ندی کا کنارہ


ہفتے اتوار، بلکہ ہفتے کے دوسرے دنوں میں بھی، خوبصورت ندی کے کنارے کنارے، واکنگ ٹریک پر، گہما گہمی رہتی ہے۔ نور بھی، روزانہ سورج ڈھلنے سے چند لمحے پہلے، سیر کے لئے وہاں آتا ہے۔ وہ اس ملک میں، اپنی تعلیم کے سلسلے میں آیا تھا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا ہے۔

پاکستان میں، نور کے والدین بہت غریب تھے انہوں نے نور کو، بڑی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم دلوائی تھی۔ نور اپنی اسکول کی تعلیم کا خرچہ، اپنے سے چھوٹی جماعتوں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر، پورا کرتا تھا۔ نور کے والدین کے لئے، میٹرک کے بعد ، کالج میں داخلہ دلوانا ناممکن تھا۔ لیکن نور، میٹرک کے امتحان میں تمام ضلعی اسکولوں میں اول آنے پر، اسکالر شپ ملنے کی وجہ سے، کالج میں تعلیم جاری رکھ سکا تھا۔ اپنی قابلیت اور استعداد کی وجہ سے تعلیمی منازل طے کرتے ہوئے، اس نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

لیکن شومئی قسمت، پاکستان میں ”پاوہ“ یعنی کسی بڑے آدمی کی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے، اپنے تعلیمی شعبے اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا تھا۔ آخرکار تنگ آ کر، اس نے ترک وطن کا فیصلہ کیا۔ سب سے بڑا مسئلہ، کسی بھی بیرون ملک میں جانے کے لئے ویزے کا حصول تھا۔ اس کا کوئی رشتے دار یا دوست، باہر کے ملکوں میں نہیں تھا۔ زندگی میں، ایک دفعہ پھر مایوسیوں کے بادل منڈلانے لگے۔ ہو سکتا تھا کہ وہ ہمت ہار جاتا۔

اچانک اسے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ ستر کی دہائی میں، پاکستانی مسلمانوں کے لئے مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں وہاں کے مقدس مقامات کی زیارتوں کے لئے، ضمانتی رقم جمع کرانے پر، پاکستانی پاسپورٹ بن جاتا تھا۔ نور نے ایران، عراق میں مقدس زیارتوں کے لئے، اپنا پاسپورٹ بنوایا۔ ان دنوں، پاکستانی باشندوں کے لئے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ نور ایک ساتھی کے ہمراہ بذریعہ خشکی، پاکستان سے براستہ ایران، عراق پہنچ گیا۔

عراق میں تیل کی دریافت اور مالدار ہونے کی وجہ سے، بہت سے پاکستانی، وہاں اپنی روزی روٹی کما رہے تھے۔ نور کو بھی ایک عراقی کمپنی کے دفتر میں ملازمت مل گئی لیکن وہ یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پرجوش اور کوشاں تھا۔ بالآخر عراق میں، ایک سال قیام کے بعد وہ دو پاکستانیوں کے ساتھ بذریعہ کار یورپ پہنچ گیا تھا۔

یورپ کے ایک ملک میں، سیلف میڈ کے مصداق، نور نے اعلیٰ تعلیم حاصل تو کی تھی لیکن ابھی ”عشق“ کے امتحانات اور بھی باقی تھے۔ اس ملک کے اس وقت کے، قانون کے مطابق، اگر کوئی پاکستانی یہاں تعلیم ختم کرتا تو اسے ”اپنے آبائی وطن کی خدمت کرنے کے لئے“ پاکستان واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ خوش قسمتی سے نور کو ایک مقامی کمپنی نے، اس کی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے، اپنے پاس ملازم رکھ لیا اور اس کے یہاں رہنے کے، سرکاری اجازت نامے کے لئے تگ و دو کی جو ایک نہایت مشکل کام تھا۔ نور یہ تنوع برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس نے ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کیا۔ اس کاروباری زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے، مشکلات، نفع نقصان وغیرہ وغیرہ، جن کا نور نے نہایت خوش اسلوبی اور صبر و تحمل سے سامنا کیا۔ نور نے، اپنے تئیں، پاکستان میں مستقل واپسی کی خواہش پر، دو مختلف نیم سرکاری اداروں میں ملازمت کے لئے انٹرویوز بھی دیے تھے لیکن پھر وہی پاکستانی ”معاشرت“ آڑے آئی تھی اور ”پاوہ“ نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کے ذمہ داران نے، حتی کہ، انٹرویوز کے نتائج یہاں، غیر ملک، بھیجنے کے زحمت بھی نہیں کی تھی۔

لیکن، نور نے صحیح معنوں میں اپنی زندگی کو جی لیا ہے اور وہ اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں کی زندگیاں دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے۔

نور اب ریٹائرمنٹ کی زندگی انجوائے کر رہا ہے۔ اور ندی کے کنارے روزانہ کی بنیاد پر سیر کرتا ہے۔

Facebook Comments HS