مائل پانی میں سنہری مچھلیاں (ڈمبرا) تیرتی پائی جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پانی دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگ بدلتا ہے۔ کبھی فیروزی تو کبھی سبز، کبھی زمردی تو کبھی نیلا مانو جیسے نیلم، زمرد، فیروزے و عقیق یہاں غسل کرنے آتے ہوں اور اس تالاب میں اپنے اپنے رنگ چھوڑ جاتے ہوں۔

Read more

سفر بلوچستان : حصہ اول

مولا، جھل مگسی و بولان دریا سے نکل کہ میں پتھروں پہ آ بیٹھا۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور خنکی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ پتھروں پہ بیٹھے بیٹھے پیاس محسوس ہوئی تو اچانک کسی نے جگ میں دریائے مولا کا پانی بھر کہ تھما دیا۔ میں پیاس کا مارا جگ کو منہ لگا کہ غٹک گیا اور دریائے مولا کے پانی نے بلوچستان کی پوشیدہ محبت کو چودہ برس بعد ، میرے روم روم میں جگا

Read more